پاکستان کی افغانستان کے سرحدی علاقوں میں زمینی کارروائی 29 عسکریت پسند مارے گئے: عطا تارڑ

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے پاکستان افغان سرحد کے ساتھ آپریشن میں 29 عسکریت پسند مارے گئے۔ 

اتوار کو رات دیر گئے ایک ایکس پوسٹ میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’پاکستان میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بے گناہ عوام اور کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کیمپ کے خلاف دہشت گردی کے حالیہ متعدد واقعات کے بعد، سکیورٹی فورسز نے پاکستان افغان سرحد کے ساتھ خفیہ معلومات کی بنیاد پر انتہائی منظم زمینی کارروائی کی۔

پاکستان کے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہفتے کی رات کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں عسکریت پسندوں نے پاکستان رینجرز سندھ کے ایک مقامی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا، جس میں  تین سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ اس سے قبل بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی عسکریت پسندوں نے حملے کیے۔

انہوں نے کہا کہ ’سرحدی علاقے میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف نپے تلے حملے کیے گئے، جن میں 29 خوارج مارے گئے۔‘

’فتنہ الخوارج‘ وہ اصطلاح ہے جو حکومت کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر ریاست مخالف عسکریت پسندوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کی وجہ سے گذشتہ سال 13 اکتوبر کو طورخم، چمن سمیت تمام بارڈرز بند کر دیے گئے تھے اور اب صرف پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کو واپس افغانستان جانے کی اجازت ہے۔ 

پاکستان کی طرف سے حالیہ کارروائی پر افغانستان کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ 

عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ 28 جون 2026 کو سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاکستان افغان سرحد کے قریب عسکریت پسندوں کے ایک گروہ کے خلاف خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائی کی۔

انہوں نے کہا کہ ’درست اور ماہرانہ کارروائی کے نتیجے میں، انڈیا کی آلہ کار جماعت الاحرار سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گردوں سمیت انتہائی اہم خوارجی کمانڈر خان فروش عرف زابل مارا گیا جب کہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن غضب للحق کے تسلسل میں، مصدقہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر، 28 اور 29 جون کی درمیانی رات پاکستان افغان سرحد کے سرحدی علاقے میں ’جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو بھی درست نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نپے تلے حملوں کے دوران پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف تباہ کیے گئے جن میں 25 دہشت گرد مارے گئے۔ ان مراکز اور ٹھکانوں پر ذخیرہ کیا گیا بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔ 

وزیر اطلاعات کے مطابق: ’پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ کوشش کی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے شہریوں کی حفاظت اور سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، جو ہماری اولین ترجیح ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *