سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر تین ارب ڈالر کی نچلی سطح سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ نوید بھی سنائی کہ رواں مالی سال کے دوران ترسیلات زر 41 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح عبور کرنے کی توقع ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جمیل احمد کے مطابق 2023 میں ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا تھا، جب درآمدات محدود ہو چکی تھیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر تھیں اور لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کھلوانا بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ ’اب صورت حال نمایاں طور پر بہتر ہو چکی ہے اور ماہانہ درآمدات اوسطاً پانچ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ ایل سیز کھلوانے کے عمل میں بھی نمایاں آسانی آئی ہے۔‘
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک کی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور ہنڈی و حوالہ جیسے غیر قانونی ذرائع کے خلاف سخت کارروائیوں نے معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے بتایا: ’گذشتہ مالی سال میں ترسیلات زر 38 ارب ڈالر رہیں، جو اس سال بڑھ کر 41 ارب ڈالر سے زائد ہونے کی توقع ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہوں گی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’مالی سال 2026 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا جبکہ مجموعی خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان محدود رہنے کا امکان ہے۔‘
معاشی شرح نمو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان ادارہ برائے شماریات کے اندازوں کے مطابق ابتدائی نو ماہ میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ سٹیٹ بینک کے تخمینے کے مطابق سالانہ شرح نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی غیر یقینی صورت حال اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آخری سہ ماہی میں اثر انداز ہو سکتا ہے۔
مہنگائی کے حوالے سے جمیل احمد نے کہا کہ مالی سال کے آخری حصے میں مہنگائی عارضی طور پر سات فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے، تاہم سٹیٹ بینک اسے درمیانی مدت میں پانچ سے سات فیصد کی حد میں رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور مستقبل میں اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔
انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کے فروغ کے لیے ضوابط کو آسان بنایا گیا ہے اور بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس شعبے کے لیے خصوصی فنانسنگ منصوبے تیار کریں۔
انہوں نے بتایا کہ ایس ایم ای فنانسنگ جون 2024 کے 491 ارب روپے سے بڑھ کر دسمبر 2025 تک 882 ارب روپے ہو گئی ہے جبکہ جون 2028 تک اسے 1.5 کھرب روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
برآمدات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی سست روی اور اجناس کی قیمتوں میں کمی نے برآمدات کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال چاول کی برآمدات نے نمایاں کردار ادا کیا، تاہم اس سال قیمتوں میں کمی کے باعث برآمدی آمدن میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔ رواں سال برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے، تاہم حکومت اس رجحان کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان کے نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن مکمل کر کے منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایکسچینج کمپنیوں کی شرح مبادلہ مارکیٹ طے کرتی ہے اور سٹیٹ بینک اس میں براہ راست مداخلت نہیں کرتا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملک میں ورچوئل اثاثوں کے لیے لائسنسنگ اور ریگولیٹری فریم ورک پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
