تعلیمی اداروں میں منشیات کی خرید و فروخت آن لائن، روک تھام پیچیدہ: کراچی پولیس

کراچی میں پولیس نے تعلیمی اداروں اور نوجوانوں تک منشیات کی رسائی روکنے کے لیے ایک جامع اینٹی ڈرگ پالیسی مرتب دی ہے۔

جنوبی زون پولیس نے یہ پالیسی جامعات، کالجوں اور سکولوں کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر مرتب دی ہے، جس میں آگاہی، والدین کی شمولیت، بروقت نشاندہی اور مشاورت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔

صوبہ سندھ اور خاص طور پر کراچی کے تعلیمی اداروں اور نوجوانوں تک منشیات کی رسائی ایک بار پھر اس وقت توجہ کا مرکز بنی جب جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں 15 جون کو تھانہ گارڈن میں درج منشیات کے مقدمے کا عبوری چالان پیش کیا گیا۔

اس چالان میں تفتیشی افسر نے دعویٰ کیا کہ مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اپنے مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے تعلیمی اداروں، پوش علاقوں اور نجی تقریبات میں مبینہ منشیات فروخت کرتی تھی۔

اگرچہ عدالت میں مقدمے کی سماعت جاری ہے اور الزامات ثابت ہونا باقی ہیں، تاہم اس مقدمے نے ایک مرتبہ پھر اس سوال کو نمایاں کر دیا ہے کہ نوجوانوں تک منشیات کی رسائی کیسے روکی جائے۔

اسی تناظر میں کراچی جنوبی پولیس نے تعلیمی اداروں کے لیے منشیات سے بچاؤ کی خصوصی پالیسی اور آگاہی مہم شروع کر رکھی ہے، جس کا محور طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پولیس کی نئی حکمت عملی کیا ہے؟

کراچی جنوبی پولیس کے مطابق گذشتہ چند برسوں میں منشیات کی خرید و فروخت کا طریقہ کار تبدیل ہوا ہے۔ اب روایتی نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور آن لائن رابطوں کے ذریعے بھی نوجوانوں تک رسائی کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے باعث صرف پولیس کارروائیاں کافی نہیں رہیں۔

اسی لیے جنوبی زون پولیس نے جامعات، کالجوں اور سکولوں کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایک جامع اینٹی ڈرگ پالیسی مرتب کی ہے، جس میں آگاہی، والدین کی شمولیت، بروقت نشاندہی اور مشاورت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔

’منشیات کے خلاف جنگ صرف گرفتاریاں نہیں‘

ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی کوشش منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے تعلیمی اداروں میں آگاہی سیمینارز، معلوماتی سیشنز اور مختلف سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے تاکہ طلبہ، والدین اور اساتذہ کو منشیات کے نقصانات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکے۔‘

ان کے مطابق اس مہم میں پولیس تعلیمی اداروں کی انتظامیہ، ماہرینِ نفسیات، اساتذہ اور والدین کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی طالب علم میں غیر معمولی رویے یا منشیات کے استعمال کی ابتدائی علامات سامنے آئیں تو بروقت رہنمائی اور مدد فراہم کی جا سکے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسد رضا کہتے ہیں کہ پولیس نے تعلیمی اداروں کو یہ تجویز بھی دی کہ داخلے کے وقت والدین سے رضامندی حاصل کی جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر ان کی اجازت سے طالب علم کا ڈرگ ٹیسٹ کرایا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’اس کا مقصد کسی طالب علم کو مجرم بنانا نہیں بلکہ بروقت تشخیص اور بحالی ہے، جبکہ تمام معلومات مکمل طور پر خفیہ رکھی جائیں گی۔‘

’کیمپس کے اندر نہیں، باہر خطرہ زیادہ ہے‘

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گذشتہ دو سے تین برس کے دوران جنوبی زون میں ایسا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا جس میں کسی طالب علم کے قبضے سے تعلیمی ادارے کے اندر منشیات برآمد ہوئی ہوں یا کوئی منشیات فروش کیمپس کے اندر سرگرم پایا گیا ہو۔

تاہم ان کے مطابق خطرہ تعلیمی اداروں کے اطراف موجود علاقوں میں زیادہ ہے۔

’بعض سٹریٹ پیڈلرز کینٹینوں، سگریٹ فروش دکانوں اور دیگر مقامات کے ذریعے نوجوانوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ اب منشیات کی خرید و فروخت کا بڑا حصہ آن لائن منتقل ہو چکا ہے، جس سے اس کی روک تھام مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔‘

ان کے مطابق جنوبی ضلع میں پہلے سے قائم کیمپس سکیورٹی اینڈ سبسٹنس ابیوز واچ ٹیم بھی تعلیمی اداروں کے اطراف نگرانی کر رہی ہے، جبکہ پولیس باقاعدگی سے مختلف تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگرام منعقد کر رہی ہے۔

تعلیمی اداروں کا کردار

پولیس کی تیار کردہ پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں میں اینٹی ڈرگ کمیٹیاں قائم کرنے، باقاعدگی سے سیمینارز منعقد کرنے اور والدین و اساتذہ کے درمیان رابطے مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

پالیسی کے مطابق اگر کسی طالب علم کے رویے، حاضری یا تعلیمی کارکردگی میں غیر معمولی تبدیلی نظر آئے تو اسے سزا دینے کے بجائے پہلے کونسلنگ اور مناسب رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ مسئلہ ابتدائی مرحلے میں ہی حل کیا جا سکے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، والدین اور معاشرے کو بھی مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔

ڈرگ ٹیسٹنگ پر حکومت کا مؤقف

سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے 27 جون کو سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کے ڈرگ ٹیسٹ لازمی کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ڈرگ ٹیسٹنگ کو سزا نہیں بلکہ صحت اور تحفظ سے متعلق اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جبکہ اس مقصد کے لیے سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیشن اینڈ کنٹرول آرڈیننس 2001 اور متعلقہ قواعد میں ترامیم بھی کی گئی ہیں۔

وزیر داخلہ کے مطابق اقوام متحدہ کے 1990 کے کنونشن اور پاکستان کے آئین کے تحت بچوں کو منشیات سے محفوظ رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ 14 سے 18 سال کی عمر کے نوجوان منشیات فروشوں کا سب سے بڑا ہدف بن رہے ہیں، اس لیے نئی نسل کو اس لعنت سے بچانے کے لیے تعلیمی اداروں میں ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *