ماہرین کا کہنا ہے کہ پوپ لیو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی گذشتہ روز ہونے والی ملاقات کے بعد ویٹی کن کی جانب سے جاری کیا جانے والا بیان دو طرفہ تعلقات میں غیر معمولی کشیدگی کا اعتراف ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو ہونے والی یہ ملاقات، پوپ لیو جو پہلے امریکی پوپ ہیں، اور روبیو کے درمیان عوامی سطح پر خاصی توجہ کا مرکز بنی کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار ایران جنگ کے معاملے پر پوپ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
ویٹی کن کے مطابق 45 منٹ کی یہ ملاقات، جو تقریباً ایک سال بعد پوپ اور ٹرمپ کی کابینہ کے کسی رکن کے درمیان پہلی ملاقات تھی، میں دونوں رہنماؤں نے ’اچھے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا دوبارہ اعادہ کیا۔‘
سابق امریکی سفارت کار پیٹر مارٹن نے روئٹرز کو بتایا: ’یہ بیان واضح کرتا ہے کہ فی الحال کام باقی ہے۔‘
ویٹی کن کے ماہر آسٹن ایورے، جنہوں نے مرحوم پوپ فرانسس کے ساتھ ایک کتاب لکھی تھی، نے کہا کہ بیان میں دو طرفہ تعلقات کی تعمیر پر زور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ’اس وقت تعلقات اچھے نہیں ہیں۔‘
امریکی سفارت خانہ برائے ویٹی کن نے ایکس پر کہا کہ پوپ لیو اور روبیو نے ’مغربی نصف کرہ میں باہمی دلچسپی کے موضوعات‘ پر بات کی۔
روبیو نے مزید کہا کہ ’امریکا اور ویٹی کن کے درمیان مذہبی آزادی کو آگے بڑھانے کی شراکت داری مضبوطی سے قائم ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ویٹی کن کے بیان میں پوپ لیو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات کا ذکر کیا گیا، لیکن نہ مغربی نصف کرہ کا ذکر کیا گیا اور نہ ہی مذہبی آزادی کا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’دنیا کی صورت حال پر خیالات کا تبادلہ‘ ہوا، مگر کسی مشترکہ اتفاقِ رائے کا ذکر نہیں کیا گیا سوائے بہتر دو طرفہ تعلقات قائم کرنے کے۔
کینیَتھ ہیکیٹ، جو امریکی کیتھولک چرچ کی غیر ملکی امدادی ایجنسی کے سربراہ رہے اور سابق صدر براک اوباما کے دور میں ویٹی کن میں سفیر بھی رہے، نے کہا کہ ویٹی کن کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’کوئی ٹھوس معاہدے نہیں ہوئے۔‘
ویٹی کن کے لیے یہ غیر معمولی بات ہے کہ وہ کسی غیر ملک کے ساتھ اچھے تعلقات نہ ہونے کا عندیہ دے۔
جمعرات کو پہلے پوپ لیو اور پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کی ملاقات کے بعد، ویٹی کن نے کہا کہ اس کے سفارتی حکام نے ٹسک کے ساتھ ملاقات میں ’اچھے تعلقات پر اطمینان‘ کا اظہار کیا۔
پیٹر مارٹن، جو 2017 میں صدر ٹرمپ کے پوپ فرانسس کے ساتھ ویٹی کن کے دورے کے وقت امریکی سفارت خانے میں کام کر رہے تھے، نے نشاندہی کی کہ اس وقت ویٹی کن کے بیان میں بھی یہی الفاظ استعمال کیے گئے تھے کہ ’اچھے تعلقات پر اطمینان‘ کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ امریکہ اور ویٹی کن کے تعلقات کے بارے میں تھا۔
مارٹن کا کہنا ہے کہ ’سفارت کاری کی دنیا میں خاص طور پر ویٹی کن کی سفارت کاری میں ہر لفظ اہمیت رکھتا ہے۔‘
پوپ لیو نے صدر ٹرمپ کی ناراضی اس وقت مول لی جب وہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران جنگ اور ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر مخالف امیگریشن پالیسیوں کے ناقد بن گئے۔
ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں پوپ پر غیر معمولی عوامی تنقید کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جس پر سیاسی میدان کے مختلف حلقوں کے مسیحی رہنماؤں نے ردعمل دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ، پوپ لیو سے جو ایک سال قبل پوپ بنے، کبھی ملاقات نہیں کر پائے۔
یہ بھی غیر معمولی تھا کہ ویٹی کن کے بیان میں جمعرات کو پوپ اور روبیو کی ملاقات کے دوران ہونے والی بات چیت کے مندرجات کو ظاہر کیا گیا۔
عام طور پر ایسے بیانات نہایت احتیاط سے لکھے جاتے ہیں اور صرف ان موضوعات کو ظاہر کرتے ہیں جو کسی آنے والے عہدیدار کی سینیئر ویٹی کن سفارت کاروں سے ملاقات میں زیرِ بحث آئے ہوں، نہ کہ پوپ کے ساتھ ملاقات میں۔
ویٹی کن کے ماہر آسٹن ایورے نے کہا کہ ویٹی کن کو یہ بیان جاری کرنا پڑا کیونکہ میڈیا کی دلچسپی بہت زیادہ تھی اور ’وائٹ ہاؤس کے کسی بھی موقف سے پہلے ہی وضاحت دینا ضروری تھا۔‘
آخری بار ویٹی کن نے پوپ کی ملاقات کی تفصیلات اس طرح ظاہر کی تھیں جب ستمبر میں پوپ لیو نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ سے ملاقات کی تھی اور اس وقت جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پوپ نے ہرزوگ کے ساتھ ’غزہ کی المناک صورت حال‘ کا ذکر کیا۔
