امریکہ-ایران معاہدہ اور پاکستان کا اصل کردار

بین الاقوامی سیاست میں بعض معاہدے صرف دو ممالک کے درمیان نہیں ہوتے بلکہ پورے خطے کی سیاسی سمت متعین کرتے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ بھی شاید ایسا ہی ایک معاہدہ ہے۔ اس نے نہ صرف کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور عسکری محاذ آرائی کو روکنے کی بنیاد رکھی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں طاقت، سفارت کاری اور علاقائی توازن کے بارے میں کئی نئی بحثوں کو بھی جنم دیا ہے۔

اس معاہدے کی ایک اور اہم جہت یہ ہے کہ اس میں پاکستان کو ایک ثالث اور مفاہمت کار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا کردار ہے جس کا خواب پاکستان کی خارجہ پالیسی کئی دہائیوں سے دیکھتی رہی، لیکن شاید پہلی مرتبہ اسے اس درجے کی بین الاقوامی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

اگر یہ معاہدہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو یہ صرف واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کی نئی تعریف نہیں کرے گا بلکہ اسلام آباد کی سفارتی شناخت کو بھی ایک نئی جہت عطا کر سکتا ہے۔

دنیا کی سیاست میں ممالک کی اہمیت صرف ان کی فوجی طاقت یا معاشی حجم سے متعین نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وہ ممالک زیادہ بااثر ثابت ہوتے ہیں جو متحارب فریقوں کے درمیان پل بننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ناروے نے اوسلو معاہدے کے ذریعے یہی کردار ادا کیا، قطر نے افغانستان اور غزہ کے معاملات میں اپنی سفارتی حیثیت کو مضبوط کیا اور عمان کئی دہائیوں سے خاموش سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اگر پاکستان واقعی امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کا ذریعہ بنا ہے تو یہ اس کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا طاقت کے روایتی تصورات سے آگے بڑھ کر اعتماد سازی اور تنازعات کے حل کو اہمیت دے رہی ہے، پاکستان کا یہ کردار اس کے لیے ایک قیمتی سفارتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخ محض دو ریاستوں کے درمیان اختلافات کی تاریخ نہیں بلکہ یہ مشرق وسطیٰ کے طاقت کے توازن کی تاریخ بھی ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی گئی۔ تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے سے لے کر اقتصادی پابندیوں، عراق ایران جنگ، شام اور عراق میں پراکسی تنازعات، ایران کے جوہری پروگرام اور اسرائیل ایران کشیدگی تک، ہر مرحلے نے اس دشمنی کو مزید پیچیدہ بنایا۔

امریکہ نے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری قوت کے ذریعے ایران کو محدود کرنے کی کوشش کی جبکہ ایران نے علاقائی اتحادیوں، مزاحمتی گروہوں اور جوہری صلاحیت کے ذریعے اپنی بقا اور اثرورسوخ کو برقرار رکھا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ضرور رہے، لیکن کسی کو فیصلہ کن برتری حاصل نہ ہو سکی۔

حالیہ بحران نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا تھا کہ اس جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہو سکتا۔ امریکہ اپنی عسکری طاقت کے باوجود ایران کے سیاسی اور نظریاتی اثرورسوخ کو ختم نہیں کر سکا جبکہ ایران بھی پابندیوں، بحری ناکہ بندی اور عسکری دباؤ کے باوجود امریکہ کو اپنی شرائط منوانے پر مجبور نہیں کر سکا۔ دونوں ایک ایسی کشمکش میں مبتلا تھے جس میں لاگت مسلسل بڑھ رہی تھی جبکہ سیاسی فوائد محدود ہوتے جا رہے تھے۔

جنگ کا پھیلاؤ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا تھا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے توانائی کی منڈیوں کو غیر مستحکم کر دیا تھا اور عالمی طاقتوں کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ اگر اس بحران کو سفارتی طریقے سے نہ روکا گیا تو اس کے اثرات دنیا کے ہر خطے تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سفارت کاری ایک ضرورت بن گئی اور طاقت کی سیاست کو مذاکرات کے لیے جگہ خالی کرنا پڑی۔

یہاں پاکستان کا کردار اہمیت اختیار کرتا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو ایک طرف امریکہ کے ساتھ دفاعی، سیاسی اور اقتصادی روابط رکھتے ہیں اور دوسری طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی، تاریخی اور تہذیبی تعلقات بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، قطر، چین اور ترکی کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات اسے ایک ایسی پوزیشن فراہم کرتے ہیں جہاں وہ مختلف طاقتوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے حالیہ برسوں میں اپنے آپ کو ایک ذمہ دار علاقائی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان اس معاہدے میں پاکستان نے واقعی کلیدی کردار ادا کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد نے پہلی مرتبہ اپنی جغرافیائی حیثیت کو سفارتی سرمایہ میں تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں یہ تبدیلی اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ ایک عرصے تک پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا رہا جو اپنی سلامتی کی ترجیحات میں اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ اس کے لیے علاقائی سفارت کاری میں مؤثر کردار ادا کرنا مشکل ہے، لیکن گذشتہ چند برسوں میں اسلام آباد نے بتدریج ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن، افغانستان کے معاملے میں محتاط سفارت کاری، چین کے ساتھ قریبی شراکت داری اور امریکہ کے ساتھ عملی تعاون، یہ سب اسی سوچ کا حصہ ہیں۔ پاکستان اب اپنے آپ کو محض ایک سکیورٹی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے جو علاقائی استحکام، معاشی روابط اور سفارتی مفاہمت کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے میں اس کی شرکت اسی وسیع تر سفارتی وژن کی عکاسی کرتی ہے۔

جغرافیہ اکثر ریاستوں کے مقدر کا تعین کرتا ہے۔ پاکستان ایران کا ہمسایہ ہے، اس کی سرحدیں خلیج فارس کے قریب ہیں اور اس کی معیشت مشرق وسطیٰ کے استحکام سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں مقیم ہیں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارت اور توانائی کی رسائی پاکستان کے معاشی مفادات کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ چنانچہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ یا مفاہمت پاکستان کے لیے محض ایک خارجی واقعہ نہیں بلکہ براہ راست قومی مفاد کا معاملہ ہے۔

اگر جنگ جاری رہتی تو اس کے اثرات صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہ رہتے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، بحری تجارت میں خلل، توانائی کی قلت، خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے خطرات اور خطے میں نئی صف بندیوں کے امکانات پاکستان کے لیے بھی سنگین نتائج پیدا کر سکتے تھے، اسی لیے پاکستان کے لیے مفاہمت کا راستہ صرف ایک اخلاقی ترجیح نہیں بلکہ ایک تزویراتی ضرورت بھی تھا۔

یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کی سیاست کے بارے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ خطے کے مسائل کا حل صرف عسکری قوت میں پوشیدہ ہے، لیکن عراق کی جنگ، شام کا بحران، یمن کی تباہی اور غزہ کے المیے نے یہ ثابت کر دیا کہ جنگیں ریاستوں کو کمزور تو کر سکتی ہیں مگر پائیدار امن پیدا نہیں کر سکتیں۔

طاقت وقتی برتری دے سکتی ہے لیکن مستقل استحکام صرف مذاکرات، اعتماد سازی اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ اسی حقیقت کا اعتراف ہے کہ چار دہائیوں کی دشمنی کے بعد بھی بالآخر مذاکرات ہی وہ راستہ بنے جس نے تصادم کے امکانات کو کم کیا اور سفارت کاری کو ایک نئی زندگی دی۔

پاکستان کے لیے یہ لمحہ صرف سفارتی کامیابی کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا بھی ہے۔ کیا پاکستان اس کردار کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھ سکے گا؟ کیا وہ اپنے آپ کو ایک ایسے ملک کے طور پر منوا سکے گا جو تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے ان کے حل میں کردار ادا کرتا ہے؟ کیا وہ اپنی جغرافیائی حیثیت کو ایک تزویراتی اثاثے کے طور پر استعمال کر سکے گا؟ یہ سوالات ابھی کھلے ہیں۔

لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا کی سیاست تبدیل ہو رہی ہے۔ اب وہ ممالک زیادہ اہم سمجھے جا رہے ہیں جو جنگیں نہیں لڑتے بلکہ جنگوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو طاقت کے بجائے مکالمے کو فروغ دیتے ہیں اور جو متحارب فریقوں کے درمیان پل بن سکتے ہیں۔

اگر پاکستان واقعی امریکہ اور ایران کے درمیان اس مفاہمت کا ایک مؤثر ثالث رہا ہے تو یہ اس کے لیے ایک نئی سفارتی شناخت کی بنیاد بن سکتا ہے، کیونکہ اکیسویں صدی میں اصل طاقت شاید وہ نہیں جو میدان جنگ میں اپنی برتری ثابت کرے، بلکہ وہ ہے جو جنگ کو روکنے، اعتماد پیدا کرنے اور امن کی راہیں ہموار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

اور اگر اسلام آباد نے واقعی یہ کردار ادا کیا ہے تو یہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی فکری بلوغت کا اظہار بھی ہے۔ بعض اوقات تاریخ اُن ممالک کو زیادہ احترام سے یاد رکھتی ہے جو جنگیں نہیں جیتتے بلکہ جنگوں کو روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ شاید پاکستان آج اسی موڑ پر کھڑا ہے۔

(ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں)

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *