ایرانی صدر کا دورہ پاکستان آج، گیس پائپ لائن منصوبے پر کیا پیش رفت ممکن؟

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اپنے اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ آج پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور علاقائی صورت حال سمیت اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے ایک بیان میں بتایا کہ ایرانی صدر یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ بیان کے مطابق مسعود پزشکیان کے ہمراہ وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہو گا۔

دورے کے دوران وہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات اور وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ ایران کے صدر کی حیثیت سے مسعود پزشکیان کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہو گا۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب رواں ہفتے ہی سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد کشیدگی میں کمی، علاقائی سلامتی اور جوہری پروگرام سمیت دیگر متنازع امور پر پیش رفت حاصل کرنا ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔

ایرانی صدر کے دورہ اسلام آباد کے سلسلے میں پاکستانی عوام اور حکومت دونوں کی سب سے زیادہ توجہ دہائیوں سے تعطل کے شکار پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر مرکوز ہے۔ یہ منصوبہ جو کبھی ’امن پائپ لائن‘ کہلایا اور آج بھی پاکستان کی توانائی کی ضروریات کے تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ سوال اب ایک بار پھر زیر بحث ہے کہ کیا ایرانی صدر کے اس دورے کے دوران اس منصوبے کو عملی شکل دینے کی راہ ہموار ہو سکے گی یا نہیں۔ اس سلسلے میں امریکہ ایران معاہدے میں ایران پر سے اقتصادی پابندیاں بھی اگر فوراً ختم نہیں تو کم کیے جانے کا امکان ہے۔ ایسے میں تجزیہ کار پرامید ہیں۔

امریکہ میں مقیم سیاسی اور سکیورٹی ماہر شجاع نواز نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ بحال ہو جائے گا۔ ’ایران اور پاکستان میں تناؤ تھا اور ایران دبے الفاظ میں تاخیر کی وجہ سے تاوان کی بات بھی کر رہا تھا۔ یہ بڑا فائدہ ہوگا۔‘

ایک ادھورا خواب

پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبہ 1990 کی دہائی میں ایک علاقائی توانائی منصوبے کے طور پر سامنے آیا تھا، جس کا مقصد ایران کے وسیع گیس ذخائر کو پاکستان اور ممکنہ طور پر انڈیا تک پہنچانا تھا۔ بعد ازاں انڈیا اس منصوبے سے الگ ہو گیا اور یہ ایران اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ منصوبہ بن کر رہ گیا۔

یہ منصوبہ تقریباً 2,700 کلومیٹر طویل ہے اور ایران کے ساؤتھ پارس فیلڈ سے پاکستان تک گیس کی فراہمی کے لیے ڈیزائن کیا گیا۔ ایران اپنی حدود میں پائپ لائن کا بڑا حصہ مکمل کر چکا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے اب تک تعمیر کا آغاز نہیں ہو سکا۔

یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس نے اس منصوبے کو گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک التوا کا شکار رکھا۔

رکاوٹیں: پابندیاں، معیشت اور سیاست

اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں رہی ہیں۔ ان ہی پابندیوں کے باعث پاکستان کو بارہا اس منصوبے سے پیچھے ہٹنا پڑا اور حتیٰ کہ 2026 کے اوائل میں حکومت نے اسے ختم کرنے یا عدالت سے باہر تصفیے کے ذریعے معاملہ نمٹانے پر بھی غور کیا۔

پاکستان کو یہ خدشہ لاحق رہا ہے کہ اگر وہ اس منصوبے پر پیش رفت کرتا ہے تو اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے معیشت پر مزید دباؤ پڑے گا۔

اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کی ماضی میں مخالفت رہی ہے۔ واشنگٹن پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن کو ایران کے توانائی شعبے سے منسلک ایک ایسا منصوبہ سمجھتا تھا جو امریکی پابندیوں کے دائرے میں آ سکتا تھا۔ امریکی حکام ماضی میں اسلام آباد کو خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں کاروباری معاملات پاکستان کو پابندیوں کے خطرے سے دوچار کر سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان، اگرچہ توانائی کی ضروریات کے باعث اس منصوبے میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن امریکی پابندیوں، ممکنہ مالی جرمانوں اور بین الاقوامی مالیاتی دباؤ کے باعث فیصلہ کن قدم اٹھانے سے گریزاں رہا ہے۔ ایسے میں یہ ایک بظاہر سادہ توانائی منصوبہ عالمی سیاست کا حصہ بن گیا ہے۔

سفارتی حلقے توقع کر رہے ہیں کہ ایرانی صدر کے دورۂ اسلام آباد کے دوران اگر اس منصوبے پر بات ہوتی بھی ہے تو کسی فوری ’گرین سگنل‘ کی بجائے زیادہ امکان یہی ہے کہ دونوں فریق اسے تکنیکی مذاکرات یا کسی مرحلہ وار مشاورت کے دائرے میں رکھیں گے۔

بدلتا ہوا تناظر: نئی امیدیں

تاہم حالیہ مہینوں میں کچھ ایسی پیش رفت ہوئی ہے، جس نے اس منصوبے کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ جون 2026 میں رپورٹس سامنے آئیں کہ پاکستان پائپ لائن کے اپنے حصے پر تعمیر دوبارہ شروع کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، تاکہ شدید توانائی بحران پر قابو پایا جا سکے۔

اسی طرح ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی روابط میں اس منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق بھی سامنے آیا ہے اور فریقین مرحلہ وار عمل درآمد کی جانب بڑھنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

مزید برآں، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات نے بھی امید پیدا کی ہے کہ اگر پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو یہ منصوبہ دوبارہ قابل عمل ہو سکتا ہے۔

توانائی کی ضرورت: پاکستان کا نقطۂ نظر

پاکستان کو اس وقت شدید توانائی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں گیس کی قلت، مہنگی درآمدات اور توانائی کے شعبے میں بڑھتا ہوا گردشی قرضہ شامل ہیں۔ اندازوں کے مطابق ملک کو سالانہ گیس کی نمایاں کمی کا سامنا ہے، جس سے صنعت اور بجلی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔

 وزارتِ خزانہ کا بنیادی فوکس پاکستان کو بین الاقوامی ثالثی عدالت میں متوقع 18 ارب ڈالر کے بھاری جرمانے سے بچانا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق ملکی معیشت اس وقت کسی بھی قسم کے بڑے مالیاتی جھٹکے یا جرمانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

خزانہ اور پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کا مشترکہ موقف ہے کہ پاکستان امریکی پابندیوں کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ اس لیے، واشنگٹن سے ’سینکشنز ویوور‘ (پابندیوں سے استثنیٰ) کے حصول کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موجودہ دورے کے دوران دونوں وزارتوں کی مشاورت سے پاکستان نے ایران کو پائپ لائن کی مدت میں توسیع (ڈیڈ لائن بڑھانے) اور گیس کی قیمتوں اور حجم پر نظرثانی کی تجاویز دی ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایک ایسا ’بیچ کا راستہ‘ نکالا جائے جس سے ایران کے ساتھ قانونی تنازع بھی ختم ہو جائے اور ملکی معیشت عالمی پابندیوں کی زد میں آنے سے بھی محفوظ رہے۔

ایسی صورت حال میں ایران سے سستی اور مستقل گیس کی فراہمی ایک پرکشش آپشن کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے سالانہ اربوں مکعب میٹر گیس حاصل کی جا سکتی ہے، جو صنعت، بجلی اور گھریلو شعبے کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتی ہے۔

مزید یہ کہ سمندری راستوں پر انحصار کم کر کے زمینی راستے سے گیس حاصل کرنا توانائی کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خلیج کے سمندری راستے جغرافیائی کشیدگی کا شکار ہوں۔

ایران کے لیے بھی یہ منصوبہ نہایت اہم ہے۔ دنیا کے بڑے گیس ذخائر رکھنے کے باوجود ایران کو اپنی گیس برآمد کرنے کے لیے محدود مواقع میسر ہیں، جن میں پاکستان ایک اہم منڈی ثابت ہوسکتی ہے۔

اس پائپ لائن کے ذریعے ایران نہ صرف اپنی توانائی برآمد کر سکتا ہے بلکہ خطے میں اپنے اقتصادی اثر و رسوخ کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

کیا فیصلہ کن پیش رفت ممکن ہے؟

پاکستانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی صدر کے دورے کے دوران توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات چیت ہوگی، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ گیس پائپ لائن بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہوگی۔

پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن ایک ایسا منصوبہ ہے جو امکانات اور رکاوٹوں کے درمیان معلق رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات اور ایران کی برآمدی خواہشات اسے ناگزیر بناتی ہیں، جبکہ دوسری جانب عالمی سیاست اور اقتصادی دباؤ اسے پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

وزارتِ توانائی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے اس منصوبے کو انتہائی اہم سمجھتا ہے اور اس کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *