وزیر اعظم کا پیٹرول کی قیمتوں میں 74 اور ڈیزل 67 روپے کمی کا اعلان

وزیر اعظم کا پیٹرول کی قیمتوں میں 74 اور ڈیزل 67 روپے کمی کا اعلان

حکومت نے جمعے کو پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر بڑی کمی کا اعلان کر دیا جس کے بعد نئی قیمتیں بالترتیب 299 اور 311 روپے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہیں۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں شہباز شریف نے  کہا کہ خطے میں معاشی بہتری اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا پورا فائدہ عوام تک منتقل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے قوم سے کیا گیا وعدہ پورا کر دیا ہے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم کے مطابق مشکل حالات میں عوام نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جس پر حکومت ان کی شکر گزار ہے۔

بیان کے مطابق حکومت نے بحران کے دوران ترقیاتی بجٹ میں کفایت شعاری اور دیگر بچتوں سے 129 ارب روپے استعمال کر کے عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں نہ تو ایندھن کی قلت پیدا ہوئی اور نہ ہی طویل قطاریں لگیں، جو حکومتی حکمت عملی کی کامیابی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور پاکستان کی ثالثی کے باعث خطے میں امن قائم ہوا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔

وزیراعظم نے معاشی ٹیم اور حکومتی عہدیداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت آئندہ بھی مہنگائی میں کمی اور معاشی استحکام کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی۔


آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں کو اسلام آباد معاہدے کے تحت 60 دن تک مفت رسائی 

ایران نے جمعے کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 دن تک رسائی حاصل ہو گی تاہم جہازوں کو اس کے لیے کم از کم 48 گھنٹے قبل ایرانی اتھارٹی سے اجازت حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

اسلام آباد کے بعد ایران کی پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی (پی جی ایس اے) کی جانب سے ایکس پر جاری نوٹس کے مطابق یہ اقدام اسلام آباد ایم او یو کے بعد کیا گیا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ اور منظم آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جو جہاز مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنی درخواستیں جمع کرائیں گے، انہیں فوری طور پر گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے صرف سرکاری ویب سائٹ اور ای میل کو ہی مستند ذرائع قرار دیا گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اتھارٹی نے واضح کیا کہ تمام جہاز مالکان کو اپنی مکمل اور درست معلومات فراہم کرنا ہوں گی، بصورت دیگر تاخیر یا دیگر مسائل کی ذمہ داری خود ان پر عائد ہوگی۔

مزید برآں، نوٹس میں بتایا گیا کہ آئندہ 60 دنوں کے دوران سکیورٹی، سیفٹی اور ماحولیاتی خدمات کی فیس کے ساتھ ایرانی انشورنس چارجز بھی جہاز مالکان سے وصول نہیں کیے جائیں گے بلکہ یہ اخراجات ایرانی حکومت خود برداشت کرے گی۔

اتھارٹی نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے بعض علاقوں میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کے باعث جہازوں کے لیے مقررہ راستوں اور شیڈول کی پابندی لازمی ہوگی تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔

بیان کے مطابق مقررہ ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کسی بھی نقصان یا تاخیر کی ذمہ داری جہاز کے مالک پر عائد ہوگی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *