خلیج میں کشیدہ صورتحال اور اسرائیل، امریکہ اور ایران جنگ کے باعث تیل کے بحران کی وجہ سے چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
چائنہ پسنجر کار ایسوسی ایشن کی جانب سے رواں سال مارچ کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں مارچ میں نیو انرجی گاڑیوں کی برآمدات میں 140 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق نیو انرجی گاڑیوں میں الیکٹرک، ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں شامل ہیں۔
رواں سال فروری کے مقابلے میں مارچ میں 31 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور فروری میں دو لاکھ 76 ہزار نیو انرجی گاڑیاں برآمد ہوئی تھیں جبکہ مارچ میں یہ تعداد تین لاکھ 63 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی کمپنیوں بی وائی ڈی اور گیلی آٹو کوششیں کر رہی ہیں کہ پیداوار کو بڑھا سکیں کیونکہ خلیج میں کشیدہ صورتحال کی وجہ سے مزید لوگوں کے نیو انرجی گاڑیوں کی طرف منتقل ہونے کی امید ہے۔
خیال رہے کہ خلیج فارس میں تیل کی سپلائی لائن آبنائے ہرمز میں متاثر ہونے کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت فی بیرل 120 امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، تاہم پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان فائر بندی کی وجہ سے قیمتیں اب فی بیرل دوبارہ 94 ڈالر تک گر گئی ہیں۔
جنگ شروع ہونے سے اب تک تیل کی اوسط قیمت میں تقریباً 35 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جس سے پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے آٹو انڈسٹری بھی متاثر ہوئی ہے اور ماہرین سمجھتے ہیں کہ اب لوگ الیکٹرک گاڑیوں کی طرف جا رہے ہیں۔
پاکستان میں کیا ٹرینڈ ہے؟
محمد فیصل شاہ خٹک پریمیئم امپورٹس نامی شو روم کے مینیجر اور پشاور میں امپورٹڈ گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
ان کے مطابق خلیج فارس میں کشیدگی سے ہائبرڈ گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے تاہم الیکٹرک گاڑیوں سے اب لوگ ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔
فیصل شاہ نے بتایا: ’ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد میں ہمارا اضافہ ہوا لیکن الیکٹرک گاڑیوں کے پاکستان میں ابھی باقاعدہ انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے لوگ زیادہ تر ہائبرڈ کا انتخاب کرتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ ٹرینڈ میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ صرف الیکٹرک گاڑیوں کی ری سیل ویلیو وقت کے ساتھ کم ہو جاتی ہے اور اسی وجہ سے نیو انرجی گاڑیوں میں ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ کا رجحان زیادہ بڑھ گیا ہے۔
آل پاکستان ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن اِن چیف میاں شعیب احمد بھی فیصل شاہ سے اتفاق کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں پر ابھی لوگوں کا اعتماد بڑھنا ہے اور تب ہی یہ مارکیٹ میں جگہ بنا سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’کراچی، لاہور، اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں الیکٹرک گاڑیوں کو پذیرائی مل رہی ہے لیکن مجموعی طور پر ابھی لوگ الیکٹرک گاڑی لینے میں محتاط ہیں۔‘ دوسری بات میاں شعیب کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں ایک مخصوص طبقے تک محدود ہیں کیونکہ متوسط طبقے کے لوگ زیادہ قیمتوں کی وجہ سے انہیں نہیں خرید سکتے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم انہوں نے بتایا کہ یہ ضرور ہے کہ موجودہ تیل بحران کی وجہ سے نیو انرجی گاڑیوں کی طرف منتقل ہونے پر سوچ رہے ہیں لیکن ساتھ میں ذہن میں ایک خوف ضرور ہے کہ اس کا مستقبل کیا ہوگا۔
میاں شعیب نے بتایا: ’حکومت کو ضرور نیو انرجی گاڑیوں کو پذیرائی دینے کے لیے اس پر ڈیوٹیز وغیرہ کم کرنا چاہیے اور خاص کر الیکٹرک سے پٹرول کا بل ملک کا کم ہو سکتا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘
گاڑیوں کے مالکان کیا کہتے ہیں؟
محمد اعجاز کے پاس گذشتہ دو سالوں سے ہنڈا سیوک گاڑی ہے، تاہم پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے اب پریشان ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا اسلام آباد آنا جانا ہوتا ہے اور پہلے اگر آنے جانے کا 10 ہزار پٹرول کا خرچہ ہوتا تھا تو اب 15 ہزار روپے ہوگا۔
اعجاز نے بتایا: ’اب میں نے ارادہ کیا ہے ٹویوٹا کی جاپانی پریئس ہائبرڈ گاڑی خریدوں کیونکہ سیوک کے مقابلے میں وہ 19/20 کلومیٹر فی لیٹر میں چلتی ہے جبکہ سیوک کی فیول ایوریج تقریباً 13 کلومیٹر فی لیٹر ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ پہلے ذہن میں استعمال شدہ ہائبرڈ گاڑی کے بارے میں یہ سوچتا تھا کہ شاید بیٹری جلد خراب ہو سکتی ہے لیکن اب پہلی مرتبہ ہائبرڈ پر منتقل ہو رہے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ تجربہ کیسا ہوگا۔

