’جنگ سے قبل خرچہ 10 اور اب 30 ہزار‘: مہنگے ڈیزل سے ماہی گیر بھی پریشان

ایران پر امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پاکستان کے ماہی گیروں کی مشکلات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

خصوصاً کراچی کی ساحلی پٹی پر قائم ماہی گیروں کی قدیم بستی ابراہیم حیدری کے رہائشی اس مشکل صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔

ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی اضافے کے باعث وہ اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ان کے اخراجات تین گنا بڑھ چکے ہیں جبکہ مچھلی کی قیمتیں پرانی سطح پر برقرار ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی ماہی گیر میر نے کہا: ’جنگ سے قبل جب وہ مچھلی کے شکار کے لیے نکلتے تھے تو ان کا خرچہ 10 ہزار روپے تک ہوتا تھا، مگر اب اخراجات 30 ہزار روپے تک پہنچ چکے ہیں، یعنی اخراجات تین گنا بڑھ گئے ہیں۔‘

ماہی گیر نے بتایا کہ ’سمندر میں شکار کے لیے جانے والی کشتیوں میں ڈیزل استعمال ہوتا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اخراجات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ روزگار کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ’مچھلی کے شکار پر آنے والی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگر مارکیٹ میں مچھلی کے نرخ نہیں بڑھائے جا رہے، جس کے باعث ہماری آمدن میں نمایاں کمی ہو گئی ہے اور ہمیں منافع نہیں ہو رہا۔‘

حکومتِ سندھ نے دیگر شعبوں کی طرح ماہی گیروں کے لیے بھی فیول سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کراچی سمیت ٹھٹھہ، بدین اور سجاول کے اضلاع کے ماہی گیروں کے لیے 51 کروڑ پانچ لاکھ روپے کی فیول سبسڈی کی منظوری دی گئی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’کابینہ نے ماہی گیروں کو فوری مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے 51 کروڑ پانچ لاکھ روپے کا فیول سبسڈی پیکج منظور کر لیا ہے۔ پیکج کے تحت سبسڈی دو ماہ کے ایندھن اخراجات میں ریلیف فراہم کرے گی۔‘

پریس ریلیز کے مطابق فیول سبسڈی پیکج سے نو ہزار 634 رجسٹرڈ کشتیوں کے ماہی گیروں کو فائدہ ہوگا۔

اس پیکج کے تحت 18 سے 20 فٹ لمبی چھوٹی کشتیوں کے لیے دو لاکھ روپے دیے جائیں گے، جس کے لیے 46 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، جبکہ 10 سے 15 فٹ لمبی کشتیوں کے لیے ایک لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔ ان رجسٹرڈ کشتیوں کی تعداد 488 ہے۔

ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین مہران شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’سندھ حکومت نے ماہی گیروں کے لیے سبسڈی کا اعلان تو کیا ہے، تاہم تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔‘

مہران شاہ نے کہا: ’اس سبسڈی سے زیادہ فائدہ بڑے سرمایہ کاروں کو ہوگا کیونکہ رجسٹرڈ کشتیاں زیادہ تر انہی کے پاس ہیں۔‘

ان کے مطابق: ’مقامی ماہی گیروں کے پاس اتنا سرمایہ نہیں کہ وہ بڑی کشتیاں خرید سکیں۔ ان کے پاس ہوڑیاں (چھوٹی کشتیاں) ہیں یا وہ دیہاڑی پر ماہی گیری کرتے ہیں، اس لیے انہیں اس سبسڈی کا کم فائدہ ہوگا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جون اور جولائی میں دو ماہ کے لیے مچھلی کے شکار پر پابندی بھی لگنے والی ہے، ایسے میں ماہی گیر شدید مالی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *