امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام شروع کر دیا ہے اور خطرات کو کم کرنے کی کوشش میں ڈرونز، دھماکہ خیز مواد سے لدے روبوٹس اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس مشن کا مقصد جہاز رانی میں ایران کی طرف سے ڈالی جانے والی رکاوٹ کا مقابلہ کرنا ہے، جس نے فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد توانائی کی عالمی رسد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
دور سے بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے اور انہیں ہٹانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی دستیابی کے باوجود، بحریہ کے سابق اہلکاروں اور صنعت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسی اہم آبی گزرگاہ کو صاف کرنا طویل اور کئی مراحل پر مشتمل عمل ہو گا۔
مزید برآں، بارودی سرنگیں صاف کرنے والے عملے کو اب بھی ایران کے ممکنہ حملوں کا نمایاں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
امریکی فوج نے ہفتے کے آخر میں اس آپریشن کے شروع ہونے کی تصدیق کی، اور دو جنگی جہاز پہلے ہی آبنائے میں سفر کر رہے ہیں۔
اگرچہ آلات کی مخصوص تفصیلات کم تھیں، ہفتہ کو اعلان کیا گیا کہ آنے والے دنوں میں پانی کے اندر چلنے والے ڈرونز سمیت مزید فورسز کے بھی اس کوشش میں شامل ہونے کی توقع ہے۔
رائٹرز نے گذشتہ ماہ باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے حال ہی میں آبنائے میں تقریباً ایک درجن بارودی سرنگیں بچھائی ہیں، تاہم ان کے درست مقامات کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں کہا کہ بارودی سرنگیں بچھانے والے ایران کے تمام جہاز غرق کر دیے گئے ہیں۔ تاہم، کچھ ماہرین نے اس مسلسل خطرے سے خبردار کیا ہے کہ تہران مزید آلات بچھا سکتا ہے۔
برطانوی بحریہ کے ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل اور موجودہ کنسلٹنٹ جون پینٹریتھ نے کہا کہ ’بارودی سرنگوں کی جنگ اس لیے موثر ہے کیوں کہ یہ آلات سستے ہوتے ہیں، انہیں صاف کرنے پر بھاری لاگت آتی ہے اور ‘بارودی سرنگوں کے بچھے ہونے کا محض خطرہ ہی جہازوں، خاص طور پر تجارتی جہازوں کو روکنے کے لیے کافی ہے۔‘
روایتی طور پر، امریکی بحریہ کا انحصار بارودی سرنگیں صاف کرنے والے ان جہازوں پر تھا جن پر عملہ سوار ہوتا تھا، جو جسمانی طور پر بارودی سرنگوں والے علاقوں میں داخل ہوتے تھے، آلات کا پتہ لگانے کے لیے سونار کا استعمال کرتے تھے اور دھماکہ خیز مواد کو صاف کرنے کے لیے جہاز کے پیچھے کھینچے جانے والے مکینیکل آلات استعمال کرتے تھے، بعض اوقات انہیں غوطہ خوروں کی مدد بھی حاصل ہوتی تھی۔ اس پرانے بحری بیڑے کا زیادہ تر حصہ ریٹائر ہو چکا ہے۔
ان کی جگہ لٹورل کامبیٹ شپس نامی ہلکے جہاز لے رہے ہیں، جو بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے جدید آلات سے لیس ہوتے ہیں، جیسے کہ نیم خود مختار سطحی اور زیر آب ڈرونز کے ساتھ ساتھ ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے روبوٹس جو عملے کو بارودی سرنگوں والے علاقے سے دور رہنے کے قابل بناتے ہیں۔ بحریہ کے پاس اس وقت ایسے تین جہاز تعینات ہیں۔
مارچ کے آخر میں ایک سینئر امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ ان میں سے دو جہازوں کی سنگاپور میں مرمت کی جا رہی تھی۔ اہلکار کے مطابق، اس وقت مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی بارودی سرنگیں صاف کرنے کی صلاحیت میں بغیر پائلٹ کے زیر آب چلنے والی گاڑیاں، چار روایتی ایونجر کلاس جہاز، ہیلی کاپٹر اور غوطہ خور شامل تھے۔
امریکی بحریہ نے مشرق وسطیٰ میں فی الحال موجود بارودی سرنگیں صاف کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
