امریکہ کے 15 بمقابلہ ایران کے 10 نکات، ہم کیا جانتے ہیں؟

امریکہ اور ایران میں جنگ بندی پر آمادگی کے بعد اب نظریں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات پر ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم نے دونوں ملکوں کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مدعو کیا ہے۔

مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا ہوگا، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن کامیاب بات چیت کی امید کا اظہار تمام ہی اطراف سے کیا جا رہا ہے۔

مجوزہ بات چیت بظاہر ایک مرحلہ وار مذاکراتی عمل کی طرف جائے گی، نہ کہ کسی فوری اور جامع معاہدے کی طرف۔

ابتدائی مرحلے میں سب سے زیادہ توجہ عارضی جنگ بندی کو مستقل کرنے اور اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے فوری عملی فیصلے کرنا ہیں۔

امریکہ کی طرف سے پیش کیے گئے 15 اور ایران کی طرف سے سامنے آنے والے 10 نکات ہیں۔ ان کا باضابطہ اعلان تو نہیں کیا گیا، تاہم میڈیا پر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق امریکی 15 نکات کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

۔ 30 دن کی جنگ بندی

۔ ایران کے جوہری مراکز کا خاتمہ

۔ ایران کی جانب سے ہمیشہ کے لیے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت

۔ افزودہ یورینیم کو عالمی توانائی ایجنسی ’آئی اے ای اے‘ کے حوالے کرنا

۔ ایران میں یورینیم افزودگی مکمل طور پر بند کرنا

۔ ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیاں

۔ خطے میں ایران کی پراکسی گروپس کی حمایت ختم کرنا

۔ تیل کی تنصیبات پر حملے بند کرنا

۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔

یہ نکات مجموعی طور پر ایران کے جوہری اور علاقائی کردار کو سختی سے محدود کرنے پر مبنی ہیں۔

ایران کی طرف سے سامنے والے نکات کی تفصیل کچھ یہ ہے:

۔ تمام امریکی اور عالمی پابندیوں کا مکمل خاتمہ

۔ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رکھنا

۔ مشرقِ وسطیٰ سے امریکی افواج کا انخلا

۔ ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملے بند کرنا

۔ ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی

۔ معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد بنانا

۔ ایران کو نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا شامل ہے۔

یہ نکات ایران کی خودمختاری اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ تحفظ پر زور دیتے ہیں۔

کچھ محدود نکات ایسے ہیں جہاں دونوں فریق کسی حد تک متفق ہو سکتے ہیں۔

۔ جنگ بندی کی اہمیت

۔ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی خواہش

۔ آبنائے ہرمز کو محفوظ بحری راستہ بنانا لیکن اس کے کنٹرول پر اختلاف ہے موجود ہے۔

کچھ بڑے اختلافات یہ ہیں:

۔ یورینیم افزودگی کا خاتمہ

۔ امریکی فوجی کا خطے سے مکمل انخلا

پاکستان اور دیگر ممالک کی طرف سے کئی ہفتوں سے جنگ بندی کی جاری کوششوں کی تفصیلات کبھی بھی سرکاری طور پر منظر عام پر نہیں البتہ یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پس پردہ اور بلواسطہ رابطوں کے ذریعے یہ کام جاری ہے۔

براہ راست مذاکرات سے متعلق بھی ابھی تک ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ پاکستانی وزیراعظم نے فریقین کو اسلام آباد مدعو کیا ہے۔ اس مجوزہ بات چیت کا ایجنڈے اور اس میں کون شریک ہو گا، تاحال اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *