آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اقوام متحدہ نے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے جاری اپنے سکارٹ آپریشن کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایک تجارتی جہاز پر حملے کی اطلاع ملی جس نے نہ صرف سمندری سلامتی بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک نئے بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سیکرٹری جنرل ارسنيو ڈومینگیز نے کہا کہ سکارٹ مشن کو اس وقت تک روکا گیا ہے جب تک خطے میں جہاز رانی کے لیے مکمل سکیورٹی ضمانتوں کی دوبارہ تصدیق نہیں ہو جاتی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تائیوان کی شپنگ کمپنی ایورگرین میرین نے تصدیق کی کہ اس کا سنگاپور کے پرچم بردار جہاز ’ایور لوولی‘ عمان کے قریب ایک ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ سے ٹکرا کر متاثر ہوا۔
IMO pauses evacuation plan.
“I have been informed of an attack today in the Gulf of Oman. Seafarer safety remains paramount. To ensure coordinated approach & navigational safety, the IMO evacuation plan will be paused until further clarity.”
– @IMOSecGenhttps://t.co/UtvKjTtG5N pic.twitter.com/29m2lMkt1V— International Maritime Organization (@IMOHQ) June 25, 2026
کمپنی کے مطابق جہاز کے دائیں حصے کو نقصان پہنچا، تاہم عملہ اور کارگو محفوظ رہے اور جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ ممکنہ طور پر ڈرون کے ذریعے کیا گیا۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے بھی اس سے قبل ایک جہاز پر پروجیکٹائل حملے کی اطلاع دی تھی، جو ایران کی جانب سے غیر منظور شدہ سمندری راستوں کے استعمال کے خلاف انتباہ کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دو امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں ایران ملوث ہو سکتا ہے، تاہم تہران نے اس حوالے سے براہ راست ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ایران کے زیر انتظام آبنائے ہرمز اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ صرف اس کے مقرر کردہ راستوں پر چلنے والے جہازوں کو سکیورٹی کی ضمانت حاصل ہوگی۔ اتھارٹی کے مطابق غیر مجاز راستوں سے گزرنے کی صورت میں کسی بھی نقصان کی ذمہ داری جہاز کے مالک اور آپریٹر پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق معاہدے کی پاسداری نہ کی تو امریکہ دوبارہ تہران کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا یہ سکارٹ مشن ان سینکڑوں تجارتی جہازوں اور ہزاروں بحری کارکنوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا جو 28 فروری سے جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تھے۔ تاہم حالیہ حملے کے بعد اس آپریشن کی معطلی نے عالمی تجارتی راستوں کی سکیورٹی اور خطے کے مستقبل سے متعلق نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
