قطر کی وزارت خارجہ نے اتوار کی سہ پہر کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں لیک لوسیرن سربراہی اجلاس کی سرگرمیوں اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کے پہلے اجلاس کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر سمیت اہم فریقین کے نمائندے شریک ہیں۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب، ترکی، مصر، متحدہ عرب امارات اور دیگر برادر و دوست ممالک کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوششوں سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار ماحول میسر آیا نیز ’یہ مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں شامل تمام امور کا احاطہ کرنے والے ایک جامع اور مستقل معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘
قطری وزیراعظم کے مشیر اور وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری کے مطابق حتمی معاہدے کی شقوں پر بات چیت کے لیے خصوصی فنی اور تکنیکی گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں جبکہ عملدرآمد کی نگرانی اور پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے فالو اپ گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات تمام فریقین کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک جامع اور پائیدار معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری الانصاری کا کہنا تھا کہ قطر، پاکستان اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا، کیونکہ تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری کو ہی مؤثر راستہ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے اس عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم شراکت دار اور ثالث قرار دیا جبکہ امریکہ اور ایران کے سفارتی حل کے عزم کا بھی خیرمقدم کیا۔
