بلوچستان کے وزیر اعلی کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے اتوار کو بتایا کہ بلوچستان کے علاقے منگلہ زرغون غر میں سکیورٹی فورسز کے 13 مئی سے جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 35 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے۔
پاکستان حکومت ’فتنہ الہندوستان‘ انڈیا کے مبینہ حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت کی گئی جب گذشتہ چند روز کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آئے تھے۔
بلوچستان میں ہفتے کو دالبندین، تربت، نوشکی اور مستونگ میں فائرنگ، حملوں اور توڑ پھوڑ کے مختلف واقعات میں ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل اور براہوی زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر جان سے گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
شاہد رند نے اتوار کو جاری بیان میں بتایا: آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے متعدد کیمپس اور ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے، جس سے ان کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘
بلوچستان: کالعدم بی ایل اے کے حملوں میں مبینہ طور پر خواتین بھی شامل
کالعدم علیحدگی پسند گروپ بلوچستان لبریشن آرمی کی شیئر کردہ ویڈیوز میں خواتین کو ہفتے کو بلوچستان بھر میں مربوط حملوں میں مبینہ طور پر حصہ لیتے دکھایا گیا ہے۔#Pakistan #Balochistan #IndependentUrdu pic.twitter.com/9YBd0Fi3t1
— Independent Urdu (@indyurdu) January 31, 2026
انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ’فتنہ الہندوستان کے تین اہم کمانڈرز‘ کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، جن سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر مزید کارروائیاں جاری ہیں۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیم کے سہولت کاروں اور پشت پناہ عناصر کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور ریاست پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
انہوں نے اس آپریشن کو بلوچستان اور ملک کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور مشکوک عناصر کی نشاندہی کریں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے بیرونی آقاؤں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بی ایل اے نے رواں سال جنوری میں پاکستان میں حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی تھی، جسے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کا نام دیا گیا، جس کے دوران صوبے کے نو اضلاع میں خودکش دھماکے اور مسلح حملے کیے گئے۔
حکام کے مطابق ان حملوں میں 274 افراد جان سے گئے تھے۔
جس کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا تھا وہ بی ایل اے کو اپنی پابندیوں کی رجیم کے تحت ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے لیے کام کرے۔
یہ گروہ غیر بلوچ افراد کو کر ٹارگٹ کلنگ، اجتماعی قتل اور انفراسٹرکچر پر مہلک تخریبی حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔
کالعدم بی ایل اے ایک قوم پرست شدت پسند تنظیم ہے، جن کی عسکریت پسند کارروائیوں سے صوبہ انتشار کا شکار ہے۔
برطانیہ، پاکستان اور امریکہ سمیت کئی ممالک اسے ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے چکے ہیں، جن کے حملوں میں 2011 سے اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور اس نے خاص طور پر چینی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔
