پاکستان کی حکومت متحدہ عرب امارات کے جبیل علی ماڈل کی طرز پر ایک پائلٹ منصوبہ تیار کر رہی ہے جس کے تحت استعمال شدہ گاڑیاں اور ان کے آٹو پارٹس ملک میں درآمد، مرمت (ریفربش) اور دوبارہ برآمد کیے جائیں گے۔
ایک پاکستانی عہدیدار نے عرب نیوز کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد ملک کی برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
یو اے ای اپنے جبیل علی فری زون میں استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرتا ہے، جہاں انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق ریفربش کرنے کے بعد دوبارہ برآمد کیا جاتا ہے، اور اس عمل میں مقامی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس ماڈل سے خلیجی ملک کو قیمتی زرمبادلہ کمانے اور عالمی آٹو موبائل حب بننے میں مدد ملی ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ پائلٹ منصوبہ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی حمایت سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ایس آئی ایف سی غیر ملکی سرمایہ کاری کو کلیدی معاشی شعبوں میں متوجہ کرنے کے لیے 2023 میں قائم کی گئی تھی۔
عہدیدار نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ایس آئی ایف سی اکتوبر 2023 سے اس منصوبے پر کام کر رہا ہے اور اس سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم 2021 کے تحت ریگولیٹری فریم ورک کو ہم آہنگ کرنے میں مدد دی ہے۔‘
انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ منصوبہ کئی سال تک مختلف اداروں کے درمیان ریگولیٹری عدم ہم آہنگی کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا، جس میں وزارت صنعت و پیداوار، وزارت تجارت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ شامل تھے۔
ان کے مطابق ہم آہنگ کیے گئے قواعد کا مقصد پاکستان میں پہلی بار امپورٹ ریفربشمن -ایکسپورٹ (IRE) ماڈل قائم کرنا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر اعظم شہباز شریف برآمدات بڑھا کر پائیدار معاشی ترقی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال اپریل تک برآمدات 6 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ 25.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ گذشتہ سال اسی مدت میں یہ 26.9 ارب ڈالر تھیں۔
حکام کے مطابق اس منصوبے میں ابتدائی طور پر تین کروڑ ڈالر تک سرمایہ کاری متوقع ہے جو بڑھ کر 30 کروڑ ڈالر تک جا سکتی ہے اور اس سے برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس منصوبے کو نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے میں بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کو عالمی آٹو ریفربشمنٹ اور ری ایکسپورٹ ویلیو چین میں شامل کیا جا سکے۔
وزیرِاعظم کے معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے ترجمان شہزاد علی نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی کو انڈسٹری سٹیک ہولڈرز جیسے پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسسریز مینوفیکچررز کے ساتھ مشاورت سے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آیا آئی آر ای منصوبہ نئی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے یا نہیں۔
گھریلو مارکیٹ کے لیے سپلائی نہیں ہوگی
پاکستان کی وزارت تجارت نے گذشتہ ہفتے امپورٹ-کم-ایکسپورٹ سکیم (IPO 2022) اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم (EFS 2021) میں ترمیم کی منظوری حاصل کی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے قوانین میں تبدیلی کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ ایک پائلٹ منصوبے کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد، مرمت، ریفربشمنٹ اور بعد ازاں دوبارہ برآمد کی اجازت ہوگی، جبکہ ایک سال بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا۔
عہدیدار کے مطابق ای سی سی کی منظوری کے بعد یہ منصوبہ ای ڈی بی سے تصدیق شدہ کمپنی آپریٹرز کے ذریعے ریگولیٹڈ فریم ورک میں نافذ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فریم ورک بین الاقوامی بہترین طریقوں خصوصاً دبئی کے جبیل علی ماڈل سے مماثلت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ درآمد کی جانے والی گاڑیوں کو مقررہ مدت کے اندر لازمی طور پر دوبارہ برآمد کرنا ہوگا اور انہیں مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ایک آٹو پارٹس مینوفیکچرر کے مطابق اس اسکیم میں غلط استعمال کو روکنے کے لیے اضافی شقیں شامل کی گئی ہیں اور 100 فیصد گاڑیاں برآمد کرنا لازمی ہوگا، کسی بھی گاڑی کو مقامی مارکیٹ میں فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان میں ٹویوٹا، ہونڈا، سوزوکی، ہنڈائی، کیا موٹرز اور چانگن آٹوموبائل جیسے آٹو مینوفیکچررز پہلے ہی اس تجویز پر خدشات ظاہر کر چکے ہیں کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد ان کے کاروبار کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور فیکٹریوں کی بندش تک نوبت آ سکتی ہے۔
