پاکستانی جہاں بھی ہوں اپنی پہچان ضرور بناتے ہیں۔ کینیڈا میں مقیم خالد عثمان کا گذشتہ دنوں انتقال مارکھم اور پورے کینیڈین مسلم معاشرے میں اسی قسم کا ایک گہرا خلا چھوڑ گیا ہے۔
ایک نمایاں شہری رہنما، مخلص رضاکار، اور نہایت معزز فیلو چارٹرڈ پروفیشنل اکاؤنٹنٹ کے طور پر، عثمان نے دہائیوں تک پل تعمیر کیے، نئے آنے والوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، اور بین الثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔
خالد عثمان کی زندگی یاد دلاتی ہے کہ حقیقی کمیونٹی قیادت ذاتی شہرت کے بارے میں نہیں ہوتی، بلکہ ان مثبت اور ٹھوس اثرات کے بارے میں ہوتی ہے جو ہم دوسروں کی زندگیوں میں چھوڑ کر جاتے ہیں۔
ہم ایک ایسی زندگی پر غور کرتے ہیں جو اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ایمان سے جڑی اقدار کو کس طرح عوامی خدمت اور ایک پائیدار، جامع ورثے میں ڈھالا جا سکتا ہے۔
خالد عثمان کے انتقال کے بعد انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرنے والوں میں میئر فرینک سکارپٹی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے عثمان کو کمیونٹی کا ایک ’قدآور‘ فرد اور اپنا دیرینہ دوست قرار دیا۔ سکارپٹی نے سوشل میڈیا پر اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا: ’آج ہماری کمیونٹی ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گئی۔ آج ہم میں سے بہت سے لوگوں نے ایک بہترین دوست کھو دیا۔‘
پشاور سے ایک نمایاں سیاسی سفر تک
پشاور، پاکستان میں پیدا ہونے والے خالد عثمان نے یونیورسٹی آف پشاور سے بیچلرز آف کامرس (آنرز) کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں کینیڈا چلے آئے۔
انہوں نے 1975 میں ٹورنٹو میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے اہلیت حاصل کی اور تین دہائیوں سے زائد عرصے تک کارپوریٹ گورننس اور اعلیٰ انتظامی قیادت میں اپنی مالی مہارتوں سے خدمات انجام دیں۔
ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور اعلیٰ اخلاقی معیارات کے اعتراف میں 2009 میں انہیں انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی جانب سے فیلوشپ (FCPA, FCA) سے نوازا گیا، جو اس شعبے کا اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔
مالیاتی قیادت میں یہ مضبوط بنیاد انہیں عوامی خدمات کے میدان میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لیے قدرتی طور پر تیار کر چکی تھی۔
1998 میں انہوں نے تاریخ رقم کی جب وہ مارکھم ٹاؤن کونسل کے لیے منتخب ہونے والے پہلے کینیڈین پاکستانی بنے اور 2006 تک وارڈ 7 کے کونسلر کے طور پر مسلسل تین مدت تک خدمات انجام دیں۔
2018 میں انہیں دوبارہ کونسل میں تعینات کیا گیا، جو مقامی حکمرانی اور مالی ذمہ داری کے لیے ان کے مستقل عزم کا ثبوت ہے۔ اپنے ادوار کے دوران انہوں نے مالیات، انتظامیہ، ٹرانسپورٹ اور معاشی ترقی سے متعلق اہم کمیٹیوں کی سربراہی کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگرچہ ان کا سیاسی کیریئر تاریخی نوعیت کا حامل تھا، لیکن خالد عثمان کی سب سے دیرپا پہچان ان کی انتھک نچلی سطح پر رضاکارانہ خدمات ہیں۔
شہری ذمہ داری کے گہرے احساس کے ساتھ انہوں نے 25 سال سے زائد عرصے تک اہم اداروں کے لیے فنڈز جمع کیے اور محروم طبقات کی مدد کی۔
ان کا اشتراکی انداز اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی صلاحیت بین المذاہب مکالمے کے لیے ایک مثال قائم کرتی ہے۔
کینیڈین فیڈریشن آف انٹرکلچرل فرینڈشپ (CFIF) کے بانی ڈائریکٹر کے طور پر انہوں نے مختلف ثقافتی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے افراد کو اکٹھا کیا تاکہ باہمی احترام، امن اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
وہ ’مینی فیسز آف مارکھم‘ منصوبے کے بھی محرک تھے، جس کا مقصد شہر کی ثقافتی تنوع کو اجاگر کرنا اور مساوات و شمولیت کو فروغ دینا تھا۔
صحت کے شعبے میں خدمات
صحت اور فلاح کے شعبے میں بھی ان کی خدمات قابلِ قدر رہیں۔
انہوں نے مارکھم سٹوفول ہسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں ہسپتال فاؤنڈیشن کے چیئرمین کے طور پر اہم فنڈ ریزنگ مہمات کی قیادت کی، جس کے ذریعے مقامی صحت کے ڈھانچے کو وسعت دی گئی۔
مرحوم کی ہمدردی کی کوئی سرحد نہیں تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کا اثر کینیڈا سے باہر بھی پھیلا ہوا ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی امدادی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا اور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریلیف فاؤنڈیشن (IDRF) جیسی تنظیموں کے ساتھ مل کر عالمی انسانی بحرانوں کے دوران بڑے پیمانے پر فنڈ ریزنگ کی۔
چاہے 2004 کا بحر ہند سونامی ہو، 2005 کا کشمیر زلزلہ، 2006 کا فلپائن مٹی کا تودہ، یا پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب—خالد عثمان ہر موقع پر کمیونٹی کو متحرک کرنے اور سخاوت کا جذبہ بیدار کرنے میں پیش پیش رہے۔
ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں انہیں کینیڈا اور پاکستان دونوں میں اعلیٰ ترین سول اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کے نمایاں اعزازات میں شامل ہیں:
۔ گورنر جنرل کا ’کیئرنگ کینیڈین ایوارڈ‘ (بعد ازاں سوورین میڈل فار وولیئنٹیرز)
۔ اونٹاریو میڈل فار گڈ سٹیزن شپ
۔ ملکہ الزبتھ دوم ڈائمنڈ جوبلی میڈل
۔ میئرز سینئرز ہال آف فیم ایوارڈ (مارکھم، 2016)
۔ انتھونی رومن ایوارڈ (مارکھم بورڈ آف ٹریڈ، 2025)
۔ تمغۂ خدمت (حکومتِ پاکستان کی جانب سے غیر معمولی عوامی خدمات پر)
