فلسطینی شہری کے زیر تعمیر گھر پر اسرائیلی آباد کاروں نے قبضہ کر لیا

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہری محمد سلامہ اپنے خاندان کے لیے ایک گھر تعمیر کر رہے تھے، جہاں ان کے حال ہی میں منگنی کرنے والے بیٹے نے شادی کے بعد اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنا تھا۔

 تاہم گھر کی تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی اسرائیلی آبادکاروں کے ایک گروہ نے اس پر قبضہ کر لیا۔

ہفتے کے آغاز میں بنائی گئی اور روئٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں کم از کم چھ آبادکار دو منزلہ گھر کی چھت پر موجود دکھائی دیتے ہیں۔ یہ گھر ایک قریبی پہاڑی کے نیچے واقع ہے۔

محمد سلامہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فوج اور پولیس سے رجوع کیا، لیکن انہیں کوئی مدد نہیں ملی۔ اب انہیں خدشہ ہے کہ ان کا گھر، جو فلسطینی علاقے میں واقع دیگر گھروں کی طرح اسرائیلی بستیوں اور چھوٹی چوکیوں سے گھرا ہوا ہے، ہمیشہ کے لیے ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔

 ان کے مطابق علاقے کے دیگر گھروں کو بھی اسی قسم کے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

محمد سلامہ نے کہا کہ ’صرف خدا ہی جانتا ہے، اگر قانون اور نظم موجود ہے تو وہ یہاں سے چلے جائیں گے۔ اگر وہ ایک گھر لینے میں کامیاب ہو گئے تو باقی بھی ان کے پیچھے جائیں گے۔‘

روئٹرز آبادکاروں سے مؤقف حاصل نہیں کر سکا۔

جمعرات کو ان میں سے ایک شخص کو گھر کی چھت پر چلتے ہوئے دیکھا گیا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسے اس ہفتے کے آغاز میں گھر کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی تھی اور ’فوجی موقع پر پہنچے اور فوری طور پر اجتماع کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی۔‘

 تاہم فوج نے گھر میں آبادکاروں کی مسلسل موجودگی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں سے متعلق قانونی معاملات اسرائیلی پولیس کی ذمہ داری ہیں، لیکن پولیس نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مغربی کنارے میں آبادکاروں کے ذریعے فلسطینی زمینوں پر قبضہ ایک طویل عرصے سے جاری مسئلہ ہے۔

اس علاقے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں کے درمیان لگ بھگ پانچ لاکھ اسرائیلی آباد ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 فلسطینی شہری اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے برسوں سے زرعی زمینوں کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ اور بستیوں کی توسیع سے منسلک حملوں کی شکایات کرتے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک تحقیق کے مطابق 2023 کے بعد سے فلسطینی دیہات اور زرعی اراضی پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں 130 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سلامہ کے گاؤں جالود کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس ہفتے پیش آنے والا واقعہ ایک نئی تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس بار زیرِ تعمیر گھر پر قبضہ کیا گیا ہے۔

گاؤں کی کونسل کے سربراہ رائد الحاج محمد کے مطابق آبادکار اب جالود کے آخری گھر سے سو میٹر سے بھی کم فاصلے تک پہنچ چکے ہیں اور وہ گھر بھی زیرِ تعمیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جالود اب تک آبادکاروں کے پانچ بڑے حملوں کا سامنا کر چکا ہے، جن میں گھروں کو آگ لگانا، گاڑیوں کو نقصان پہنچانا اور درخت اکھاڑنا شامل ہے۔

محمد سلامہ کے لیے یہ معاملہ ذاتی طور پر انتہائی تکلیف دہ ہے۔ 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت شروع ہونے کے بعد گھر کی تعمیر رک گئی تھی کیونکہ ان کا بیٹا روزگار حاصل نہیں کر سکا تھا اور خاندان کو مالی مشکلات کا سامنا تھا۔

محمد سلامہ کے مطابق ’قریب ہی ایک پڑوسی نے دو منزلہ گھر تعمیر کیا ہے، اگر ہم اپنا یہ گھر کھو دیتے ہیں تو غالب امکان ہے کہ وہ اس کا بھی قبضہ کر لیں گے۔ اگر ہمارا گھر گیا تو ان کا گھر بھی چلا جائے گا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *