’انڈین فلمی صنعت پاکستان کے بغیر کچھ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے سہارے ہی آگے بڑھ رہی ہے۔‘
یہ خیال ہمارے ایک فلمی تجزیہ کار دوست کا ہے۔ اس ایک جملے پر غور کیا تو یقینی طور پر کچھ ایسا ہی نظر آیا۔
اس خیال کو اس وقت مزید تقویت ملی جب حال ہی میں یہ خبر منظر عام پر آئی کہ مئی 2025 میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد انڈیا میں اسی جنگ پر فلم بنانے کی دوڑ لگ گئی۔
’آپریشن سندور‘ کے نام کے حصول کے لیے کئی فلم سازوں کے درمیان مقابلہ تھا اور اب معلوم ہوا کہ اسی موضوع پر ایک فلم تخلیق کی جا رہی ہے، جس کی ہدایت کاری وویک اگنی ہوتری دیں گے جبکہ اس کی پروڈکشن ٹی سیریز کرے گا۔
اب ظاہر ہے کہ اس فلم میں وہ سب کچھ دکھایا جائے گا جواس جنگ میں انڈیا نے کیا بھی نہیں۔ یعنی اس مووی کے ذریعے اس بیانیے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی جو اس جنگ کے بعد انڈیا کے خلاف عالمی ذرائع ابلاغ، مبصرین اور خود صدر ٹرمپ نے بنایا تھا۔
گویا اب سکرین پر وہی سب کچھ دکھایا جائے، جس کے بارے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے رہنماؤں نے اس جنگ کے بعد ڈینگیں ماری تھیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایسا نہیں کہ ماضی میں پاکستان مخالف فلموں میں انڈین ہدایت کاروں نے اپنی توانائی ضائع نہ کی ہو۔ ’بمبئی، ’روجا‘، ’غدر‘ اور ’بارڈر‘ اس کی واضح اور نمایاں مثالیں ہیں، لیکن کچھ ایسی تخلیقات بھی ہیں جو توازن کے ساتھ بڑے پردے کی زینت بنائی گئیں جیسے ’بجرنگی بھائی جان‘ یا ’ویر زارا‘، جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ کہانی نفرت بھی پھیلا سکتی ہے اور محبت بھی۔
مودی سرکار کے دور میں انڈیا میں پاکستان اور مسلم مخالف فلموں کی جس طرح مانگ بڑھی ہے یہ ایک خوف ناک رحجان ہی کہا جاسکتا ہے۔ گذشتہ 10 سال کے دوران اس معاملے میں غیر معمولی تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔
مودی حکومت کی خوشنودگی اور اپنی بقا کے لیے پھر بالی وڈ کے بڑے خانز، عامر خان، سلمان خان، سیف علی خان اور شاہ رخ خان کو بھی ایسی فلموں میں تواتر کے ساتھ آنا پڑا جو پاکستان مخالف تصور کی گئیں۔
انڈیا میں اس رحجان کی کامیابی یا پھر ضرورت کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ ’غدر‘ اور ’بارڈر‘ جیسی فلموں کے سیکوئلز سے جہاں پروپیگنڈا کیا گیا، وہیں ان فلموں کی کامیابی نے فلم سازوں کو بھی خاطر خواہ مالی فائدہ دیا۔
کہتے ہیں کہ سینیما کی جادونگری کے ذریعے خواب فروخت کیے جاتے ہیں اور انڈین ہدایت کار تو اس نظریے پر ضرورت سے زیادہ عمل کرتے ہوئے عوام کو ایک ایسی دنیا کی سیر کرواتے ہیں جس کا حقیقت یا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
اصل واقعے یا تاریخی شخصیت کے کردار کو توڑ مروڑ کر اپنے مقصد کے تحت خوب مرچ مصالحہ لگا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان فلموں میں انڈین ہیروز، ہر ناممکن کو ممکن کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، وہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتا ہے اور کمال مہارت سے وطن بھی واپس لوٹ جاتا ہے۔
لطف کی بات تو یہ ہے کہ ان فلموں کے مطابق پاکستانی ادارے اور اہلکار ان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے بلکہ وہ تو ان انڈین جاسوسوں کی اصلیت سے واقف بھی نہیں ہو پاتے۔ ساری کی ساری شاطرانہ چالیں اور ذہانت صرف انڈین ہیروز پر آ کر ختم ہوتی ہیں۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ انڈیا میں پاکستان مخالف فرضی کہانیوں پر درجن بھر فلمیں پروڈکشن کے مراحل سے گزر رہی ہیں ۔فلم ’دھرندر‘ کے بعد تو اس رحجان کو غیرمعمولی پذیرائی ملی۔
اب کہانی نویسوں کو بھی زیادہ محنت کرنے کے لیے پسینہ نہیں بہانا پڑتا۔ بس پاکستان مخالف فلم بنائیں، جھوٹے سچے واقعات گھڑیں اور حکومت وقت کی تعریف و توصیف کریں اور کمائی کرتے چلے جائیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین حکومت بھی ایسی فلموں پر کم سے کم ٹیکس لاگو کرکے اپنی تشہیر اور بیانیے کو عام کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ یہی بالی وڈ کا اب آسان اور کارآمد فارمولا بن چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انڈین فلمی صنعت پاکستان اور مسلم مخالف بنا کر قوم پرستی کو نمایاں کر رہی ہے۔ جلسوں، تقریبات اور الیکٹرونک میڈیا کے بعد حکومتی بیانیے کی تشہیر میں جو کسر رہ جاتی ہے ، وہ اب ان فلموں کے ذریعے ہر ایک کے ذہن میں ٹھونسا جا رہا ہے۔
اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ فلم ’دھرندر‘ میں مودی حکومت کے بڑے کرنسی نوٹ کو بند کرنے کے متنازع فیصلے پر یہ موقف پیش کیا گیا کہ یہ عمل اس لیے کیا گیا کیونکہ دہشت گردی کے لیے کرنسی نوٹ استعمال ہو رہے تھے۔
المیہ یہ ہے کہ یہ رحجان صرف سینیما تک محدود نہیں بلکہ اب تو ویب سیریز میں بھی پاکستان مخالف ایجنڈے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی مثال دی فیملی مین، بارڈر آف بلڈ اور فریڈم ایٹ مڈ نائٹ نمایاں ہیں۔
پاکستان مخالف فلمیں بنا کر اداکار ہی نہیں ہدایت کاروں کی بھی لاٹری کھلتی چلی جا رہی ہے۔ اب فلم ’دھرندر ‘ کے ہدایت کار ادتیہ دھر کو ہی لے لیں، جن کے دامن میں بطور ہدایت کار، رائٹر اور فلم ساز ’بونڈ‘، ’آکروش‘، ’تیز‘، ’دھوم دھوم‘ اور ’بارہ مولا‘ جیسی اوسط اور ناکام فلمیں تھیں لیکن اس وقت وہ انڈیا کے ٹاپ کلاس ہدایت کار بن چکے ہیں۔
کچھ ایسا ہی حال وویک اگنی ہوتری کا تھا جنہوں نے سماجی اور رومانی فلمیں بنانے کی کوشش کی لیکن ہر قدم پر ناکامی ملی جس کے بعد وویک اگنی ہوتری نے اپنی لائن تبدیل کرتے ہوئے حقائق کو مسخ کرتی فلموں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا تو ان کے پاس سے ’دی تاشقند فائلز‘، ’کشمیر فائلز‘ اور پھر ’بنگال فائلز‘ جیسی فلمیں منظر عام پرآئیں۔
ان تمام فلموں کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ ان میں دکھائے جانے والے مناظر اور کہانیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا اور اب آپ خود اندازہ لگالیں کہ ان کی آنے والی نئی فلم ’آپریشن سندور‘ میں کس قدر مبالغہ آرائی سے کام لیا جائے گا۔
دیکھا جائے تو انڈیا عملی میدان میں ناکامی کے بعد اب جنگ سکرین کے ذریعے لڑ رہا ہے۔ فلمیں تاریخ کو اپنی مرضی سے ترتیب دیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہ فلمیں انڈین عوام کے جذبات اور احساسات کو ایک خاص سمت میں کہانی اور کردار کے ذریعے موڑ رہی ہیں۔
اب کارگل جنگ ہو یا کشمیر تنازع ہر واقعہ انڈیا کے لیے ڈرامائی ہتھیار بن گیا ہے۔ اور تو اور اب تو وہ پاکستان کے اندرونی معاملات، سیاست دانوں اور واقعات پر فلمیں بنا کر میٹھا زہر گھولنے میں مصروف ہیں۔
اس تناظر میں یہ کہنا درست ہی لگتا ہے کہ انڈین فلمی صنعت میں کہانیوں کا واقعی فقدان ہے۔ یہ فلم نگری پاکستان کے بغیر کچھ نہیں بلکہ پاکستان کے سہارے ہی آگے بڑھ رہی ہے۔
یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
