اسرائیلی آبادکاروں کا مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بولنا، پرچم لہرانا قابل مذمت: پاکستان

پاکستان نے منگل کو غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بولنے اور اس کے صحن میں اسرائیل کا پرچم لہرانے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

فلسطینی نیوز ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق 16 اپریل کو یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی مدد سے مسجد اقصیٰ پر چرھائی کر دی۔ اس دوران فلسطینی مسلمانوں کو مسجد میں داخل ہونے سے بھی روک دیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ واقعہ اس دن پیش آیا، جسے یہودی یوم فصح کے نام سے مناتے ہیں۔ یہ تہوار تین ہزار سال پرانے اس واقعے کی خوشی میں منایا جاتا ہے جب یہودیوں کو مصر سے نکلنے کا موقع ملا تھا۔

فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام یروشلم کے گورنریٹ کے مطابق اس موقعے پر یہودی آباد کاروں نے یہودی رسومات بھی مسجد اقصیٰ میں ادا کیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں دو افراد کو احاطے کے اندر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جبکہ ان کے پیچھے قبة الصخرہ نمایاں تھا۔

ان اقدامات کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے پاکستانی وزارت خارجہ نے منگل کی شب اپنے بیان میں کہا: ’یہ قابلِ مذمت اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور مقدس مقام کی حرمت کی پامالی کے مترادف ہیں۔ ایسے اشتعال انگیز اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔‘

بیان کے مطابق: ’پاکستان اسرائیلی قبضے کے تحت مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے اور غیر قانونی آبادکاروں کو حاصل استثنیٰ کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔‘

مزید کہا گیا کہ ’پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے، ان کے حقِ عبادت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کرتا ہے اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، قابلِ عمل اور متصل ریاستِ فلسطین کے قیام کی حمایت دہراتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *