پہلی ہی گیند پر کوہلی کا کیچ گرانا گجرات ٹائٹنز کو لے ڈوبا

ویراٹ کوہلی نے صفر پر کیچ ڈراپ کرنے کی سزا گجرات ٹائٹنز کو جارحانہ نصف سینچری کی صورت میں دے دی جب کہ رائل چیلنجرز بنگلورو نے جمعے کو انڈین پریمیئر لیگ کے میچ میں باآسانی پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر لی۔

چناسوامی سٹیڈیم میں رجت پاٹیدار کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بائیں ہاتھ کے اوپنر سائی سدھرسن کی تیسری آئی پی ایل سینچری گجرات کے تین وکٹوں پر 205 رنز کے سکور کی بنیاد بنی۔

کوہلی (81) اور دیودت پاڈیکل (55) نے دوسری وکٹ کے لیے 115 رنز کی شاندار شراکت کے دوران بولنگ کے پرخچے اڑا دیے، جس سے اس مقام پر بنگلورو کے سیزن کے آخری لیگ میچ میں سٹیڈیم میں موجود تمام تماشائیوں نے لطف اٹھایا۔

ہدف کے تعاقب کے پہلے ہی اوور میں محمد سراج کی پہلی گیند پر واشنگٹن سندر نے مڈ وکٹ پر کوہلی کا کیچ چھوڑ دیا۔ انہوں نے دلکش سٹروکس کھیل کر گجرات کو اس فراخدلی کی بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر دیا۔

زخمی ہم وطن فل سالٹ کی جگہ سیزن کا اپنا پہلا میچ کھیلنے والے انگلش کھلاڑی جیکب بیتھل کی صورت میں بنگلورو نے تیسرے اوور میں اپنی پہلی وکٹ گنوا دی۔

اس کے بعد کوہلی اور پاڈیکل نے دلکش سٹروکس کی نمائش شروع کی، جس میں خالص طاقت کے بجائے ٹائمنگ اور خوبصورتی نمایاں تھی۔

دراز قد بائیں ہاتھ کے بلے باز پاڈیکل نے اپنے لمبے قد کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے شاندار چھکوں کی مدد سے ابتدا میں تیزی سے رنز بنائے، جبکہ کوہلی ان سے تھوڑا ہی پیچھے تھے۔

پاڈیکل نے 20 گیندوں پر پہلے اپنی نصف سنچری مکمل کی، جبکہ کوہلی نے اس سنگ میل تک پہنچنے کے لیے 30 گیندیں لیں، جس کے بعد پاڈیکل افغانستان کے لیگ سپنر راشد خان کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

کوہلی نے کہا، ’چناسوامی میں 200 رنز کے تعاقب میں ہم بس ایک شراکت داری کی دوری پر تھے۔

’آپ انہیں (پاڈیکل کو) کبھی آنکھیں بند کر کے بلّا گھماتے ہوئے نہیں دیکھیں گے، پھر بھی وہ اتنی آزادی سے کھیل رہے ہیں۔ پہلے ہاف میں ان کی اننگز نے واضح فرق پیدا کیا اور پھر میں کریز پر موجود رہنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ ان پر دباؤ نہ آئے۔‘

کوہلی نے رنز بنانے کا سلسلہ جاری رکھا، اور ابھیشیک شرما کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی (328) بن کر اورنج کیپ اپنے نام کر لی۔

ویسٹ انڈیز کے جیسن ہولڈر کی گیند پر بلے کا اندرونی کنارہ لگنے سے ان کے بولڈ ہونے پر بیٹنگ لائن کچھ لڑکھڑا گئی، لیکن پھر آسٹریلیا کے ٹم ڈیوڈ اور کرونال پانڈیا نے بغیر کسی پریشانی کے ہدف پورا کر لیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گجرات کی اننگز پر جارحانہ انداز اپنانے والے سدھرسن کا غلبہ رہا، جنہوں نے ابتدائی مراحل میں زیادہ تر گیندیں خود کھیلیں جبکہ کپتان شبمن گل نے پہلے پانچ اوورز میں صرف تین گیندوں کا سامنا کیا۔

128 رنز کی اوپننگ شراکت میں واضح طور پر حاوی رہنے والے سدھرسن نے ڈھیروں باؤنڈریز لگا کر ٹورنامنٹ میں اپنے سست آغاز کے تاثر کو زائل کر دیا۔

220 رنز کے لگ بھگ مجموعے کی بنیاد رکھی جا چکی تھی لیکن آخر میں بنگلورو نے اپنے تجربہ کار سیمرز بھونیشور کمار اور آسٹریلوی جوش ہیزل ووڈ، اور متاثر کن راسخ سلام کے ذریعے شاندار واپسی کی۔

انہیں 200 کا ہندسہ عبور کرنے کے لیے پانڈیا کے آخری اوور میں ہولڈر کے دو چھکوں کی ضرورت پڑی، جو ایک مسابقتی سکور تو تھا لیکن کافی بالکل نہیں تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *