پولیس نے جمعرات کو بتایا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں بازار پر مارٹر گولے گرنے سے دو بچوں سمیت چھ افراد جان سے چلے گئے۔
یہ حملہ ضلع ہنگو کے علاقے ٹل میں ہوا، جو افغانستان سے متصل ہے اور پاکستان کے سابق قبائلی علاقوں کے قریب بھی واقع ہے۔
مقامی پولیس افسر طارق حبیب نے بتایا کہ دھماکے میں 13 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سے تین کی حالت تشویش ناک بتائی گئی، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
طارق حبیب نے مزید بتایا کہ ’جب زخمیوں کو منتقل کرنے کی کوششیں جاری تھیں تو حملہ آوروں نے دوبارہ اسی مقام کو نشانہ بنایا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔
حکام نے بتایا کہ مزید حملوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ہنگو میں طویل عرصے سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے شدت پسند گروہوں کی جانب سے وقفے وقفے سے شدت پسندی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جو اس علاقے میں سرگرم ہے۔
تجزیہ کاروں اور پاکستانی حکام کے مطابق 2021 میں افغان طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد پاکستان میں ایسے گروہوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اسلام آباد ہمسایہ ملک افغانستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر پناہ لینے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہا ہے، جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، تاہم کابل میں طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔
