گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے بعد اکثریتی بنیاد پر پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت بنانی ہے۔ اس پارٹی کو اچھا خاصا مینڈیٹ ملا ہے جس کی وجہ سے حکومت سازی اور اس سے آگے ترقیاتی اقدامات کے لیے بظاہر کوئی بڑی رکاوٹ یا مجبوری بھی سامنے نظر نہیں آ رہی ہے۔
2009 کے بعد یہ اس کی دوسری حکومت ہے اور اسے سابق حکومتوں سے زیادہ کارکردگی دکھانا ہوگی۔
اگرچہ اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کی اکثریتی حکومت ہے لیکن پیپلز پارٹی کہیں ظاہر میں اور کہیں باطنی طور پر شامل ضرور ہے۔ صدر مملکت کا عہدہ ان کے پاس ہے، ایوان بالا یعنی سینیٹ کا چیئرمین پیپلز پارٹی کا ہے، بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ان کی ہے۔
صرف اسی پہ اکتفا نہیں بلکہ سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتیں بھی موجود ہیں اور مزید برآں پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کی گورنری بھی ان ہی کے دستِ قبضے میں ہیں۔ قومی سطح کے پاور سٹرکچر میں اتنا حصہ ہونے کے بعد یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا کہ ’اختیارات ہمارے پاس نہیں تھے لہذا ترقیاتی کام میں خلل پڑگیا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اب نئے وزیراعلیٰ پر منحصر ہوگا کہ وہ کس طرح کی کابینہ اور ٹیم بناتا ہے۔ سب سے پہلے تو جرات کے ساتھ یہ احسن قدم اٹھائے کہ کابینہ کا حجم مختصر رکھے اور بےجا وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج اکٹھی نہ کرے۔ دوسرا قدم یہ اٹھائے کہ سرکاری پروٹوکول اور کابینہ و وزیراعلیٰ کی سطح کے اخراجات میں یکدم کمی لائے۔
وہ بھی اس پس ماندہ خطے میں جہاں اکثریت غربت کے منحوس چکر (vicious circle) میں پھنسی ہوئی ہے۔ باقی اہم ترجیحات سے پہلے یہ ابتدائی اقدامات اس لیے ضروری ہے کہ کچھ تبدیلی دکھائی دے اور عوام بھی محسوس کرے کہ کچھ اچھا ہونے جا رہا ہے۔
اس کے بعد اگلی ترجیحات میں اہم بجلی کا بحران ہے جو تمام طبقہ ہائے روزگار کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ بدقسمتی دیکھیے کہ ہاییڈرو انرجی کے بے پناہ مواقع کے باوجود گلگت، سکردو اور چلاس جو کہ تین انتظامی ڈویژنز کے ہیڈکوارٹرز ہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے بری طرح متاثر ہیں۔
علاوہ ازیں خپلو، استور، ہنزہ، نگر اور غذر کے صدر مقام بھی اسی طرح کی صورت حال سے دو چار ہیں۔ بجلی کی تنگ دستی کی وجہ سے علاقے کی معاشی حالت بھی ٹھیک نہیں۔ کاروبار خواہ وہ ایک چھوٹے سے کھوکھے پر مشتمل ہو یا بڑے بڑے ہوٹل، شاپنگ سینٹر سب بجلی کے لیے دہائی دے رہے ہیں۔
سکردو میں تو یہ حالت ہے کہ جون کا مہینہ آدھا ہوگیا ہے لیکن بجلی آدھی بھی نہیں مل رہی ہے۔ واپڈا کی افسانہ طرازی بدستور جاری ہے اور وہ یہ کہ سردیوں میں پانی کم ہے اور گرمیاں آتے ہی سدپارہ ڈیم کے بجلی گھروں کی مشینیں کھانس رہی ہیں۔ غالباً گلگت اور دیگر اضلاع میں بھی بجلی گھر زکام زدہ ہوں گے۔
نہ جانے داسو اور دیامر بھاشا ڈیمز کب بنیں گے اور کب نیشنل گرڈ سے منسلک ہوکر بجلی ملے گی؟ تب تک کیا علاقہ اندھیروں میں ڈوبا رہے گا؟ یہ سب طویل مدتی منصوبے ہیں، جن کی تعمیر میں وقت، حالات اور سرمائے کا اپنا کردار ہے جن کی بروقت دستیابی ایک علیحدہ سوال ہے۔
ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہائیڈرو پراجیکٹس کے لیے نئے بجٹ میں کم رقم رکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے ڈیمز پر کام کی رفتار معمول سے کم ہوگی اور اندیشہ ہے کہ داسو اور بھاشا دیامر جیسے ڈیم کی مدت تکمیل میں فرق پڑے گا۔
ایسے میں سکردو، گلگت، چلاس اور دیگر ضلعی صدر مقام کے شہریوں کے لیے کوئی متبادل حل تلاش کیا جائے۔ چھوٹے پن بجلی گھر، اچھی کوالٹی کی ہائیڈرو انرجی پیدا کرنے والی مشینوں کی خریداری، سولر پارک یا run of river کچھ تو حل ہوگا، اسے ڈھونڈیں اور عملی جامہ پہنانے کے لیے کمر کس لیں۔
واپڈا اور پی ڈبلیو ڈی کے انجینیئرز بھی صرف بیئرنگ بدلنے اور ڈائنمو کے پسٹن بدلنے سے آگے کچھ کر نہیں پا رہے ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کا فقدان ہے یا جدید ٹیکنالوجی کی افادیت سے بے خبر ہیں کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے۔
P&D کی ایک رپورٹ کے مطابق سردیوں میں موجودہ بجلی کا شارٹ فال 376 میگا واٹ جبکہ گرمیوں میں 121 میگاواٹ ہے۔ ایسی صورت حال میں گھریلو روشنی سے لے کر چھوٹی سطح کا کاروبار تک متاثر ہوتا ہوگا، اس کا تصور ہی تکلیف دہ ہے۔
اس سے پہلے نئی حکومت کے لیے ایک سماجی مسئلہ بھی درپیش ہے اور وہ یکم مارچ کو امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے گلگت بلتستان میں پیدا ہونے والا لا اینڈ آرڈر اور اس کے مضمرات ہیں۔ اس وجہ سے گلگت بلتستان کی فضا کافی مکدر رہی اور بڑا جانی و مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ جوڈیشنل انکوائری کی گئی ہے جس کے نتائج بھی آنا ہیں اور اس کے نتیجے میں سماجی تناؤ ممکن ہے، جس یکجا کرنا سیاسی تدبر کے لیے ایک الگ چیلنج ہوگا۔
صحت عامہ کے حوالے سے علاج معالجے کے لیے مرکزی ہسپتالوں اور بڑے قصبات کے ہیلتھ سینٹرز کو اپ گریڈ کرنا نہایت ضروری ہے۔ کچھ سالوں سے گلگت بلتستان میں ہارٹ اٹیک، معدے کے کینسر اور شوگر تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ ماہرین اس کا ایک بڑا سبب غیر معیاری کوکنگ آئل اور دیگر اشیا خوردونوش بتاتے ہیں۔
دوسری طرف ہسپتالوں میں سی ٹی سکین اور ایم آر آئی جیسی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہں جس کی وجہ سے بیماریوں کی صحیح تشخیص نہیں ہوتی ہے اور پھر کئی گنا زیادہ خرچ کرکے اسلام آباد یا لاہور جانا پڑتا ہے، تب تک بہت دیر ہو جاتی ہے۔
اس حوالے سے اب نئی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایک طرف تو وہ غیر معیاری اشیا خوردونوش پر کڑی نظر رکھے اور کوئی رعایت نہ برتیں۔ اس کے ساتھ صحت عامہ کے مراکز میں ڈایگنوسٹک سہولیات کی فراہمی کے لیے کوئی کوتاہی یا سستی قابل قبول نہیں ہے۔ حد یہ ہے کہ بلتستان ڈویژن کے واحد سرکاری ہسپتال سکردو میں گذشتہ دو سال سے ایک نامکمل ایم آر آئی مشین گرد آلود پڑی ہوئی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی بھی روز بہ روز بڑا خطرہ بن کر سامنے آ رہی ہے۔ درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، گلوف اور برفانی طغیانی کی وجہ سے زمین اور انسان دونوں کو خطرہ ہے۔ ایسی صورت میں ممکنہ خطرے والی جگہوں پر جدید طرز کے قبل از وقت وارننگ سسٹم کی تنصیب سے لے کر کمیونٹی کے اشتراک عمل کے ذریعے اس آفت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
جہاں تک نوجوانوں کے لیے روزگار مہیا کرنا یا خطے کے قدرتی وسائل میں ان کی ملکیت اور شراکت داری کو تسلیم کرتے ہوئے بزنس کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت کیے گئے MICS-17 سروے کے مطابق گلگت بلتستان کا کثیر الجہتی غربت (MPI) انڈیکس بھی دعوت فکر دے رہا ہے۔
قابل کاشت اور زرعی زمین بہت کم ہے اور ایک فیملی کے پاس اوسطاً 0.6 سے 0.7 ایکڑ زمین ہے۔ ایسے میں منرلز، سیاحت اور چائنہ بارڈر ٹریڈ بہت اہم ذرائع ہیں، جہاں سے اس خطے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔
اس کے لیے حکومتی پالیسی اور قانون سازی بھی اسی موافق بننی چاہیے جو اس خطے کے لوگوں خاص کر نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کی ضمانت بن سکے نہ کہ انویسٹمنٹ کے نام پر سب حقوق غیر علاقائی کارپوریٹ سیکٹر کو منتقل ہوں۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
