عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ 21 جون سے یورپ کے بیشتر حصے کو جھلسا دینے والی ہیٹ ویو کے باعث 1300 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
یورپ میں کروڑوں افراد نے انتہائی درجہ حرارت والے ویک اینڈ کا سامنا کیا جب کہ جان لیوا ہیٹ ویو مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے ساتھ ہی کچھ ممالک اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد کا اعلان کر رہے ہیں اور صحت کے ادارے گنجائش ختم ہونے کا انتباہ کر رہے ہیں۔
اتوار کی صبح فرانسیسی محکمہ صحت کے حکام نے کہا کہ ملک میں صرف بدھ سے تقریباً 1000 زائد اموات ہوئی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریاسس نے ایکس پوسٹ میں کہا کہ پورے یورپ میں ’21 جون سے یورپ میں زیادہ درجہ حرارت کے باعث 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’گرمی کی شدت کو اکثر ’خاموش قاتل‘ کہا جاتا ہے اور یورپی گھر، دفاتر اور سکول اتنے درجہ حرارت کے لیے نہیں بنائے گئے تھے۔‘
اے ایف پی کے اندازوں کے مطابق اتوار کو یورپ میں کم از کم 19 کروڑ 10 لاکھ افراد کو کم از کم 35 درجے سیلسیئس درجہ حرارت کا سامنا کرنے کی پیش گوئی کی گئی جب کہ جرمنی، جمہوریہ چیک، ہنگری اور پولینڈ میں گرمی کی شدت خاصی زیادہ ہوگی۔
جرمن محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں اور جوائنٹ ریسرچ سینٹر کے 2025 کی آبادی کے تخمینوں پر مبنی، آسٹرین این جی او کلائما ڈیش بورڈ کی جانب سے مرتب کیے گئے تجزیے کے مطابق، ترکی کے علاوہ یورپ میں مجموعی طور پر 38 کروڑ 10 لاکھ افراد کو 30 درجے سے زائد درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹیڈروس نے خبردار کیا کہ اس وقت پورے براعظم میں کروڑوں افراد ’شدید گرمی میں زندگی گزار رہے ہیں، سینکڑوں جان گنوا چکے ہیں، سکول بند ہیں، اور بجلی کا نظام جواب دے رہا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا، ’موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے باعث ’ایک نسل میں ایک بار‘ آنے والی ہیٹ ویو کا واقعہ اب تقریباً ہر سال پیش آ رہا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یورپ زمین پر سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے، جو عالمی اوسط سے دوگنا تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔‘
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کا صحت کا ادارہ ’تیاری، بچاؤ اور صحت کے نظام کے مضبوط ردعمل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے شدید گرمی سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے رکن ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔‘
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر صحت کے تحفظ کی کوششوں کے حصے کے طور پر، یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ ’گرمی سے صحت کے تحفظ کے عملی منصوبوں کو عملی شکل دیں۔‘
