اسلام آباد مذاکرات، پاکستان اور مسلم دنیا کا اپنا فائدہ ہے: تجزیہ کار

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی دوسرے ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔

فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے فوجی اور اہم مقامات کو نشانہ بنانے کے اعلان کیے جا رہے ہیں وہیں دوسری جانب علاقائی ممالک جیسے سعودی عرب، پاکستان، مصر اور ترکی کی جانب سے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس صورت حال میں اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ سفارتی رابطے اور وزرائے خارجہ سطح کے اجلاس کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم امریکہ اور ایران کی براہ راست عدم شمولیت کی وجہ سے اس عمل کی افادیت پر بات کی جا رہی ہے۔

پاکستان اپنی ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث ایک متوازن کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات اس کوشش کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔

 کیا یہ سفارتی کوشش واقعی جنگ بندی کی طرف پیش رفت ہے یا یہ محض ایک علامتی اقدام ہے؟

 اس سمیت کئی اہم سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے خارجہ امور پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافی باقر سجاد سید سے گفتگو کی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *