ایران نے خلیجی ممالک پر 83 فیصد جبکہ اسرائیل پر محض 17 فیصد حملے کیے: رپورٹ

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک نے کہا ہے کہ اسرائیل سے بھی زیادہ ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کا حملوں کا سامنا کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے بدھ کو ایسے حملوں کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی طرف سے داغے کے میزائلوں اور ڈرونز میں سے 83 فیصد کا سامنا جی سی سی ممالک کو کرنا پڑا جبکہ 17 فیصد کا ہدف اسرائیل تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خلیجی ممالک میں اہم انفراسٹرکچر اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے یہ حملے خطرناک شدت اختیار کر چکے ہیں، جو علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

’مجموعی طور پر داغے گئے ہتھیاروں کی تعداد 4,391 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے برعکس، اسرائیل جو براہِ راست ایران پر حملے کر رہا ہے، پر 930 میزائل اور ڈرون حملے ہوئے ہیں، جو کہ کل علاقائی حملوں کا صرف 17 فیصد بنتے ہیں۔‘

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان حملوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس تنازع کے آغاز سے اب تک سعودی عرب  پر 723 میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں۔

جبکہ یو اے ای پر پر 2,156، بحرین پر 429، کویت پر 791، قطر پر 270 جبکہ عمان پر 22 حملے کیے گئے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’خلیجی فضائی دفاعی نظاموں نے ان خطرات کو ناکام بنانے میں غیر معمولی کارکردگی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، اور خود کو ایک ناقابلِ تسخیر ڈھال ثابت کیا ہے جو خطے کی سلامتی اور استحکام کو محفوظ بناتی ہے۔‘

خلیجی عرب ممالک کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں نشانہ بنانے والے یہ حملے بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے روایتی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور عالمی معیشت اور بین الاقوامی توانائی کے تحفظ کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

سعودی عرب سمیت چھ پانچ عرب نے بدھ کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران کے حالیہ حملے ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن کی طرف سے کہا گیا کہ ایسے حملے ’چاہے یہ براہِ راست کیے گئے ہوں یا ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے‘ نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری سے شروع کیے جانے والے حملوں کے جواب میں ایران کے اسرائیل کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور بحرین پر بھی حملے شروع کر دیے تھے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *