انڈین حکومت نے مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ چار روزہ جنگ کے دوران جان سے جانے والے چھ فوجی اہلکاروں کے نام پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر جاری کر دیے ہیں۔
انڈین ویب سائٹ دی ہندو نے رپورٹ کیا ہے ان اہلکاروں کے نام نئی دہلی میں قائم نیشنل وار میموریل پر سنہ 2025 کے ’رول آف آنر‘ میں کندہ کر دیے گئے ہیں جبکہ انہیں یاد گار کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی شامل کیا گیا ہے۔
انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ آپریشن ’سندور‘ میں جان گنوانے والے اہلکاروں میں ہیڈکوارٹر 10 انفنٹری بریگیڈ کے صوبیدار میجر پون کمار، فور جموں و کشمیر لائٹ انفنٹری کے رائفل مین سنیل کمار، فائیو فیلڈ رجمنٹ کے لانس نائیک دنیش کمار، 851 لائٹ رجمنٹ کے ایوی ایشن ٹیکنیشن موڈ مورالی نائک، 237 فیلڈ ورکشاپ کمپنی کے حوالدار سنیل کمار سنگھ اور 39 ونگ کے سارجنٹ سریندر کمار شامل ہیں۔
گذشتہ سال مئی میں انڈیا کے حملے کے جواب میں پاکستان فوج نے اپنے آپریشن کو ’معرکہ حق‘ اور ’آپریشن بنیان المرصوص‘ کا نام دیا۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان شدید کشیدگی اپریل 2025 میں اس وقت شروع ہوئی جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر ایک مہلک حملے کا الزام نئی دہلی نے بغیر ثبوت کے اسلام آباد پر لگایا گیا تھا، جب کہ پاکستان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم انڈیا نے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ پنجاب کے کئی علاقوں میں حملے کرنا شروع کر دیے۔
انڈیا نے اس کارروئی کو آپریشن سندور کا نام دیا تھا۔ انڈیا کی اس کارروائی میں پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں درجنوں اموات ہوئی تھیں۔
جس کے جواب میں پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے نام سے کارروائی کرتے ہوئے انڈین ایئربیسز، انڈیا کے جنگی طیاروں سمیت ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا تھا۔
پاکستان کی جانب سے ابتدا میں رفال سمیت انڈیا کے سات طیارے گرائے جانے کا بیان سامنے آیا تھا تاہم بنیان المرصوص کے ایک سال مکمل ہونے پر جاری تفصیلات میں یہ تعداد آٹھ بتائی گئی ہے۔
