90 کی دہائی میں جب اے آر رحمٰن نے بالی وڈ میں قدم رکھا تو ان کو کسی حقیقی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا، وہ آئے اور چھا گئے۔
’روجا‘، ’بمبئی‘، ’دل سے‘ اور ’رنگیلا‘ انقلاب کی آواز تھے جنہیں بالی وڈ نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اے آر واقعی کسی طوفان کی طرح آئے اور سب کچھ الٹ پلٹ کے رکھ دیا۔
ان کی موسیقی تازہ تھی، جدید تھی، اور اس میں ایک عالمی آہنگ محسوس ہوتا تھا۔ سنتھیسائزر، نئی آوازیں، خاموش وقفوں کا استعمال اور روحانی کیفیات۔ ایک جادو جو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔
اپنی سوانح عمری میں اے آر رحمٰن بتاتے ہیں کہ بھلے ہی ان کی دھنیں پورے انڈیا کو اپنے جادو میں لپیٹ چکی تھیں لیکن تمل ناڈو میں الیا راجا کا راج چل رہا تھا۔
چنئی کی گلیوں میں زندگی الیاراجا کی دھنوں پر رقص کر رہی تھی۔ صبح دکانیں انہی کے گانوں سے کھلتیں، بسوں میں انہی کی موسیقی بجتی، اور دیہات سے لے کر شہروں تک لوگوں کی دھڑکنیں اب بھی انہی کے سروں سے بندھی تھیں۔
یہ ساؤتھ اور بالی وڈ کے مزاج کا ازلی فرق ہے جسے سمجھے بغیر وجے کی سیاسی کامیابی کا ادراک ممکن نہیں۔
اگر آپ نے 1987 کی تمل فلم ’نائیکن‘ دیکھی ہو تو دونوں خطوں کا مزاج سمجھنا بہت آسانی ہے۔
منی رتنم کا یہ شاہکار انڈیا کی گاڈ فادر کہلاتی ہے۔ لیکن فرانسز فورڈ کی گاڈ فادر ایک الگ دنیا کی نمائندگی کرتی ہے جو معاشرے سے کٹی ہو، الگ تھلگ چند خاندانوں کی جنگ ہے۔
کرافٹ کا بہترین نمونہ ’گاڈ فادر‘ جذباتی سطح پر ہمارے دلوں کو چھوتی ہے لیکن سماجی وابستگیوں سے جڑی ہمارے اجتماعی تجربات سے کنارہ کرتی ہے۔
’نائیکن‘ پوری طرح اپنے سماج میں پیوست ہے۔ ہم کرداروں سے جڑتے ہیں، گلی محلے کی دھول مٹی سے ہمارے پاؤں اٹ جاتے ہیں، جب ’نائیکن‘ بیٹی کا خط پڑھتا ہے تو ہم کسی بھی باپ اور بیٹی کے جذبات رشتے کو اجتماعی تصویر کی شکل میں دیکھ اور محسوس کر سکتے ہیں۔
آپ بالی وڈ میں شاید ’نائیکن‘ کے لیول کی ایک بھی فلم نہ دیکھیں۔ بالی وڈ اپنے تمام تر رئیل ازم کے باوجود دھرتی سے کٹا ہوا اور شور زدہ علاقہ نظر آتا ہے، جہاں ہیرو آتے ہیں، فتح کرتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔
50 کی دہائی میں جب بمل رائے کولکتہ سے ممبئی آئے تو انہوں نے’دو بیگھا زمین‘ بنائی۔ انتہائی شاندار فلم لیکن بالی وڈ کا مزاج ایسی فلموں کی گنجائش ہی نہیں رکھتا۔ یہ ان کی بہترین فلم تھی، مگر انہوں نے اپنی بقا کے لیے روایتی انداز اپنا لیا۔
مزاج کا یہ فرق دراصل مٹی سے جڑت کا فرق ہے۔ ملک کے کونے کونے سے مختلف مزاج کے لوگ بمبئی میں آتے رہے، یہاں تجارت تھی، جدید زندگی اور منظم شور تھا، جو بھی آیا اسی شور میں گم ہوتا گیا۔
ممبئی کی تیز رفتار دنیا میں صدیوں کی لوک دانش اور مقامی زبانوں کا گزر نہیں، یہاں سب کچھ وقتی اور ہنگامہ خیز ہے، یہاں کی فلمیں بھی کھوکھلی ہیں، یہاں کی زندگی کی طرح، یا شاید اس سے بھی زیادہ۔
ساؤتھ کی صدیوں پرانی زبانیں، مقامی کلچر اور فطرت کی سادگی یہاں کے سیاستدانوں اور اداکاروں کے مزاج میں ٹھہراؤ اور گہرائی پیدا کرتے ہیں۔
ساؤتھ میں فلم محض تفریح نہیں بلکہ عوامی جذبات، زبان اور سیاسی شناخت کا حصہ ہے۔ وہاں رجنی کانتھ، وجے تھلاپتی اور اجیت کمارجیسے اداکاروں کے مداح ان کے پوسٹروں کو دودھ سے نہلاتے ہیں۔
ان کی ایک درخواست پر ہزاروں لوگ گھروں سے خون کا عطیہ دینے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ تعلق بالی وڈ کے مقابلے میں کہیں زیادہ جذباتی اور وفادارانہ ہے۔
جب سماج آپس میں اس حد تک جڑا ہے تو کیسے ممکن ہے سیاست بالکل الگ تھلگ کھڑی ہو۔ رام چندرن اور جیہ للیتا نے فلم اور سیاست کو جس ایک رسی سے باندھا تھا، اسے آگے بڑھانے کے لیے وجے میدان میں اترے تو نئی نسل نے ویلکم کیا۔
وجے کی فلموں نے برسوں پہلے ان کی سیاست کی بنیاد رکھ دی تھی۔ ’سرکار‘ میں وہ ووٹ چوری کرنے والے نظام کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں، ’کتھی‘ میں کسانوں کے حق کی بات کرتے ہیں، اور ’مرسل‘ میں ہسپتالوں اور صحت کے نظام پر سوال اٹھاتے ہیں۔
یہ سب محض فلمی مکالمے نہ تھے، تمل ناڈو کا نوجوان اپنے غصے کا عکس ان میں دیکھ رہا تھا، اپنی محرومی اور اپنی امید کے طور انہیں سن رہا تھا۔
جب وجے نے سیاست میں آنے کا اعلان کیا تو لوگوں کے لیے فاصلے پر کھڑا سپر سٹار نہیں تھا، بلکہ انہی جیسا ایک فرد جو پہلے سکرین پر تھا اب جلسے جلوسوں میں ہے۔
بالی وڈ میں ہیرو اکثر اپنے گرد ایک مصنوعی دیومالا بناتے ہیں۔ وہ بڑے شہروں، مہنگی زندگی اور چمکتی ہوئی دنیا کے نمائندہ محسوس ہوتے ہیں، ان کی زندگی سٹیٹس سمبل ہیں، ایک تفاخر اور الگ ہونے کا رومانس ان کے رگ و ریشے میں بہتا ہے۔
تمل سنیما کا ہیرو گلیوں، بس اڈوں، چائے خانوں اور متوسط طبقے کے گھروں میں سانس لیتا ہے۔ وجے کی ریلیوں میں آپ کو نوجوانوں سے زیادہ آٹو رکشہ چلانے والے، مزدور، دکاندار اور عام لوگ نظر آئیں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وجے کی ریلیاں سیاسی جلسوں سے زیادہ ثقافتی اجتماعات کا منظر پیش کرتی رہی ہیں۔ وجے اپنی کمیونٹی کے لیے محض ایک اداکار نہیں بلکہ اپنی زبان، اپنے کلچر اور اپنی محرومیوں کی نمائندگی کرنے والا چہرہ ہے۔
اگر بالی وڈ کا کوئی ہندو ادکار مسلمانوں کے ساتھ جا کر نماز پڑھ لیتا تو میڈیا نے آسمان ہی سر پر اٹھا لینا تھا، تعریف ہوتی یا تنقید، اس سے ہٹ کر، یہ لوگوں کے لیے بہت حیرت انگیز ہوتا۔
وجے تھلاپتی مسلمانوں کے ساتھ جا کر نماز پڑھتا ہے، یہ کوئی خبر نہیں۔ یہ وہاں کے مزاج اور کلچر کا حصہ ہے۔
جب تمل ناڈو میں کوئی اداکار مسلمانوں کے ساتھ جا کر نماز پڑھے یا سیلاب متاثرین کے لیے مدد کی اپیل کرے تو لوگ اسے سیاسی چال نہیں سمجھتے، بلکہ اپنے ہی سماج کی فطری توسیع محسوس کرتے ہیں۔
جنوبی ہند میں فلم، سیاست اور عوامی جذبات الگ الگ دنیائیں نہیں بلکہ ایک ہی دریا کی مختلف لہریں ہیں، اور وجے اسی دریا کی لہر ہیں، تازہ ترین اور طاقتور ترین۔
