چترال: چینی کمپنی کا کان کنی کی لیز کی منسوخی کے خلاف عدالت سے رجوع

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں کان کنی کے منصوبے پر کام کرنے والی ایک نجی چینی کمپنی نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے لیز منسوخی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ تونی پاک منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی، جس کا چینی کمپنی سے اشتراک ہے، نے چترال میں مائننگ کے منصوبے میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور عدالتی درخواست کے مطابق مستقبل میں یہ سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک متوقع ہے۔

اس کمپنی کو درخواست کے مطابق 2011 میں چترال میں مائننگ کھدائی کی لیز دی گئی تھی، جو 2013 میں منسوخ کر دی گئی۔

درخواست کے مطابق بعدازاں ایک عدالتی فیصلہ کمپنی کے حق میں آیا۔

درخواست گزار کے مطابق، عدالتی فیصلے کے باوجود لیز ابھی تک منسوخ ہے، جبکہ رواں سال فروری میں اس مسئلے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جس کی رپورٹ تعطل کا شکار ہے۔

درخواست گزار نے پشاور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے جو کمیٹی کو شفاف تحقیقات اور رپورٹ مکمل کرنے کی ہدایت ک جائے۔

کمپنی کے نمائندے محمد اسحاق نے درخواست میں بتایا ہے کہ کمپنی ابتدا میں 20 کروڑ ڈالر اور لانگ ٹرم میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے، لیکن لیز منسوخی اور انکوائری کمیٹی کی کارروائی میں تاخیر سے کمپنی کو معاشی نقصان ہو رہا ہے۔

درخواست کے مطابق،’اس سرمایہ کاری سے مقامی طور پر پانچ سے 10 ہزار ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے جبکہ اس سے چترال میں مائننگ سے وہاں معاشی ترقی آئے گی۔‘

خیبر پختونخوا کے اس وقت کے وزیر برائے معدنیات ضیا اللہ آفریدی نے کمپنی پر غیر قانونی طریقے سے چترال کی 500  ٹن اینٹیمنی (سرمہ) دھات چین سمگل کرنے کا الزام لگایا تھا۔

کمپنی نے الزام کی تردید کرتے ہوئے صوبائی وزیر کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ بھی دائر کیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2014 میں کمپنی کے نمائندے جون فو کیوفینگ نے بتایا تھا کہ اینٹیمنی دھات کو قانون کے مطابق چین ٹیسٹنگ کی غرض سے برآمد کیا گیا تھا۔

مبینہ سمگلنگ کا یہ مقدمہ قومی احتساب بیورو میں بھی گیا تھا اور 2017 میں اس کمپنی کے تین ڈائریکٹرز کے خلاف وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوئے تھے۔

خیبر پختونخوا حکومت کا موقف

اس سارے معاملے پر خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بھیجے گئے موقف میں بتایا کہ 15 سال قبل ایک غیر ملکی کمپنی کو چترال میں معدنیات کی تلاش کے لیے لائسنس الاٹ کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایکسپلوریشن کے دوران کمپنی نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی، جس پر اسے قانون کے مطابق سزا دی گئی اور یہ معاملہ اس وقت عدالت/ٹریبونل میں زیرِ سماعت ہے۔

شفیع جان نے بتایا،’خیبر پختونخوا حکومت صوبائی حقوق اور وسائل کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔ معدنی شعبے میں کام کرنے والی تمام کمپنیاں، خواہ مقامی ہوں، ملکی یا غیر ملکی، کے لیے قوانین اور ضوابط پر مکمل عمل درآمد لازمی ہو گا اور شفافیت ہر صورت اولین ترجیح رہے گی۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *