کالام کشتی حادثہ: ملاح لاپتہ، خراب انجن والی کشتی کا مقدمہ درج

کالام کشتی حادثے کی ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ حادثہ پانی کے تیز بہاؤ والی جگہ پر کشتی کے جانے اور الٹنے کی وجہ سے پیش آیا جب کہ ایف آئی آر میں ’بند انجن والی کشتی‘ اور ’ڈرائیور (ملاح) کی غفلت‘ کو بنیاد بنایا گیا ہے، ریسکیو 1122 کے مطابق ملاح تاحال لاپتہ ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے سیاحتی مقام کالام میں بدھ کو سیف اللہ جھیل میں کشتی رانی کے دوران پیش آنے والے حادثے میں بچوں اور خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے چھ افراد جان سے گئے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان نیاز خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کشتی الٹنے کی وجہ سے حادثے میں لاہور کے جوہر ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی موت واقع ہوئی ہے۔

اپر سوات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان سعیدالرحمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جس جھیل میں یہ واقعہ پیش آیا، وہ نسبتاً چھوٹی ہے لیکن اس کی گہرائی زیادہ ہے۔

تاہم سعیدالرحمان کے مطابق اگر جھیل کے سرکل سے باہر نکل جائیں تو پانی کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے، جہاں کشتی کو قابو میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

سعیدالرحمان نے بتایا کہ بعض اوقات کشتی آپریٹر پیٹرول کی بچت کے لیے درمیان میں انجن بند کر دیتا ہے اور بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ انجن بند کرنے کے بعد دوبارہ سٹارٹ نہیں ہوا، جس کے باعث کشتی تیز بہاؤ کی طرف چلی گئی۔

انہوں نے بتایا: ’ابتدائی تفتیش میں یہی سامنے آیا ہے کہ کشتی جھیل کے سرکل سے نکل کر تیز پانی کے بہاؤ کی طرف گئی، جہاں وہ الٹ گئی اور یہ حادثہ پیش آیا، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے، جس کی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی جائے گی۔‘

انہوں نے بتایا کہ فی الحال جھیل میں کشتی رانی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور مقامی افراد کے ساتھ اس سلسلے میں جرگے بھی جاری ہیں تاکہ کشتیوں میں حفاظتی تدابیر یقینی بنائی جا سکیں۔

پولیس حکام کے مطابق مرنے والوں میں پاکستان نیوی کے ریٹائرڈ لیفٹننٹ کموڈور محمد عامر، ان کی دو بیٹیاں، ایک بیٹا، ایک نواسہ اور ایک نواسی شامل ہیں۔

اس واقعے کا مقدمہ تھانہ کالام میں مرنے والوں میں شامل پاکستان نیوی کے ریٹائرڈ لیفٹننٹ کموڈور محمد عامر کے بھتیجے کنعان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے چچا اپنے خاندان کے ساتھ سیر و تفریح کی غرض سے کالام گئے ہوئے تھے۔

کنعان نے بتایا ہے کہ کالام کے نیوی ریسٹ ہاؤس جالکنڈ میں رات گزارنے کے بعد ان کے چچا خاندان سمیت جھیل سیف اللہ چلے گئے، لیکن شام کے وقت مجھے اطلاع ملی کہ چچا کو جھیل میں حادثہ پیش آیا ہے۔

مقدمے کے مطابق: ’کشتی کے ڈرائیور لیاقت علی نے بند انجن کے باوجود میرے رشتہ داروں کو کشتی میں سوار کیا، لیکن کشتی کا انجن سٹارٹ نہیں ہو رہا تھا اور اسی دوران ڈرائیور کی غفلت سے کشتی الٹ گئی، جس سے یہ حادثہ پیش آیا۔‘

ریسکیو 1122 کے ترجمان نیاز خان کا کہنا ہے کہ ’کشتی کا ملاح بھی غائب ہے تاکہ اس سے سیاحوں کی تعداد معلوم کی جا سکے، جبکہ 17 سالہ لاپتہ لڑکی کی تلاش دوسرے روز بھی جاری ہے اور اس آپریشن میں ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ کہ کشتی میں سوار افراد کی تعداد کے بارے میں ابھی مصدقہ معلومات نہیں ہیں، تاہم مقامی لوگوں کے مطابق چھ افراد کے علاوہ ایک 17 سالہ لڑکی بھی لاپتہ ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔

امجد علی سحاب سوات کے مقامی صحافی ہیں اور سوات کے سیاحتی مقامات پر مسلسل مضامین لکھتے ہیں۔

امجد علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کالام میں ایک مشہور مہوڈنڈ جھیل ہے اور اس سے تقریباً پانچ منٹ کی مسافت پر سیف اللہ جھیل واقع ہے، جبکہ آگے جا کر تیسری جھیل پنغالی کے نام سے موجود ہے۔

انہوں نے کہا: ’زیادہ تر سیاح مہوڈنڈ جھیل پہنچ کر ہی وہاں وقت گزارتے ہیں اور ان دونوں جھیلوں میں مقامی سطح پر بنائی گئی کشتیاں ہوتی ہیں، جن میں آٹھ سے 10 افراد کی گنجائش ہوتی ہے۔‘

جھیل سیف اللہ کے بارے میں امجد علی نے بتایا کہ اس جھیل کا پانی نہایت ٹھنڈا ہوتا ہے، اتنا ٹھنڈا کہ اس میں ہاتھ بھی نہیں دھویا جا سکتا۔ ایسے میں اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو تیراکی کرنا یا ہاتھ پاؤں مارنا بھی شدید ٹھنڈ کی وجہ سے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’جھیل کے آس پاس ریسکیو کا کسی قسم کا بندوبست موجود نہیں ہے، جبکہ جو کشتیاں ہیں، ان کے سیفٹی پروٹوکول کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ گذشتہ سال بھی مہوڈنڈ جھیل میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *