امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی رات پوپ لیو 16 پر اس وقت تنقید کی جب انہوں نے ان کی خارجہ اور امیگریشن پالیسیوں پر اعتراض کیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’پوپ لیو جرائم کے معاملے میں کمزور ہیں اور خارجہ پالیسی کے لیے بھی خراب ہیں۔‘
پوپ لیو، جو گذشتہ سال پہلے امریکی نژاد پوپ بنے، 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ کے ایک کھلے ناقد کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی پر بھی سوال اٹھایا تھا۔
ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’لیو کو بطور پوپ خود کو درست کرنا چاہیے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ وہ پوپ کے ’زیادہ بڑے مداح نہیں ہیں۔‘
ٹرمپ نے اپنی تنقید میں یہ بھی کہا کہ پوپ ’جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں کمزور‘ ہیں۔
یہ بیان اس کے چند دن بعد آیا جب پوپ نے امریکی صدر کی جانب سے ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی کو ’انتہائی ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ ماہ پام سنڈے کے موقع پر ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز سکوائر میں خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کہا تھا کہ ’خدا ان رہنماؤں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جو جنگیں شروع کرتے ہیں اور جن کے ہاتھ خون سے بھرے ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے ایران میں جاری تنازع کو ’ہولناک‘ بھی قرار دیا تھا۔
پوپ لیو نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازع ختم کرنے کے لیے کوئی راستہ نکالیں اور ’تشدد میں کمی کریں۔‘
اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لیو کو گذشتہ سال کیتھولک چرچ کا سربراہ اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ ’وہ امریکی ہیں، اور انہوں نے سمجھا کہ یہ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہوگا۔‘
ویٹیکن نے فوری طور پر اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
ٹرمپ نے اتوار کی رات صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایک بہت لبرل شخص ہیں اور ایسے آدمی ہیں جو جرائم روکنے پر یقین نہیں رکھتے۔‘
