|
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سیز فائر میں توسیع کر دی۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق تاحال ابہام امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان موخر ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ لائیو اپ ڈیٹس |
پاکستان کی درخواست پر ایران سے جنگ بندی میں توسیع کردی: امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے اور وہ ایران کی جانب سے ایک متفقہ تجویز کے انتظار میں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کی حکومت شدید طور پر منقسم ہونے کی حقیقت کی بنیاد پر، جو کہ غیر متوقع نہیں ہے اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر، ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم ایران کے خلاف اپنے حملے کو اس وقت تک مؤخر کریں، جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔
اس لیے میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناکہ بندی جاری رکھے اور ہر دوسرے پہلو سے تیار اور مستعد رہے اور اسی بنا پر میں جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کرتا ہوں جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کر دی جاتی اور مذاکرات کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔
ایران سے مذاکرات: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان موخر
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی لمحے اپنا فیصلہ تبدیل کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے تاحال مذاکرات میں شرکت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی 22 اپریل کو (پاکستانی وقت کے مطابق) صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہونے جا رہی تھی۔
امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر منگل کی دوپہر واشنگٹن پہنچنے والے تھے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جا سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عہدیدار نے یہ پیش گوئی کرنے سے انکار کیا کہ اگر موجودہ جنگ بندی اسلام آباد میں کسی مزید ملاقات کے بغیر ختم ہو گئی تو کیا ہو گا، تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ کے پاس فضائی حملے دوبارہ شروع کیے بغیر بھی کئی آپشنز موجود ہیں۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے پاکستان میں ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنی تھی، منگل کی دوپہر تک اجلاسوں میں شرکت کی غرض سے واشنگٹن میں موجود تھے۔
ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو 1700 جی ایم ٹی (پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے) کے فوراً بعد بھیجے گئے مختصر بیان میں کہا: ‘مزید پالیسی اجلاس وائٹ ہاؤس میں ہو رہے ہیں جن میں نائب صدر شرکت کریں گے۔
اگرچہ عہدیدار نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم حالیہ رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس کی روانگی منگل کی صبح کے لیے طے تھی۔
دوسری جانب ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے منگل کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اگر واشنگٹن دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی ترک کر دے تو ایران پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کر سکتا ہے، تاہم تہران ہتھیار ڈالنے کے مقصد سے ہونے والی بات چیت کو مسترد کرتا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ثالث پاکستان امریکہ کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے کہ وہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے اور ایرانی پرچم بردار کنٹینر جہاز ’ٹوسکا‘ اور اس کے عملے کو رہا کرے، جسے اتوار کو امریکی افواج نے سوار ہو کر قبضے میں لے لیا تھا۔
انہوں نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے اختلافات حل کرنے کے بجائے ’ہر روز نئی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔‘
