ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے نہ صرف تیل کی فراہمی کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کی وجہ سے دوسری اشیا کی ترسیل میں بھی شدید مشکلات درپیش ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان مشکلات کی وجہ سے کئی علاقوں میں انسانی المیے کی صورت حال مزید سنگین ہو سکتی ہے اور اس سے عالمی معیشت کو بھی مزید جھٹکا لگ سکتا ہے۔
ان اداروں کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور فلپائن سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں مشرق وسطی کی کشیدگی کی وجہ سے زرعی اجناس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صرف براعظم ایشیا میں چار کروڑ 55 لاکھ سے زائد لوگ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملنے والی امداد کے منتظر ہیں۔
آبنائے ہرمز سے نہ صرف یہ کہ دنیا کے 20 فیصد سے زیادہ تیل کی سپلائی ہوتی ہے بلکہ کھاد کے خام مال کی ایک تہائی تجارت بھی اسی اہم گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے امونیا اور نائٹروجن کی فراہمی میں بھی بہت بڑا تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ تعطل کسی حد تک پہلے ہی پیدا ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے بنگلہ دیش میں سرکاری کھاد کی فیکٹریوں میں پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب وہاں چاول کی اگائی کا موسم سر پر ہے۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اگر یہی صورت حال رہی تو ایشیا میں 91 لاکھ لوگ مزید عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں گے۔
مشرق وسطی سے دنیا کا 27 فیصد امونیا 22 فیصد فاسفیٹ اور 45 فیصد سلفر برآمد کیا جاتا ہے اور یہ سب کھاد کی پیداوار کے لیے بہت اہم ہیں۔ دنیا کی ایک تہائی نائٹروجن کھاد آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ معمولی سا خلل بھی عالمی نظام فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے۔
سعودی عرب فاسفورس کی برآمد کرنے والے چار بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور اسے یہ برآمد کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس ساری صورت حال کے پیش نظر فاسفیٹ کی قیمتیں مذید اوپر جا سکتی ہیں۔
زراعت اور غذائی عدم تحفظ کے علاوہ صنعتی پیداوار بھی اس صورت حال سے بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر تائیوان میں برقی آلات کی پیداوار 25 اشاریہ دو فیصد تک متاثر ہو سکتی ہے۔
مشرق وسطی دنیا کی تقریبا آدھی ایتھلین گلائکول فراہم کرتا ہے جبکہ یہ علاقہ ایک تہائی عالمی پولیتھین بھی فراہم کرتا ہے جس کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے چین اور ویتنام میں پیداواری شعبہ بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔ المونیم کی کمی کی وجہ سے شمالی افریقہ میں گاڑیوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
مشرق وسطی میں کشیدگی کے حوالے سے یورپ اور ایشیا کے درمیان ہوائی سفر بھی بہت متاثر ہوا ہے۔ صورت حال نے بہت ساری کمپنیوں کو طویل راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے جس سے ان کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ کمپیوٹر چپس، فائبر اپٹک کیبل اور میڈیکل امیجنگ سسٹمز بھی اس کشیدگی کی زد میں آگئے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغرب اور دوسرے متعلقہ فریق ممالک میں حکمران اشرافیہ پوری دنیا کی عوام کے ان مسائل کو کیوں نظر انداز کر رہی ہے؟
ایک طرف کرڑوں عوام کی یہ مشکلات ہیں اور دوسری طرف اس جنگ سے ہتھیاروں اور کچھ دوسری طرح کی کمپنیوں کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔
امریکہ میں حکمراں طبقات کے کچھ افراد بھی اس موقع کا فائدہ اٹھا کر مشرق وسطی میں مختلف ممالک سے ڈرون اور ہتھیاروں کے کاروباری معاہدے کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی کمزوری، یورپ کے کم ہوتے ہوئے اثر ورسوخ جب کہ چین اور روس کی اپنی مجبوریوں کے پیش نظر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حاکم طبقات کو اس جنگی جنون سے روکنا آسان نہیں ہے۔
تاہم ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ جب امریکہ کے حاکم طبقات نے عالمی اداروں کے اصول و ضوابط کو اپنے پیروں تلے روندا اور اپنے جنگی جنون کو ویتنام، لاؤس، کمبوڈیا اور دوسرے ممالک پر مسلط کیا تو ایسے میں یہ امریکی عوام تھی، جس نے امریکی حکمرانوں کی اس متکبرانہ سوچ کو خاک میں ملانے کے لیے سڑکوں کا رخ کیا اور بڑے پیمانے پر اپنی حکومت کی جنگی پالیسی کی بھرپور مخالفت کی، جس سے لاکھوں انسان موت کی دلدل میں پھنس رہے تھے۔
اسرائیل میں بھی ماضی کے تنازعات اور جنگوں کے دوران کچھ ایسے باضمیر لوگ اٹھے ہیں جنہوں نے اپنی حکومت کی کھل کے مخالفت کی ہے اور اسے حد سے تجاوز کرنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیبیا، شام، عراق اور لبنان کا عسکری طورپر جنازہ نکالنے کے بعد عسکری طور پہ خطے میں صرف اسرائیل ہی سب سے طاقتور ملک ہے جب کہ امریکہ عالمی سطح پر طاقت کا منبع ہے۔
ایسے میں صرف ان دونوں ممالک کی عوام ہی بڑے پیمانے پہ مظاہروں اور احتجاجوں کے ذریعے حکمرانوں کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ جنگ کے ان شعلوں کو مزید نہ بھڑکائیں اور سفارت کاری کو اپناتے ہوئے نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کو تباہی سے بچائیں۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ میں جنگ مخالف عناصر ایک نکاتی ایجنڈے پہ متحد ہوں، جس کا مقصد مشرق وسطی میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور مسئلے کا فوری سفارتی حل نکالنا ہو۔ یورپ، کینیڈ،ا جاپان، جنوبی کوریا اور دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی جنگ مخالف مظاہرے ہونے چاہیے اور جنگ مخالف تنظیموں کو اس حوالے سے روابط بڑھانے چاہیے۔ ان جنگ مخالف تنظیموں کو ان مشکلات کا خصوصی طور پر تذکرہ کرنا چاہیے جو اس جنگ کی وجہ سے غریب ممالک کے لوگوں کا مقدر بن گئی ہیں۔
انہیں امریکی اور اسرائیلی حاکموں کو متنبہ کرنا چاہیے کہ اس جنگ میں لوگ صرف ہتھیاروں سے نہیں مریں گے بلکہ عالمی سطح پر اجناس کی کمی، زراعت کی تباہی اور غذائی عدم تحفظ بھی بڑی تعداد میں اموات کا سبب بن سکتے ہیں۔
نوٹ یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