بحریہ کے سابق حکام اور دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ تہران کے پاس کئی اقسام کی سمندری بارودی سرنگیں موجود ہیں۔ ان میں تہہ میں بچھائی جانے والی بارودی سرنگیں شامل ہیں جو سمندر کی تہہ میں ہوتی ہیں اور جب جہاز ان کے اوپر سے گزرتے ہیں تو پھٹ جاتی ہیں، لنگر انداز لیکن سطح کے قریب تیرنے والی بارودی سرنگیں، پانی پر آزادانہ تیرنے والی بارودی سرنگیں، اور لمپیٹ مائنز جو براہ راست جہاز کے نچلے حصے سے چپک جاتی ہیں۔
امریکی آپریشن میں ممکنہ طور پر سینسرز سے لیس بغیر پائلٹ کے سطحی اور زیر آب چلنے والی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے بارودی سرنگیں تلاش کرنا شامل ہو گا۔ ایک بار جب بارودی سرنگ جیسی کسی چیز کا پتہ چل جاتا ہے، تو ڈیٹا عام طور پر بارودی سرنگوں والے علاقے سے باہر کام کرنے والے عملے کو منتقل کر دیا جاتا ہے، جو اس آلے کی شناخت کرتے ہیں۔ پھر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اسے کیسے ناکارہ بنایا جائے۔
بحریہ کے سابق حکام کا کہنا ہے کہ نیوی کی تلاش کی صلاحیت میں اب سونار لگی بغیر پائلٹ کے سطحی اور زیر آب گاڑیاں، نیز ہیلی کاپٹر شامل ہیں جو سطح کے قریب بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اسے بنانے والی کمپنی، بی اے ای سسٹمز کے مطابق، بارودی سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے، نیوی ٹارپیڈو کی شکل کے آرچرفش جیسے سسٹم تعینات کر سکتی ہے، جو تقریباً 2 میٹر لمبا ریموٹ سے چلنے والا ایک آلہ ہے جس میں دھماکہ خیز مواد ہوتا ہے اور یہ کیبل کے ذریعے آپریٹرز کو ویڈیو واپس بھیجتا ہے۔
ایک بار استعمال کے لیے بنائے گئے اس آلے کی قیمت دسیوں ہزار ڈالر ہے۔ امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ اہلکار اور ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو برائن کلارک نے کہا، امریکہ بغیر پائلٹ کی ایسی کشتیاں بھی استعمال کر سکتا ہے جو بارودی سرنگیں صاف کرنے والی سلیجز کھینچتی ہیں جو دھماکے کرتی ہیں یا بارودی سرنگیں اکٹھی کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات غوطہ خور بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں معلومات اکٹھی کرنا بھی شامل ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آبنائے ہرمز کو صاف کرنے کا سست عمل کلارک نے کہا، آبنائے کو صاف کرنے میں دو یا تین ہفتے لگ سکتے ہیں، اور بارودی سرنگیں صاف کرنے والے عملے پر ایرانی حملے اس عمل کو سست کر سکتے ہیں اور خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، اس کے نتیجے میں، امریکی فوج عملے اور آلات کے دفاع کے لیے جہازوں اور فضا میں اڑنے والے ڈرونز جیسے حفاظتی اقدامات کر سکتی ہے۔ نیول آپریشنز کے سربراہ، امریکی ایڈمرل ڈیرل کاڈل نے مارچ میں کہا، ‘بارودی سرنگیں تلاش کرنا اور تباہ کرنا بہت وقت طلب کام ہے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کی صلاحیت ‘غیر محفوظ’ ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگیں صاف کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز تیار کی جا رہی ہیں، خاص طور پر تلاش کے لیے استعمال ہونے والے سینسرز میں جدت کے ذریعے۔ فرانسیسی ٹیکنالوجی اور دفاعی گروپ تھیلس کا کہنا ہے کہ اس کا جدید ترین سونار ایک ہی چکر میں تین مختلف زاویوں سے مشتبہ بارودی سرنگ کو سکین کر سکتا ہے، اس عمل میں عام طور پر کئی چکر لگانے پڑتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت میں ہونے والی ترقی بھی بغیر پائلٹ کے جہازوں پر موجود ڈیٹا کے مزید تجزیے کو ممکن بنا رہی ہے۔ طویل مدتی ہدف یہ ہے کہ اسے کئی مراحل پر مشتمل عمل بنانے کی بجائے بغیر پائلٹ سسٹمز کے ایسے گروپس تعینات کیے جائیں جو بارودی سرنگیں تلاش کرنے، ان کی شناخت کرنے اور انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ کیپٹن اور اب تھیلس کے امریکی بحریہ کے کاروبار میں بزنس ڈیولپمنٹ کے نائب صدر، مارک بوک نے کہا، ‘آج ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ وہی چیز ہے جسے اب تمام ممالک حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’
