بولی وڈ گلوکارہ آشا بھوسلے چل بسیں

آشا بھوسلے اتوار کو 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

آشا بھوسلے کے بیٹے آنند بھوسلے نے ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’میری والدہ آج انتقال کر گئیں۔ لوگ کل صبح 11 بجے کاسا گرانڈے، لوئر پریل میں ان کے گھر آ کر ان کی آخری دیدار کر سکتے ہیں۔ ان کی آخری رسومات کل شام چار بجے شیواجی پارک میں ادا کی جائیں گی۔‘

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق گلوکارہ کافی دنوں سے بیمار تھیں اور ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں داخل تھیں، جہاں وہ اتوار کے روز انتقال کر گئیں۔

آشا بھوسلے کون تھیں؟

کسی گھرانے میں ایک سے زائد افراد ایک ہی پیشے سے وابستہ ہوں تو اکثر اوقات مقابلے کی فضا پروان چڑھتی ہے، جس کے اپنے فائدے اور نقصانات ہوتے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ آشا بھوسلے کا تھا۔ ان کا پورا خاندان موسیقی کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ ایک سنگِ میل سر کرنے کی خواہش ہمیشہ آشا کے دل میں مچلتی رہی، اور وہ تھیں ان کی بڑی بہن لتا منگیشکر۔

والد کی وفات نے دونوں بہنوں کو بہت کم عمری میں فلمی دنیا میں لا کھڑا کیا۔ کم و بیش ایک ساتھ سفر کا آغاز کرنے کے باوجود، لتا کے مقابلے میں آشا کو اپنی پہچان بنانے کے لیے طویل اور کٹھن جدوجہد سے گزرنا پڑا۔

ایک طرف آشا ہر موسیقار کے لیے دوسری نہیں بلکہ شمشاد بیگم اور گیتا دت کے بعد چوتھی ترجیح تھیں، تو دوسری طرف انہوں نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف محض 16 برس کی عمر میں 31 سالہ گنپت راؤ بھوسلے سے شادی کر لی، جس کے نتیجے میں انہیں گھر چھوڑنا پڑا۔ بی گریڈ فلموں میں گیت گاتے ہوئے وہ نہ صرف اپنا بلکہ پورے خاندان کا خرچ اٹھا رہی تھیں۔ ان کے شوہر گنپت راؤ بھوسلے سارا دن اسٹوڈیوز کے چکر لگاتے اور ان کے لیے گیت حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔

او پی نیر اور ’نیا دور‘

1950 کی دہائی کے اوائل میں جب او پی نیر بمبئی میں بطور موسیقار اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہے تھے تو ان کی لتا سے ان بن ہو گئی۔ ابتدائی دو فلموں کی ناکامی کے بعد نیر نے گیتا دت اور شمشاد بیگم کی آواز میں فلم ’آر پار‘ (1954) سے کامیابی حاصل کی۔ نیر کی ابتدائی کامیاب فلموں میں یہی دو آوازیں نمایاں رہیں، لیکن جب بھی موقع ملا، وہ آشا کی آواز ضرور استعمال کرتے رہے۔

انہی دنوں آشا اور نیر کے درمیان قربتیں بڑھنے لگیں۔ نیر کی موسیقی رواں تھی لیکن ان کی انا ہمالیہ جیسی بلند تھی۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ زندگی بھر لتا کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا، لیکن آشا بھوسلے کے لیے یہ ایک بڑا موقع ثابت ہوا۔ نیر نے آہستہ آہستہ ان کی آواز کو نکھارا۔

اس وقت ہر فلم ساز اور موسیقار کی خواہش ہوتی تھی کہ ہیروئن کے لیے صرف لتا منگیشکر کی آواز استعمال ہو۔ اگر ایسا ممکن نہ ہوتا تو گیتا دت اور شمشاد بیگم یہ ذمہ داری نبھاتیں۔ ویمپ یا چھوٹے کرداروں کے لیے آشا کو لیا جاتا، اور بعض اوقات تو انہیں نظرانداز بھی کر دیا جاتا۔ اس صورتحال نے آشا کے اندر احساسِ محرومی پیدا کر دیا تھا۔ نیر کے لیے سب سے بڑا چیلنج انہیں اس احساس سے نکالنا تھا۔

1957 میں جب بی آر چوپڑا نے او پی نیر کو فلم ’نیا دور‘ کے لیے منتخب کیا تو نیر کی پہلی شرط یہ تھی کہ تمام گیت آشا کی آواز میں ریکارڈ کیے جائیں گے۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی بڑی فلم کی ہیروئن کے تمام گیت آشا بھوسلے نے گائے۔ آشا اور محمد رفیع کی جوڑی نے دھوم مچا دی۔ نیر کو فلم فیئر ایوارڈ ملا اور آشا کو وہ خود اعتمادی ملی جس کی انہیں شدید ضرورت تھی۔

اس کے بعد بی آر چوپڑا کی دیگر فلموں میں روی نے بھی آشا کو مؤثر انداز میں استعمال کیا، جن میں ’گمراہ‘، ’وقت‘ اور ’ہمراز‘ شامل ہیں۔

او پی نیر کے ساتھ یہ آشا کا سنہرا دور تھا۔ ’تم سا نہیں دیکھا‘، ’جعلی نوٹ‘، ’ایک مسافر ایک حسینہ‘، ’پھر وہی دل لایا ہوں‘ اور ’کشمیر کی کلی‘ جیسے گیت اسی دور کی یادگار ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وقت کے ساتھ آشا اور نیر کا تعلق بھی کمزور پڑ گیا اور تقریباً نو برس بعد دونوں کے راستے جدا ہو گئے۔ اس دوران آشا کے لیے دیگر موسیقاروں کے دروازے کھل چکے تھے۔

آر ڈی برمن اور نیا انداز

1966 میں فلم ’تیسری منزل‘ کے ساتھ آر ڈی برمن (پنچم) نے ایک نیا انداز متعارف کرایا۔ آشا اور محمد رفیع کی آواز میں ’او حسینہ زلفوں والی‘ اور ’او میرے سونا رے‘ مقبول ہوئے، لیکن ’آجا آجا میں ہوں پیار تیرا‘ نے تہلکہ مچا دیا۔

1970 کی دہائی میں یہ رجحان مزید مضبوط ہوا۔ ’دم مارو دم‘ اور فلم ’کارواں‘ کا گیت ’پیا تو اب تو آجا‘ نئی نسل کی پہچان بن گیا۔ آشا کی آواز میں شوخی اور توانائی نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔

1979 میں آشا بھوسلے اور آر ڈی برمن نے شادی کر لی۔

آواز اور انفرادیت

معروف موسیقار نوشاد علی نے کہا تھا: ’لتا کی آواز پاکیزہ ہے جبکہ آشا کی آواز میں بازاری پن ہے۔‘ یہی خصوصیت آشا کی سب سے بڑی طاقت بنی اور ان کی پہچان کا سبب بھی۔

اگرچہ آشا بھوسلے کو اکثر لتا منگیشکر سے موازنہ کیا جاتا رہا، لیکن ان کی اپنی ایک الگ شناخت تھی۔ ان کی آواز کی شوخی اور توانائی نے انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *