بلوچستان: خضدار حملے میں جان سے جانے والی ملک ناز پولیس کا حصہ کیوں بنیں؟

رواں ماہ کے وسط میں بلوچستان کے علاقے خضدار میں مسلح افراد کے حملے میں ماری جانے والی پولیس اہلکار ملک ناز اپنے شوہر کی ایک ایسے ہی حملے میں موت کے بعد اپنے تین بچوں کی کفالت کے لیے پولیس فورس کا حصہ بنی تھیں۔

 اس حملے میں ملک ناز کے علاوہ ایک اور پولیس اہلکار بھی جان سے گیا۔

پولیس کے مطابق خضدار کے علاقے باغبانہ باجوئی میں مسلح افراد نے ایک واردات کے دوران ملک ناز اور ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ باجوئی کو اسلحہ پھینکنے کے لیے کہا لیکن جب انہوں ایسا نہیں کیا تو ان پر فائرنگ کر دی گئی۔

ملک ناز کے شوہر کانسٹیبل عبدالغنی بھی 2011 میں پولیس میں فرائض انجام دہی کے دوران خضدار کے علاقے چمروک میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے جس کے بعد 2013 میں ملک ناز ’شہید کوٹہ‘ پر پولیس میں بھرتی ہوئی تھیں۔

ان کے تین بچے ہیں جن کے نام سمیر احمد، شمائلہ اور سمیہ بی بی ہیں، جن کو تعلیم دلانے کے لیے ان کی والدہ ملک ناز نے والد کے وفات کے بعد پولیس فورس جوائن کی۔

سمیر احمد نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’والد کے گزرنے کے بعد وہ ہمارا سہارا تھیں۔ کفالت سے لے کر بہترین تعلیم تک جتنا ان سے ہو سکا ہماری خاطر کیا۔ میرا اب یہی ارادہ ہے کہ میں خود تعلیم حاصل کرکے اور اپنی بہنوں کو تعلیم دلاؤں اور اپنے والدین کی خواہش اور مشن کو پورا کروں گا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیڈی کانسٹیبل کے بیٹے سمیر احمد نے مزید کہا ’میری امی چاہتی تھیں کہ میں بڑا ہو کر ایک وکیل بنوں انہیں محکمہ کی جانب سے جب ڈیوٹی کے لیے بُلاوا آتا تھا وہ دن رات اور سردی گرمی اور بیماری اور ہماری فکر کو چھوڑ کر ڈیوٹی پر جاتی تھیں۔‘

لیڈی کانسٹیبل سمرین نے انڈپینڈنٹ اردو سےکو بتایا کہ ’ملک ناز خضدار میں سب سے سنییئر اور قابل سپاہی تھیں وہ ہر مشکل آپریشن میں حصہ لیتی تھیں۔‘

ایڈیشنل ایس پی خضدار عبدالقدوس نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس علاقے میں خواتین کا پولیس فورس میں شامل ہونا اور فعال کردار ادا کرنا اتنا آسان نہیں لیکن ’ملک ناز ایک بہادر، فرض شناس اور خضدار میں سب سے سنییئر پولیس کانسٹیبل تھیں جنہوں نے کبھی بھی فرائض کی ادائیگی کے دوران کوئی بہانہ نہیں بنایا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *