فنڈنگ کے لیے سعودی عرب سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں: پاکستانی وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو سنبھالنے اور متحدہ عرب امارات کے 3.5 ارب ڈالر کے فنڈ کا متبادل تلاش کرنے کے لیے یوروبانڈز، دیگر ممالک سے قرضوں اور کمرشل قرضوں پر غور کر رہا ہے۔

محمد اورنگزیب نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث پاکستان کو سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے اور قابل تجدید توانائی کی جانب تیزی سے منتقلی پر بھی غور کرنا ہوگا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سعودی عرب سے ایسے قرض کے لیے بات چیت کر رہی ہے جو یو اے ای کی سہولت کا متبادل بن سکے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’تمام آپشنز زیر غور ہیں۔‘

پاکستان رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو ممکنہ طور پر 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے جا رہا ہے،  جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پاکستان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان تمام قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے ذخائر تقریباً 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔

ان کے مطابق اس سطح کو برقرار رکھنا ’مجموعی معاشی استحکام کے لیے اہم‘ ہوگا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد اورنگزیب نے کہا ’ہم یوروبانڈز، اسلامی سکوک اور ڈالر میں طے ہونے والے روپے سے منسلک بانڈز پر غور کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں سال یوروبانڈز جاری کیے جائیں گے جبکہ کمرشل قرضوں کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان نے ابھی تک مشرق وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات کے باعث سات ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں کسی تبدیلی کی درخواست نہیں کی، تاہم یہ بھی ایک ممکنہ آپشن ہے۔

’آنے والے ہفتوں میں حالات کے مطابق اس پر بات کی جا سکتی ہے۔‘

ان کے مطابق آئی ایم ایف بورڈ اس ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے آغاز میں نئی قسط کی منظوری دے سکتا ہے، جس کے بعد ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت تقریباً 1.3 ارب ڈالر جاری ہوں گے۔

پاکستان آئندہ ماہ اپنا پہلا ’پانڈا بانڈ‘ بھی متعارف کروانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو چینی کرنسی یوآن میں ہوگا۔

25 کروڑ ڈالر کی یہ پہلی قسط ایک ارب ڈالر کے منصوبے کا حصہ ہوگی، جسے ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی حمایت حاصل ہوگی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ تقریباً چار فیصد متوقع جی ڈی پی نمو، 41.5 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اور غریب طبقے کے لیے ہدفی امداد ملک کو ایران جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہیں، جو مالی سال کے اختتام (30 جون) تک جاری رہ سکتے ہیں۔

تاہم، قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو صرف کمرشل ذخائر پر انحصار کرنے کی بجائے ایندھن اور ایل پی جی کے سٹریٹجک ذخائر قائم کرنے چاہییں اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی کو تیز کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا ’جب آپ اس طرح کے سپلائی شاک سے گزرتے ہیں تو یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ ہمیں ان اقدامات کو تیز کرنا ہوگا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *