ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں تعطل، تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ
جمعے کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ ایران جنگ کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں جب کہ تہران نے آبنائے ہرمز اور امریکی بحریہ نے ایرانی خام تیل کی برآمدات کو بند کر رکھا ہے۔
روئٹرز کے مطابق گرینچ معیاری وقت کے مطابق یکم مئی کو صبح چار بج کر 21 منٹ پر جولائی کے لیے برینٹ کروڈ کی قیمت 1.04 ڈالر یعنی 0.94 فیصد اضافے کے ساتھ 111.44 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکسس انٹرمیڈیٹ 41 سینٹ یعنی 0.39 فیصد بڑھ کر 105.48 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
دونوں بینچ مارکس میں مسلسل چار ماہ تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ برینٹ کا جون کا معاہدہ، جس کی مدت جمعرات کو ختم ہو گئی، 126.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیوں کہ نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو گئی اور دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل معطل ہو گئی تھی۔
صرف مارچ میں برینٹ کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔
آٹھ اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کی شام کہا کہ امریکی مذاکرات سے فوری نتائج کی توقع رکھنا مناسب نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میری رائے میں، اس بات سے قطع نظر کہ ثالث کون ہے، کم وقت میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی توقع کرنا زیادہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔‘
دن کے آغاز میں، ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک اعلیٰ اہلکار نے دھمکی دی کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر دوبارہ حملے کیے تو امریکی ٹھکانوں پر ’طویل اور تکلیف دہ حملے‘ کیے جائیں گے، جس کے بعد تیل کی قیمتیں گرنے سے پہلے دن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش کی قیمت پوری انسانیت ادا کر رہی ہے: انتونیو گوتریش
اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریش نے آبنائے ہرمز کے علاقے میں جہاز رانی کے حقوق اور بحری نقل و حرکت کی آزادیوں کو محدود کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی قیمت پوری انسانیت ادا کر رہی ہے اور عالمی معشیت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔
انہوں نے جمعے کو اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’مجھے آبنائے ہرمز کے علاقے میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو محدود کیے جانے پر سخت تشویش ہے جس سے توانائی، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ اور خوراک کی منڈیاں درہم برہم ہو رہی ہیں اور عالمی معیشت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔‘
I’m deeply concerned about the curtailment of navigational rights & freedoms in the area of the Strait of Hormuz disrupting energy, transport, manufacturing & food markets & strangling the global economy.
All of humanity is paying the price.
Consider these three scenarios:
1:…
— António Guterres (@antonioguterres) April 30, 2026
انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کے پیش نظر تین طرح کی صورت حال کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہی پابندی ہٹانے کی صورت میں فراہمی کا سلسلہ بحال ہونے میں مہینوں لگیں گے جس سے معاشی پیداوار میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ طویل ہو جائے گا۔
عالمی معاشی شرح نمو 3.4 فیصد سے کم ہو کر 3.1 فیصد رہ جائے گی۔ عالمی مہنگائی، جس میں کمی آ رہی تھی 3.8 فیصد سے بڑھ کر 4.4 فیصد ہو جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انتونیو گوتریش کے مطابق اگر تعطل سال کے وسط تک جاری رہے رہا تو شرح نمو کم ہو کر 2.5 فیصد رہ جائے گی۔ مہنگائی 5.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تین کروڑ 20 لاکھ افراد غربت میں دھکیل دیے جائیں گے۔ کھاد کی قلت پیدا ہو جائے گی، اور فصلوں کی پیداوار کم ہو جائے گی۔ مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے مزید لکھا ہے کہ سخت رکاوٹیں رواں سال کے آخر تک جاری رہنے کی صورت میں مہنگائی تیزی سے بڑھ کر چھ فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔ شرح نمو گر کر دو فیصد رہ جائے گی۔ خاص طور پر دنیا کی کمزور ترین آبادیوں کو بے پناہ مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں عالمی کساد بازاری کے خطرے کا سامنا ہے، جس کے لوگوں، معیشت اور سیاسی و سماجی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔‘
