پاکستان میں میدانوں کو پہاڑی علاقوں سے ملاتی سڑکیں بلند برفانی دروں کی وجہ سے پانچ سے چھ ماہ بند رہتی ہیں۔
اکتوبر کے پہلے ہفتے سے جون کے وسط تک معروف گزرگاہیں برف کے جزیروں میں ڈھل جاتی ہیں جس سے باہمی رابطے دم توڑ جاتے ہیں اور معمولات زندگی بھی معطل رہتے ہیں۔
کون سا درہ کب کھلتا ہے؟ اس کا شیڈول ہلز ٹاپ کی اہمیت طے کرتی ہے کہ کون سا راستہ بند رہنے سے ریاست کا نقصان کتنا ہے۔
یہی وجہ ہے 4700 میٹر بلند درہ درکوٹ سال بھر بند ہی رہتا ہے، کیونکہ ضلع غذر گلگت کو وادی بروغل اور چترال سے ملاتا یہ درہ کسی معروف گزرگاہ کے راستے میں نہیں پڑتا، اس لیے اسے کھولنے کے لیے سرکاری مشینری متحرک نہیں ہوتی۔
درہ درکوٹ اگر سفر کے لیے کھول دیا جائے تو کرومبر جھیل پر جانے والے سیاح گلگت سے غذر اور پھر بروغل پہنچ سکتے ہیں۔
اسی درے کی برف نے آسان راستہ بند کر رکھا ہے اور سیاحوں کو چترال اور مستوج کی طرف سے دو دن پیدل چل کر کرومبر لیک تک پہنچنا پڑتا ہے۔
پاکستان کا بلند ترین درہ گوندو گورو پاس 5940 میٹر بلند ہے اور یہ بھی سال بھر میں 10 مہینے تک برف سے ڈھکا رہتا ہے۔
حوشی ویلی گلگت کو کنکورڈیا سے ملانے والا یہ ٹاپ سیاحت کے حوالے سے اہم ہے کہ یہاں سے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کا راستہ ملتا ہے۔
درہ گوندو گورو پر پڑی برف ہٹانے کا کام بھی سرکاری طور پر نہیں کیا جاتا اس لیے سال بھر کے دوران 10 ماہ یہاں سے گزرنا مشکل ہوتا ہے۔
سرکاری مشینری سے برف ہٹا کر جلد کھولے جانے والے دروں میں برزل ٹاپ سرفہرست ہے۔ 4200 میٹر بلند درہ برزل گلگت کے شہر استور کو کشمیر سے ملاتا ہے جس کے راستے میں منی مرگ اور ڈومیل ویلی کے قدرتی جہان آباد ہیں۔
برزل ٹاپ کو بہت جلد اس لیے کھول دیا جاتا ہے کہ یہاں سے پاکستان فوج کے حفاظتی دستے کارگل کا تحفظ یقینی بناتے ہیں۔
بہت ہی کم وقت کے لیے بند رہ جانے والا درہ خنجراب ہے، جس پر برف پڑتے ہی راستے صاف کر دیے جاتے ہیں کیونکہ یہاں سے چین اور پاکستان کی راہیں ان دونوں ممالک کو باہمی کاروباری دوستی میں ڈھالتی ہیں۔
4693 میٹر کی بلندی بھی اس درے تک رسائی نہیں روک سکتی کیونکہ یہ دنیا کی بلند ترین سرحدوں میں سے ایک ہے۔
یہاں پر قراقرم کے مسافر سیاحت کے لیے بھی سفر کرتے ہیں اور کاروبار کے لیے بھی۔
درہ بابو سر پاکستان کا مصروف ترین اور آلودہ ہلز ٹاپ سٹیشن بھی بن چکا ہے۔ 13 ہزار، 700 فٹ بلند یہ درہ خیبر پختونخوا کی آخری چیک پوسٹ بھی ہے جس کے بعد گلگت بلتستان کا آغاز ہوتا ہے۔
سیاحت کے حوالے سے اس درے کا جلد کھولا جانا بہت ضروری ہے کیونکہ سیاح جون کے پہلے ہفتے سے ہی منتظر ہو جاتے ہیں کہ بابو سر ٹاپ کب کھلتا ہے۔
ناران میں ان دنوں بے پناہ رش دکھائی دیتا ہے جب بابوسر کی برف ہٹائی نہ گئی ہوں۔
چترال کو ملک بھر سے ملاتا لواری ثاپ بھی اب کبھی نہیں کھولا جاتا کیونکہ ساڑھے دس کلومیٹر طویل لواری ٹنل بن جانے سے لواری ٹاپ کی برف بہت کم اہم ہو گئی ہے۔
چترال اور پشاور روڈ اب سال بھر کھلی رہتی ہے اس لیے لواری ٹاپ چاہے سال بھر بند رہے، ان برفوں کو کوئی نہیں ہٹاتا۔
شندور پاس بھی ہر سال اولین مناسب موسموں میں کھول دیا جاتا ہے تاکہ پولو میدان تک رسائی اور عالمی پولو فیسٹیول کا انعقاد ممکن ہو سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شندور ٹاپ چترال اور گلگت کی باہمی رابطہ گزر گاہ بھی ہے، اس لیے اسے جلد کھولنا پڑتا ہے۔
کاچی کانی پاس کی بلندی 4700 میٹر ہے اور یہ وادی سرمی چترال کو سوات ویلی سے ملاتا ہے۔
چونکہ سوات اور چترال کے دیگر راستے آسان ہیں اس لیے کاچی کانی درے سے برف ہٹانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔
درہ خنجراب کے مغرب میں واقع منٹکا پاس (4700 میٹر بلند) شاہرائے قراقرم کے مسافروں کے لیے آسان سفر فراہم کرتا ہے۔ یہ درہ آٹھ ماہ کھلا رہتا ہے۔
دورہ پاس کی 5030 میٹر بلندی گلگت کی غذر ویلی کو وادئ سوات سے منسلک کرتی ہے۔ گرم دنوں کا عروج اس درے کو ازخود کھول دیتا ہے۔
درہ چلنجی 5300 میٹر بلند ہے اور بالائی ہنزہ کی چپرسن وادی کو اشکومن اور کرومبر سے جوڑتا ہے۔ غیر معروف گزرگاہ ہونے کی وجہ سے یہ درہ بھی 11 مہینے بند ہی رہتا ہے۔
درحقیقت اگر ان دروں کو برف پر نمک چھڑک کر پگھلایا نہ جائے یا بھاری مشینوں سے برف کو دھکیل کر نیچے نہ پھینکا جائے تو یہ ٹاپ سال بھر بلکہ عمر بھر بند ہی رہیں۔
یہ انسانی ضرورت ہے جو برف کے ان معبدوں کو انسانی قدموں سے آشنا کرتی ہے۔
