رجسٹر میں کھلاڑیوں کا ریکارڈ رکھنے والے سپورٹس جرنلسٹ منصور علی بیگ

‘آج کل تو انٹرنیٹ کھول لیں۔ کھلاڑی کے تمام ریکارڈ نکال لیں اور آرٹیکل لکھ کر چند منٹوں میں اخبار کے لیے بھیج دیں لیکن اس زمانے میں ایسا نہیں تھا۔ ہمارے پاس رجسٹر تھے جس میں ہم ہر کھلاڑی کی پرفارمنس نوٹ کیا کرتے تھے۔‘

یہ الفاظ منصور علی بیگ کے ہیں جو تقریباً 44 سال تک پاکستان میں سپورٹس صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔ وہ 80 کی دہائی میں سپورٹس کے مشہور میگزین کرکٹر اور اخبار وطن سے وابستہ تھے۔

منصور علی بیگ کا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ آج کل پشاور منتقل ہو گئے ہیں اور صحافت سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ تاہم وہ دوبارہ صحافت شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 16 سال کی عمر سے صحافت شروع کی تھی اور مختلف رسالوں کے لیے لکھتے رہے اور سب سے پہلے کریئر کا آغاز کرکٹر میگزین سے کیا تھا۔

منصور علی بیگ نے بتایا کہ اس وقت جنگ، نوائے وقت، اور مختلف اخبارات کے میگزین کے لیے لکھتے تھے اور کچھ عرصہ بعد کرکٹر میگزین سے آفر مل گئی۔

انہوں نے بتایا: ’ڈیڑھ سال کام کرنے کے بعد کرکٹر میگزین کا ایڈیٹر بن گیا اور 2009 تک اسی میگزین سے وابستہ رہا جہاں ہزاروں مضامین لکھ چکا ہوں۔‘

انہوں نے آج کل کے زمانے کا ماضی سے موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت کھیلوں کی صحافت جاندار تھی اور صحافی محنت کر کے مضامین لکھتے تھے۔

آج اور اس زمانے کی سپورٹس صحافت میں فرق؟

منصور علی بیگ کا کہنا ہے کہ آج کل بہت آسانی آئی ہے اور سپورٹس جرنلسٹ محنت نہیں کرتے کیوں کہ سب کچھ آن لائن دستیاب ہے اور اسی کی مدد سے منٹوں میں مضمون لکھ لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس زمانے میں ہمارے پاس اپنے رجسٹر ہوتے تھے جس میں تمام کھلاڑیوں کی پرفارمنس نوٹ کی جاتی تھی۔ ہم چھکوں اور چوکھوں کا ریکارڈ محفوظ رکھتے تھے اور ہر ایک کھلاڑی کا ریکارڈ ہمیں یاد ہوتا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ آج کل ریسرچ کرنے کا رجحان بہت کم ہو گیا ہے کیوں کہ ڈیجیٹل میڈیا میں چند منٹ کی رپورٹ میں آپ تفصیل نہیں دے سکتے۔

منصور کا کہنا ہے کہ ان کے صحافتی کیریئر کے دوران کوئی کھلاڑی نہیں بچا تھا جس کا انہوں نے انٹرویو نہ کیا ہو اور اس میں پاکستان کے مایہ ناز کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کرکٹر جاوید میانداد ان کے گھر کے قریب رہتے تھے اور وہ ان کے ساتھ کھیل بھی چکے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم منصور علی بیگ کا کہنا ہے کہ دو انٹرویوز انہیں یاد ہیں جس میں ایک قاسم عمر تھے جو کرکٹ چھوڑ چکے تھے اور پاکستان میں انہیں کوئی نہیں جانتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کسی طریقے سے قاسم عمر کے گھر کا پتہ لگا لیا اور انٹرویو کے لیے چلے گئے اور قاسم عمر بھی حیران تھے کہ میں نے ان کے گھر کا پتہ کیسے ڈھونڈ نکالا؟

دوسرا منصور بیگ کے مطابق سعید احمد تھے جنہوں نے تبلیغ کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ منصور نے بتایا کہ ’انٹرویو کے بعد سعید احمد نے مجھ سے کیسٹ لے لیا اور بتایا کہ بس اس کو چھوڑیں کیوں کہ پتہ نہیں انہوں نے انٹرویو میں کیا کیا بول دیا اور پھر اس وقت کے سینیئر کھلاڑیوں سے کیسٹ دلوانے کی درخواست کی کیوں کہ وہ ایک شاندار انٹرویو تھا اور میں اسے شائع کرنا چاہتا تھا۔‘

صحافی کرکٹ بورڈ کے لیے رہنمائی کرتے تھے

صحافی کسی بھی شعبے کی رپورٹنگ کرتے ہوئے متعلقہ شعبے کے لیے رہنمائی کا کردار ادا کرتے ہیں اور منصور کے مطابق اس وقت کرکٹ بورڈ صحافیوں کے مضامین کو سنجیدگی سے لیتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے شائننگ سٹارز کے نام سے ایک سیریز شروع کی تھی اور ہر مہینے تین نئے کھلاڑیوں کو فیچر کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اسی سیریز میں بہت سے کھلاڑی بعد میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ ہوتے تھے یعنی اگر 120 کھلاڑیوں کا ہم نے فیچر کیا تھا، تو اس میں بعد میں 100 تک ٹیم کا حصہ ہوتے تھے۔‘

آج کل منصور کے مطابق کھلاڑیوں تک اپروچ ہی نہیں بلکہ صحافی کھلاڑیوں کے قریب بھی نہیں جا سکتے ہیں لیکن اس وقت ایسا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’اس زمانے میں ہم کھلاڑیوں سے ہوٹل اور گراؤنڈ میں ملتے تھے۔ ان کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ کھانا کھاتے تھے اور گفتگو ہوتی تھی لیکن آج کل سب کچھ بدل گیا ہے اور صحافی صرف پریس باکس تک ہی محدود ہوگئے ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *