پتھر کے زمانے میں خوش آمدید

جنگ ہو گی، جنگ نہیں ہو گی، جنگیں اب کہاں ہوتی ہیں؟ دوسری عالمی جنگ کے بعد کون جنگ کرنا چاہتا ہے؟ محکمہ جنگ نہیں، محکمہ دفاع ہوتا ہے۔

افغانستان سے نکلنے کے بعد امریکہ نئی جنگ نہیں چھیڑے گا۔ نیٹو کے بغیر امریکہ جنگ نہیں لڑے گا وغیرہ وغیرہ۔

تو صاحبان! ہم اپنی اپنی پیش گوئیاں لیے اپنا سا منہ لے کے رہ گئے۔ جنگ ہو گئی، نیٹو کے بغیر ہو گئی، محکمہ جنگ بھی بن گیا اور سب سے بڑا خدشہ بھی پورا ہو گیا، آبنائے ہرمز بھی بند ہو گئی۔

خلیج کے ممالک کی جنت جہاں سے پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کے غریب غربا اور اب دنیا بھر کے امیر امرا اپنی اپنی روزی روٹی کماتے تھے، ایسے ہی چھوٹی جیسے آدم خلد سے نکلے تھے مگر ہم شاید زیادہ بے آبرو ہو کر نکلے۔

فلسطینی، جو اب غزہ کی پٹی کے محصور بن چکے ہیں، اس ساری افراتفری میں کہیں غائب ہی ہو گئے۔ جنگ کے اثرات بڑھتے بڑھتے راقم کی چند لاکھ کی معیشت پہ آ پڑے۔

میری ہی طرح آپ سب بھی ٹیلی ویژن کی سکرین یا اپنے سمارٹ فون کھولے اور حیرت کے مارے منہ بھی کھولے دنیا کے حالات دیکھ رہے ہیں۔

سونے کی قیمت دبئی میں موجود فراری کی رولر کوسٹر کی طرح ایک دم چڑھتی ہے اور اگلے روز دھڑام سے جا گرتی ہے۔

ہمارے متوسط طبقے میں شادی کے موقعے پہ لڑکیوں کو تولے تولے کی چھہ چوڑیاں، چار تولے کا ایک سیٹ اور ڈھائی تولے کا دوسرا سیٹ دیا جاتا ہے۔

زیادہ لاڈلی لڑکیوں کو کن چھیدن، بسم اللہ اور آمین پہ کانوں کی بالیاں اور چند منے منے لاکٹ سیٹ بھی مل جاتے تھے جن کا وزن ملا جلا کے تین تولے سے اوپر نہیں ہوتا۔

سونے کی قیمت بڑھنے سے گھر کے یہ افراد جنہیں عام طور پہ کوئی اہمیت حاصل نہیں ہوتی، اچانک امیر ہو جاتے ہیں اور اگلے دن قیمت  گرنے سے گھر بیٹھے غریب ہو جاتے ہیں۔

راتوں رات امیر ہونے اور راتوں رات غریب ہونے کا یہ تماشا بھی ہم ہی نے دیکھنا تھا۔ خیر، یہ تو ہوا ایک نیم مائع سرمایہ، اصل آفت پٹرول نے جوت رکھی ہے۔

وہی لاہور جہاں ٹھنڈی سڑک پہ بھی تانگے چلتے تھے، وہاں سے بھینسوں اور گھوڑوں کو دیس نکالا ملنے کے بعد، گاڑیوں کا ایک ایسا سیلاب آیا کہ لگتا تھا کچھ عرصے میں ہر شخص جوتوں کے جوڑے کی طرح دو، دو گاڑیاں لیے پھرے گا۔

یہ سب لوگ پٹرول بھروانے اور کئی، کئی گاڑیاں رکھنے کی استطاعت رکھتے ہیں، اسی لیے تو گاڑیاں لیے پھر رہے ہیں۔

ان ہی امرا کے درمیان وہ لوگ بھی ہیں جنہیں پٹرول کی چند پیسے بڑھتی قیمت بھی پہلے سے جھکی کمر پہ آخری تنکے کی طرح محسوس ہوتی ہے۔

اس وقت آدھے لوگ چلا چلا کے نئی قیمت کا دفاع کر رہے ہیں اور باقی سوچ رہے ہیں کہ 50 ہزار روپے میں گاڑی کا ٹینک فل کراتے ہوئے کیسا لگے گا؟

ہم جیسے تو آٹھ ہزار روپے کا ٹینک بھروا کے بھی ایوریج ٹھیک کرنے کے چکر میں کچھوے کی رفتار سے چلتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب یہ ہی ٹینک کتنے میں بھرا جائے گا اور کیسے بھرا جائے گا؟ جیسے ہر پیش گوئی غلط ہوئی۔

یہ پیش گوئی بھی تو غلط ہو سکتی ہے کہ پاکستانی جہاز ہمیشہ آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔

پچھلے آٹھ برسوں میں کتنی بار لکھا کہ دنیا بدل رہی ہے، جیو پالیٹکس اور آئل پالیٹکس اب وہ نہیں رہیں گے،  نیو ورلڈ آرڈر کچھ اور ہو گا۔  دنیا بدل گئی، راتوں رات۔

اس نئی دنیا میں ایک سوال جو سب سے اہم ہے وہ یہ کہ نیا انسان محتاج ہے اور محتاجوں کے پاس نہ کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔

انہیں اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہر بات پہ صاد کہنے کی عادت ہو جاتی ہے۔

پٹرول کی قیمت 495 ہوتی یا 595، دو دن شور مچانے کے بعد محتاج اس بوجھ کو اٹھانے کے بھی عادی ہو جاتے۔

پٹرول کی قیمت بڑھا کے کم کر دی گئی تو بھی ہم کیا کر سکے؟ کل یہ قیمت سو روپے مزید بڑھ جائے گی تو ہم کیا کر سکیں گے؟

تو یہ سوچنا کہ جنگ کہیں دور لڑی جا رہی ہے، بے فائدہ ہے۔ انڈیا کے فوڈ ولاگر، بنا ایل پی جی کے کھانا پکانے کی ترکیبیں بتا رہے ہیں۔

اب ہمارے ولاگر سوچ رہے ہوں گے کہ بنا پٹرول کے گاڑی چلانے کی ترکیب بتائی جائے۔

شمسی توانائی کے سوا اب ہمارے پاس کوئی سستا ذریعہ باقی نہیں رہ گیا۔ جنگ رک بھی جاتی ہے تو جنگ کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔

یورپ آج تک دوسری عالمی جنگ کے جھٹکے سے نہیں نکل سکا۔

بہتری تو اسی میں ہے کہ خود ہی اس زمانے میں لوٹ جائیں جہاں سڑکوں پہ گھوڑے چلتے تھے اور دن کی روشنی ختم ہونے کے بعد جاگنے، وقت بے وقت بازار سے کھانا منگا کے کھانے اور بے مصرف چیزوں کے بغیر بھی زندہ رہنے کے طریقے موجود تھے۔

ورنہ آپ سن ہی چکے ہیں کہ جنگ ایران کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے تک جاری رہے گی۔

انتخاب آپ کا ہے، پتھر کے زمانے میں جانا ہے یا اس دنیا میں لوٹنا ہے جس میں آپ کے دادا، دادی رہتے تھے۔ انتخاب کیجیے کہ جنگ ابھی جاری ہے۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *