دفاتر میں خواتین کی موجودگی بڑھتی ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔ بہت سی خواتین چند سال بعد خاموشی سے بغیر کسی شور اور احتجاج کے کام چھوڑ دیتی ہیں۔
ان کے جانے کی وجہ اکثر ’ذاتی فیصلہ‘ کہہ کر نظر انداز کر دی جاتی ہے، حالانکہ اس فیصلے کے پیچھے ایک ایسا نظام ہوتا ہے جو خواتین کے لیے کام اور زندگی کو ساتھ لے کر چلنا تقریباً ناممکن بنا دیتا ہے۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق خواتین کی معاشی شرکت کی شرح صرف 21.4 فیصد ہے۔ یعنی ہر پانچ میں سے صرف ایک خاتون باقاعدہ ملازمت کر رہی ہے، جبکہ دنیا بھر میں یہ اوسط 51 فیصد سے زائد ہے۔
دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ ایک عالمی تناظر
یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں۔ امریکہ جیسے امیر ترین ممالک میں بھی یہ بڑھ رہا ہے۔
ادارہ ’کیٹالسٹ‘ جو کام کی جگہ پر برابری کے موضوع پر تحقیق کرتا ہے، کی 2025 کی تحقیق کے مطابق امریکہ میں:
- صرف 2025 کے پہلے آٹھ مہینوں میں 455,000 سے زائد خواتین افرادی قوت سے باہر ہوئیں
- 42 فیصد کو ملازمت سے ہٹایا گیا
- 58 فیصد نے بظاہر ’خود نوکری چھوڑی‘، مگر ’خود‘ اتنا سادہ نہیں
- 42 فیصد نے بچوں اور گھر کی دیکھ بھال کو بنیادی سبب بتایا
- ہر پانچ میں سے ایک خاتون کے لیے بچوں کی نگہداشت کے اخراجات بہت زیادہ تھے
- تقریباً 40 فیصد دفاتر میں فلیکسیبل اوقاتِ کار کی سہولت نہیں تھی
کیٹالسٹ کی سربراہ جینیفر میک کلم نے واضح کیا کہ ’یہ فیصلے خواہش کی کمی نہیں دکھاتے۔ یہ اس نظام کی حقیقت ہیں جو دیکھ بھال کی ذمہ داری کو تسلیم نہیں کرتا۔‘
عالمی سطح پر آئی ایل او نے اکتوبر 2024 کی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ دنیا بھر میں 708 ملین خواتین بلا معاوضہ کام کی وجہ سے افرادی قوت سے باہر ہیں۔
پاکستان کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
پاکستان ادارۂ شماریات سروے کے مطابق:
- مردوں کی معاشی شرکت کی شرح 67.9 فیصد ہے
- خواتین کی معاشی شرکت کی شرح صرف 21.4 فیصد ہے یعنی جنوبی ایشیا میں سب سے کم
- عالمی اوسط 51 فیصد کے مقابلے میں پاکستان اس سے 30 فیصد پوائنٹس پیچھے ہے
- شہری خواتین کی شرکت صرف 10 فیصد ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں 28 فیصد
- دیہی خواتین میں سے 63 فیصد بغیر اجرت خاندانی کام میں شامل ہیں
یہ فرق ایک اہم تجزیاتی نکتہ ہے۔ شہری خواتین کے لیے چائلد کیئر کی سہولتوں کی کمی، دفاتر میں تحفظات، اور سماجی دباؤ۔ جبکہ دیہی خواتین کا 63 فیصد بغیر اجرت خاندانی کام کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کا کام معیشت میں شمار ہی نہیں ہوتا۔
معاشی نقصان: وہ بوجھ جو نظر نہیں آتا
اگر خواتین مردوں کے برابر معاشی سرگرمیوں میں شریک ہوں تو:
- پاکستان کی جی ڈی پی میں 30 فیصد تک اضافہ ممکن ہے — عالمی مالیاتی فنڈ
- جنوبی ایشیا میں صنفی فرق ختم ہونے سے 12 کھرب ڈالر تک معاشی اضافہ ممکن ہے — میک کنزی گلوبل انسٹیٹیوٹ
- پاکستانی خواتین کے بلا معاوضہ کام کی مالیت ایک چوتھائی قومی پیداوار کے برابر سمجھی جاتی ہے
عالمی ادارے کیا کہتے ہیں؟
آئی ایل او کے پاکستان میں ڈائریکٹر گیر ٹونسٹول نے اکتوبر 2025 میں کہا تھا کہ ’پاکستان میں 117.4 ملین افراد گھریلو اور بلا معاوضہ نگہداشت کے کام میں مصروف ہیں، جن میں 66.7 ملین خواتین ہیں۔ یہ تبھی ایک مثبت چکر بنائے گا جب بہتر سماجی تحفظ، باعزت روزگار اور مضبوط معیشت ایک ساتھ پیدا ہوں۔‘
آئی ایل او کے مطابق پاکستان میں تقریباً 60 فیصد خواتین ہفتے میں 15 گھنٹے سے زائد گھریلو نگہداشت کا کام کرتی ہیں، جبکہ مرد بہت کم وقت لگاتے ہیں۔ مرد اندازن 28 منٹ یومیہ گھر کا کام کرتے ہیں۔ یہ عدم توازن براہِ راست خواتین کی معاشی شرکت کو متاثر کرتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ خواتین جو اس نظام سے متاثر ہوئیں
یہ مسئلہ صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ یہ ان خواتین کی زندگیوں کا مسئلہ ہے جو ہر روز اس نظام سے لڑتی ہیں۔
سابق یونیورسٹی لیکچرر سمیہ عابد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں لیکچرر تھی، مجھے اپنا کام پسند تھا۔ لیکن دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد ادارے کی طرف سے کوئی سہولت نہیں ملی۔
’نہ بچوں کی دیکھ بھال کی جگہ، نہ آرام دہ اوقات۔ میں گھر اور کلاس دونوں اکیلے سنبھال رہی تھی۔ اتنا بوجھ اٹھانا مشکل تھا اور مجھے آخر کار نوکری چھوڑنی پڑی۔‘
سمیہ عابد کا واقعہ انفرادی نہیں۔ آئی ایل او کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کی افرادی قوت میں واپسی کی شرح پاکستان میں انتہائی کم ہے، اور اس کی بڑی وجہ چائلڈ کیئر کی کمی ہے۔
سرکاری افسر آمنہ جین بتاتی ہیں کہ ’میں نے نوکری نہیں چھوڑی، لیکن روز چھوڑنے کا خیال ضرور آتا ہے۔
’میری بیٹی پیدا ہونے کے بعد میری صحت متاثر ہوئی کیونکہ میں دو فل ٹائم ذمہ داریاں نبھا رہی تھی۔ ایک جس کی حکومت تنخواہ دیتی ہے، اور ایک جس کی کوئی تنخواہ نہیں۔‘
آمنہ کہتی ہیں کہ ’ہماری سوسائٹی کہتی تو ہے لیکن اصل میں ورکنگ خواتین کو قبول نہیں کر سکی- گھر کا خرچ پورا کرنے کے لیے مجھے نوکری کرنی پڑتی ہے۔‘
ایک نجی کمپنی کی ایچ آر ڈائریکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’خواتین کے لیے صرف ملازمت دینا کافی نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ادارے انہیں برقرار رکھنے کے لیے کیا کرتے ہیں۔
’اگر فلیکسیبل اوقات، گھر سے کام، بچوں کی نگہداشت اور محفوظ ماحول نہ ہو تو خواتین آہستہ آہستہ نظام سے باہر ہو جاتی ہیں۔‘
انہون نے مزید کہا کہ عورتوں کے کام چھورنے کی اکثر یکساں وجوہات ہوتی ہیں: شادی، بچے، گھر کا دباؤ، چائلڈ کیئر سسٹم نا ہونا۔
لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی خواتین کے لیے پالیسیاں بناتی ہے۔ ان کے ادارے میں:
- خواتین کی نمائندگی تقریباً 22.2 فیصد ہے
- صنفی برابری اور شمولیت سے متعلق مکمل پالیسی موجود ہے
- اعلیٰ انتظامیہ خواتین کی بھرتی، ترقی اور ملازمت چھوڑنے کے اعداد و شمار باقاعدگی سے دیکھتی ہے
- ماؤں کے لیے معاون پالیسیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے
ان کے مطابق، ’پالیسی صرف کاغذ پر نہیں ہونی چاہیے، اسے روزمرہ کام کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔‘
قانون کیا کہتا ہے اور حقیقت کیا ہے؟
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے قوانین موجود ہیں، لیکن ان قوانین اور زمینی حقیقت کے درمیان ایک گہری خلیج ہے جسے ابھی تک پر نہیں کیا جا سکا۔
میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس 1958:
1958 کا میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس پاکستان کا بنیادی قانون ہے۔ صوبوں نے اسے مختلف اوقات میں اپ ڈیٹ کیا ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مدت اور شرائط مختلف ہیں، عموماً 12 سے 16 ہفتوں کے درمیان۔
جہاں نظام بدلا، وہاں خواتین رکیں
پاکستان میں چند ادارے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی ایچ آر پالیسیوں میں تبدیلی کی ہے، اور نتائج واضح ہیں۔
ایچ آر ڈائریکٹر نے اس بارے میں بتایا کہ ’تمام چھ ماہ کی تنخواہ سمیت میٹرنٹی چھٹی ہے، ڈے کیئر ہے، نینی الاؤنس ہے، ہائبرڈ ورک ہے، پک اینڈ ڈراپ ہے، اور اگر کیریئر بریک کے بعد واپس آنا ہو تو باقاعدہ پروگرام ہے۔ وہاں خواتین رکتی ہیں۔ یہی بتاتا ہے کہ وہ کیوں جاتی ہیں جہاں یہ سہولتیں نہیں ہوتیں۔‘
