خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے عمائدین پر مشتمل جرگے نے پیر کو اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں اطراف سے کسی قسم کی فائرنگ نہیں ہو گی جبکہ کسی بھی جنگی صورت حال کے دوران عام آبادی کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
باجوڑ اور افغانستان کے سرحدی علاقے نواپاس میں منعقد ہونے والے اس جرگے میں باجوڑ اور کنڑ کے مشران شریک ہوئے اور تفصیلی گفتگو کے بعد معاہدے پر پہنچ گئے۔
باجوڑ جرگے کی سربراہی کرنے والے باجوڑ چیمبر آف کامرس کے صدر لعلی شاہ پختون یار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ دو مہینوں سے کنڑ کے مشران میرے ساتھ رابطے میں تھے اور اسی سلسلے میں امن قائم کرنے کی خاطر ہم جرگہ بلانے پر غور کر رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں اطراف کی کوششوں سے جرگہ کامیابی سے منعقد ہوا، جس میں مختلف فیصلے کیے گئے اور اس میں سر فہرست فائر بندی ہے کہ دونوں جانب سے کسی قسم کی فائرنگ نہیں کی جائے گی۔‘
لعلی شاہ نے بتایا: ’جرگہ اس بات پر بھی متفق ہوگیا کہ اگر پاکستانی طرف سے فائرنگ ہوئی تو پاکستان کی حکومت اور اگر افغانستان کی جانب سے فائرنگ کی گئی تو افغان طالبان ذمہ دار ہوں گے۔‘
جرگے کے معاہدے (جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے) پر دونوں جانب کے عمائدین کے دستخط موجود ہیں اور اس میں لکھا گیا ہے کہ یہ جرگہ دونوں حکومتوں کی اجازت سے کیا گیا ہے۔
جرگے کے فیصلے کا اطلاق کن علاقوں پر ہوگا؟
ضلع باجوڑ کی سرحد افغانستان کے صوبہ کنڑ سے ملتی ہے، جس میں ضلع مہمند کے علاقے بھی شامل ہیں۔ گذشتہ پانچ چھ ماہ میں اسی سرحد پر کافی کشیدگی بھی دیکھی گئی ہے۔
باجوڑ کے علاوہ بھی گذشتہ چھ مہینوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدیں بند ہیں۔
باجوڑ کے سرحدی علاقے واڑہ ماموند اور لوئے ماموند میں کشیدہ حالات کی وجہ سے آپریشن بھی کیا گیا تھا اور لوگوں نے وہاں سے نقل مکانی بھی کی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جرگے کے معاہدے کے مطابق اس امن معاہدے کا اطلاق کنڑ کے علاقے دانگام سے باجوڑ تک اور باجوڑ کے علاقے شاہی سے مہمند کی سرحد تک ہوگا۔
معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ دونوں جانب کی سکیورٹی فورسز اپنی سابقہ پوسٹوں پر واپس چلی جائیں گی اور ایک دوسرے کے علاقوں میں تجاوز نہیں کریں گی۔
اسی طرح جرگے میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جانب نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو دوبارہ اپنے اپنے علاقوں میں آنے کی اجازت ہو گی اور دونوں جانب عام لوگوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
باجوڑ جرگے کے سربراہ لعلی شاہ نے بتایا کہ ’اس جرگے میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ہر تین مہینے بعد جرگہ اراکین ملیں گے اور معاہدے کی شقوں میں کسی بھی مسئلے کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔
لعلی شاہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا پاکستانی حکومت یا سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس جرگے کو حمایت حاصل تھی، تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جرگہ عوامی درخواست پر کیا گیا تھا۔‘
تاہم جرگے کے بعد لعلی شاہ نے بتایا کہ ’ہم نے حکومتی اداروں کو درخواست کی کہ جرگے کے معاہدے کی پاسداری کی جائے اور ہماری درخواست قبول کی گئی ہے۔‘
چند ہفتے قبل چترال اور افغانستان کے سرحدی علاقے نورستان کے عمائدین کے درمیان بھی اسی قسم کا ایک جرگہ منعقد ہوا تھا، جس میں امن معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔
اس معاہدے میں ایسی شقیں شامل تھیں کہ دونوں جانب سے فائر بندی ہوگی اور آبادی والے علاقوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
اس معاہدے کے بعد نورستان اور چترال کے درمیان ارندو پاس کو بھی کھول دیا گیا تھا اور جرگہ اراکین کے مطابق اس جرگے کو حکومتی حمایت حاصل تھی۔
باجوڑ جرگے کی حکومتی حمایت کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے اور ضلعی انتظامیہ کا موقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
