روایتی طریقے سے سینے کی ہڈی کاٹ کر دل کے آپریشن کا تو ہم میں سے زیادہ تر لوگوں نے سن رکھا ہے، تاہم ایک ایسا طریقہ علاج بھی موجود ہے جس میں بچوں کے دل کا علاج سینے کھولے بغیر کیا جاتا ہے۔
یہ جدید قسم کا آپریشن بچے کے بازو کے نیچے ایک چھوٹا سا کٹ لگا کر کیا جاتا ہے جس میں ڈاکٹر دل تک رسائی حاصل کرتا ہے اور اسی کے ذریعے آپریشن کیا جاتا ہے۔
امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق آپریشن کا یہ طریقہ تقریباً دو دہائیوں سے پوری دنیا میں رائج ہے لیکن میڈیکل سلیبس میں روایتی طریقے کے آپریشن کے مقابلے میں اس حوالے سے مزید اضافے کی ضرورت ہے۔
پشاور میں بھی یہ آپریشن اب ممکن ہے اور پشاور کے رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (آر ایم آئی) اور پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں یہ آپریشن کیے جا رہے ہیں۔
آر ایم آئی میں بچوں کے امراض قلب کے ماہر سرجن ڈاکٹر طارق سہیل بابر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’روایتی طریقے سے دل کا آپریشن سینے کی ہڈی کاٹ کر کیا جاتا ہے اور دل تک رسائی کی جاتی ہے۔‘
ڈاکٹر طارق سہیل کے مطابق ’بچوں کے دائیں جانب چھوٹا کٹ لگا دیا جاتا ہے اور پھیپھڑوں کے نیچے سے دل تک رسائی ہوتی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’بچوں کے دل میں سوراخ یا دیگر مسائل کے لیے اس جدید طریقے سے علاج ممکن ہے اور اس میں کسی قسم کی ہڈی کو کاٹا نہیں جاتا۔‘
اس طریقہ علاج کا فائدہ کیا ہے؟
روایتی کے مقابلے اس جدید طریقہ کے آپریشن کے فوائد پر ڈاکٹر طارق کا کہنا تھا کہ ’کامیابی کی شرح دونوں میں برابر ہے، تاہم اس جدید طریقے سے ریکوری کا دورانیہ تقریباً 70 فیصد کم ہو جاتا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’روایتی طریقے سے آپریشن سے ریکوری کا وقت چار سے چھ ہفتے ہے کیونکہ اس میں ہڈی کی ریکوری میں وقت لگتا ہے لیکن اس جدید طریقے سے ہسپتال اور آئی سی یو میں دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
این آئی ایچ کے مطابق اس جدید طریقہ علاج میں یہ بھی ہوتا ہے کہ سینے پر آپریشن کا نشان نہیں ہوتا جس سے مستقبل میں بچوں کو ذہنی اذیت نہیں ہوتی اور کاسمیٹک خوبصورتی بھی برقرار رہتی ہے۔
ڈاکٹر طارق سہیل بابر کے مطابق اس جدید طریقہ علاج کے ذریعے آر ایم آئی میں اب تک 15 آپریشنز کیے گئے ہیں جبکہ پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے مطابق مئی 2024 سے اب تک اس جدید طریقے سے بچوں کے 200 سے زائد آپریشن کیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر طارق سہیل بابر سے جب پوچھا گیا کہ ’کیا بچوں کے علاوہ بڑوں کے آپریشن بھی اس طریقے سے کیے جاتے ہیں؟‘
تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بالکل کیے جاتے ہیں لیکن اس میں پہلے مریض کا باقاعدہ معائنہ اور پھر ڈاکٹروں کی ٹیم فیصلہ کرتی ہے کہ اس کا آپریشن اس جدید طریقے سے کیا جائے یا نہیں۔
امریکہ کے این آئی ایچ کے مطابق اس جدید آپریشن کی کامیابی کے تناسب کو اگر دیکھا جائے تو وہ 100 فیصد ہے، تاہم اس جدید آپریشن کے لیے ماہر اور تجربہ کار ٹیم سمیت جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال یا مرکز صحت کی ضرورت ہوتی ہے۔
