امریکی کانگریس کے رکن ال گرین نے جمعرات کو ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان امن کے قیام میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا گیا۔
پاکستان نے ایران جنگ کے بعد 11 اور 12 اپریل کو چار دہائیوں بعد امریکہ اور ایران کے حکام کے درمیان پہلی براہِ راست بات چیت کی میزبانی کی تھی، تاہم یہ مذاکرات کسی بڑی پیش رفت پر اختتام پذیر نہیں ہوئے۔
اس کے بعد سے پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا ہے جب کہ خطے میں وقفے وقفے سے خلاف ورزیوں کے باوجود ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے۔
کانگریس مین ال گرین کی قرارداد میں اسلام آباد کے کردار کو ایک ’غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد‘ ثالث کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے تباہ کن تنازعے کے دوران ہوئی، جس میں بڑا جانی نقصان ہوا، بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر ہوئے اور عالمی سطح پر مالی نقصانات ہوئے ہیں۔
ال گرین نے ایک بیان میں کہا: ’ایک ایسی جنگ کے دوران جس میں جانی نقصان اور شدید انسانی تکلیف شامل ہے، ہمیں امن کے لیے کام کرنے والوں کی خدمات کو تسلیم کرنا چاہیے۔ پاکستان کا ایک غیر جانبدار شراکت دار کے طور پر کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا مضبوط راستہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ان کوششوں کو سراہ کر ہم مذاکرات کو تباہی پر ترجیح دینے اور ایسے امن کے حصول کے عزم کی توثیق کرتے ہیں جس سے اس تنازعے سے متاثر معصوم جانوں کو بچایا جا سکے۔‘
امریکی کانگریس مین کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے امریکہ سے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران فوجی کارروائی نہ کی جائے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جمعرات کو دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے سے پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی نے آٹھ اپریل سے جاری نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا: ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پاکستان (کا کردار) شاندار رہا ہے۔ ان کی قیادت بھی شاندار رہی ہے، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ ایسا (فوجی کارروائی) نہ کریں۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ کریں گے، لیکن مذاکرات کے دوران انہوں (پاکستان) نے ہمیں ایسا نہ کرنے کا کہا۔‘
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکہ کو کوئی جواب دیا گیا ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ فریقین جلد ایک پائیدار حل تک پہنچ جائیں گے۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’ہمیں امید ہے کہ جلد یا بدیر ایک معاہدہ ہو جائے گا۔‘ تاہم انہوں نے اس کی کوئی ٹائم لائن نہیں دی۔
