پنجاب: گندم کی نجی کمپنیوں کے ذریعے خریداری کے نظام پر کاشتکاروں کو تشویش

پنجاب حکومت کی جانب سے رواں سال گندم کی خریداری کا اختیار نجی کمپنیوں کو دیے جانے پر کاشت کاروں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور 3500 روپے فی من قیمت اور طریقہ کار کو مسترد کرتے ہوئے گندم کی برآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت پنجاب نے رواں سال گندم کی خریداری کے لیے صوبے بھر میں 11 نجی کمپنیوں کے زیر انتظام 233 گندم خریداری مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سال گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔ اس ضمن میں کاشت کاروں کو فی ایکڑ 10 بوری چھ ارب روپے کا مفت باردانہ فراہم کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اس سال گندم کی پیداوار دو لاکھ 90 ہزار ٹن رہنے کا امکان ہے، جو کہ پچھلے سال کی نسبت ایک اعشاریہ 24 فیصد کم ہے۔

صوبائی وزیر زراعت عاشق علی کرمانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’رواں سال حکومت نے گندم کی خریداری کے لیے نجی کمپنیوں کو ذمہ داری سونپی ہے اور ان 11کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کرنے کے بعد خریداری کی اجازت دی جا رہی ہے۔ یہ رجسٹرڈ ایگریگیٹرز صوبے بھر میں خریداری مراکز قائم کر کے حکومتی ریٹ کے مطابق 3500 روپے فی من گندم کی خریداری کر رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر زراعت عاشق کرمانی کے مطابق پہلے لاتعداد اور غیر رجسٹرڈ شدہ بیوپاری من مانی قیمت پر گندم خریدتے تھے لیکن اب حکومتی مداخلت سے مخصوص رجسٹرڈ کمپنیاں 3500 روپے کے ریٹ پر گندم خریدنے کی پابند ہوں گی۔ گندم کسان کارڈ رکھنے والے چھ لاکھ سے زائد کاشت کاروں سے خریدی جائے گی اور اس کے لیے نجی ایگریگیٹرز کو ستمبر میں دس فیصد منافع حکومت ادا کرے گی اور 70فیصد تک خریداری کے لیے انہیں پنجاب بینک سے ادائیگی بھی یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ گندم خریداری کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر کاشت کاروں کو ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بقول عاشق کرمانی: ’گندم خریداری کے عمل کی نگرانی کے لیے صوبے میں سٹرٹیجک مینیجمنٹ کمیٹیاں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے ورک ود پنجاب گورنمنٹ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ایگریکلچر گریجویٹس سمیت دیگر افراد کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔‘

تاہم کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر نے حکومت کی گندم خریداری کی پالیسی کو مسترد کر دیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’مڈل مین کا کردار ختم کرنے کا دعویٰ کر کے نجی کمپنیوں کے ذریعے ہی خریداری کی جائے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’چھ ارب روپے کا مفت باردانہ دینے کی خوشخبری سنائی گئی ہے، وہ تو پہلے بھی خریدار ہی فراہم کرتا تھا۔ اگر محکمہ خوراک یا پاسکو گندم خریدتا تھا تو باردانہ بھی وہی مفت فراہم کرتا تھا۔ صوبے بھر میں خریداری مرکز ابھی بنے نہیں، جنوبی پنجاب کے کاشت کار تو 15 فیصد گندم 28 سے 29 سو روپے فی من فروخت بھی کر چکے لیکن حکومت ابھی مراکز ہی قائم کروا رہی ہے۔‘

دوسری جانب کسان اتحاد کے چیئرمین خالد باٹھ نے بتایا کہ ’پنجاب میں مہنگے ڈیزل اور کھادوں سمیت دیگر اخراجات ڈال کر فی ایکڑ خرچہ ڈیڑھ لاکھ روپے تک بنتا ہے۔ اگر حکومتی ریٹ کے مطابق 3500 روپے فی من کے حساب سے اوسط پیداوار 40 من فی ایکڑ ہو تو بھی ایک لاکھ 40 ہزار روپے بنتے ہیں۔

’اس قیمت میں بھی کسان کو دس ہزار روپے فی ایکر نقصان ہے۔ دوسرا یہ کہ پنجاب کے 60 سے 70 لاکھ کسان ہیں لیکن گندم صرف کسان کارڈ بنوانے والے ساڑھے چھ لاکھ کسانوں سے ہی خریدی جائے گی، باقی کہاں جائیں؟‘

خالد باٹھ نے مزید کہا کہ انہوں نے جمعے کو اجلاس طلب کیا ہے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل بنا کر اعلان کریں گے۔ ’ہمیں نہ نئے نظام کے تحت خریداری منظور ہے اور نہ ہی مقررہ قیمت قبول کریں گے۔‘

گندم خریداری کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

گندم خریداری کے لیے نامزد ایگریگیٹر نجم الحسن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے دیگر کمپنیوں کی طرح گندم خریداری کے لیے حکومت کو درخواست دی تھی اور شارٹ لسٹ ہونے کے بعد انہیں بھی 11 خریداروں میں شامل کیا گیا ہے۔

نجم الحسن کے مطابق : ’حکومت ہمیں جو باردانہ فراہم کرے گی ہم وہ دس بوری فی ایکڑ کسانوں کو دے کر 3500 روپے فی من گندم خریدیں گے۔ اس کے لیے محکمہ فوڈ کے مختلف اضلاع میں قائم گوداموں میں خریداری مراکز قائم کر کے کسان کارڈ کے حامل کاشت کاروں سے گندم خریداری شروع کر دی گئی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ کسان کارڈ، شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات دینے والے کسانوں کو ہی باردانہ دیا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ جو حکومت نے شرائط طے کی ہیں ہم ان کے مطابق ہی کام کریں گے۔‘

صدر کسان اتحاد خالد کھوکھر کے مطابق حکومت نے پورے صوبے میں صرف 233 مراکز قائم کیے ہیں، یعنی ہر ضلعے میں تین سے چار مرکز جبکہ پہلے 20 سے 22 مرکز بنتے تھے اور پٹواری فرد ملکیت دکھا کر محکمہ خوراک کو گندم فروخت کرنے کی منظوری دیتا تھا۔ اس سے جو کاشت کار فروخت کرنا چاہتا تھا، آسانی سے فروخت کر سکتا تھا۔

اس کے علاوی چار سال پہلے گندم کا ریٹ چار ہزار روپے فی من تھا، پچھلے سال حکومت نے کسانوں سے گندم نہیں خریدی تو انہوں نے دو ہزار سے 25 سو روپے میں بیچی۔ اس سال خریداری کر بھی رہے ہیں تو نظام پیچیدہ اور ناکافی بنا دیا ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ ’دنیا میں جنگوں کے باعث خوراک کے قلت ہے۔ اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت زیادہ سے زیادہ گندم خرید کر برآمد کر سکتی ہے۔ اس سے کسان بھی خوش حال ہوگا اور ملکی زرمبادلہ بھی بہت بڑھایا جاسکتا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *