اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: پاکستان

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے پیر کو واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک سے دو ماہ کے دوران سندھ طاس معاہدے کو بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھایا گیا ہے اور پاکستان آئندہ عالمی کانفرنس میں بھی اس معاملے کو بھرپور طریقے سے پیش کرے گا۔

ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 40 سے 50 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے جبکہ قومی معیشت کا 20 سے 25 فیصد حصہ بھی اسی شعبے سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی سو فیصد غذائی ضروریات کا دارومدار زرعی پیداوار پر ہے، جو براہ راست پانی سے جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کے پانی پر کوئی قدغن لگائی گئی تو اس کے اثرات معیشت، روزگار اور فوڈ سکیورٹی پر براہ راست مرتب ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ صرف اپنے موقف کا اعلان کر چکا ہے بلکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں دو مرتبہ عملی طور پر اپنے قومی مفادات کے دفاع کی صلاحیت بھی ثابت کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے ان تمام ممالک کا ہے جو دریاؤں کے زیریں حصوں میں واقع ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عالمی برادری یہ اصول تسلیم کرے گی کہ بالائی ممالک زیریں علاقوں کا پانی روک سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہوا تو اربوں افراد کے بنیادی حقوق خطرے میں پڑ جائیں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ برسلز ملاقاتوں میں بھی پاکستان نے یہی موقف پیش کیا ہے اور آئندہ بین الاقوامی کانفرنس میں انڈس واٹر ٹریٹی، بین الاقوامی قوانین اور زیریں ممالک کے حقوق کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر دریاؤں پر پانی کی تقسیم کسی معاہدے کے بجائے بین الاقوامی اصولوں کے تحت ہوتی ہے، اور بہتے پانی کو روکنا فطرت کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق یہ کانفرنس دراصل انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ایک اہم آزمائش ہوگی۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ جس طرح دنیا نسل کشی کو قبول نہیں کر سکتی، اسی طرح کسی قوم کو پانی جیسے بنیادی حق سے محروم کرنا بھی ناقابل قبول ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس معاملے کو مختلف عالمی فورمز پر اٹھا چکا ہے اور اب تک اس موقف کا کوئی مؤثر جواب سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے بتایا کہ کل (منگل کو) اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر ایک کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جہاں اس معاملے کے قانونی، تکنیکی اور بین الاقوامی پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *