آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول نے عالمی معیشت میں افراتفری پیدا کر دی ہے۔ یہ مسئلہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے لیے سب سے اہم مسئلہ بن گیا ہے وہ بھی ایسے وقت میں جب وہ تہران کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس اہم آبی گزر گاہ میں ایرانی حملوں کے باعث صرف تین ہفتوں میں تجارتی آمدورفت میں تقریباً 95 فیصد تک کمی آ گئی ہے، جس سے توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور مسئلے کے حل کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
لیکن خطے میں جاری اس کھلی جنگ کے پس منظر میں ایک خاموش اور ’غیر مرئی جنگ‘ بھی جاری ہے، جس میں زمین، فضا اور سمندر میں ٹریکنگ معلومات کو بگاڑ کر افراتفری پیدا کی جا رہی ہے یا خود کو چھپایا جا رہا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جی پی ایس میں مداخلت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے دونوں فریق ایک ’الیکٹرانک جنگی دوڑ‘ میں شامل ہو گئے ہیں تاکہ اثرات کو محدود کیا جا سکے اور برتری حاصل کی جا سکے۔
اگرچہ بنیادی ہدف فوجی تنصیبات ہیں، لیکن یہ خلل متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور ایران کے قریب تجارتی جہازرانی کو بھی متاثر کر رہا ہے، جس سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت مزید مضبوط ہو رہی ہے اور تنازع مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔
جی پی ایس میں چھیڑ چھاڑ کیسے کام کرتی ہے؟
جیمِنگ (Jamming) اور سپوفنگ (Spoofing) مداخلت کی عام اقسام ہیں، جو کسی بھی ایسے نظام کو متاثر کر سکتی ہیں جو سیٹلائٹ کے ذریعے اپنی جگہ کا تعین کرتا ہے، چاہے وہ موبائل فون ہو یا بحری جہاز۔
جی پی ایس اس بنیاد پر کام کرتا ہے کہ سیٹلائٹ سے آنے والے سگنلز کو زمین تک پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔ چونکہ یہ سگنلز زمین تک پہنچتے پہنچتے کمزور ہو جاتے ہیں، اس لیے انہیں بگاڑنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
حملہ آور جیمِنگ کے ذریعے اصلی سگنلز کو برقی شور سے دبا دیتے ہیں، جس سے سگنلز درست طریقے سے وصول نہیں ہو پاتے۔ موبائل فون پر اس کا اثر نقشے کے رکنے یا غلط حرکت دکھانے کی صورت میں نظر آ سکتا ہے۔
سپوفنگ زیادہ پیچیدہ طریقہ ہے، جس میں جعلی سیٹلائٹ سگنلز بھیجے جاتے ہیں جو اصلی سگنلز جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ ریسیور انہیں قبول کر لیتا ہے اور غلط مقام ظاہر کرتا ہے۔
اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ گذشتہ مئی میں کنٹینر جہاز MSC Antonia نے بحیرہ احمر میں سفر کے دوران اپنی اصل جگہ سے بہت دور مقام دکھانا شروع کر دیا۔
جہاز کے عملے کو لگا کہ وہ سینکڑوں میل جنوب کی طرف منتقل ہو گئے ہیں، جس سے وہ الجھن کا شکار ہو گئے اور آخرکار جہاز ریت میں پھنس گیا۔
اس حادثے سے لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا اور جہاز کو نکالنے کا عمل پانچ ہفتوں سے زیادہ جاری رہا۔
فوجیں جیمِنگ اور سپوفنگ کیسے استعمال کرتی ہیں؟
برطانوی فوج کے سابق کرنل اور انٹیلیجنس ماہر فلپ انگرام کے مطابق، جیمِنگ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے جدید جنگ کا لازمی حصہ رہی ہے۔
ان کے مطابق: ’یہ منصوبہ بندی کا حصہ ہوتا ہے، جیسے آپ گولہ بارود کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ایران، جو سپوفنگ میں ’بہت سرگرم‘ ہے، خلیج میں مداخلت کے ذریعے اتحادیوں کی انٹیلیجنس جمع کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔
دیگر اقسام کی جیمِنگ ہوائی جہازوں کی کمیونیکیشن روک سکتی ہیں اور آنے والے میزائل یا ڈرونز کے سگنلز کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایوی ایشن انٹیلیجنس کمپنی Wingbits کے شریک بانی الیکس لنگو کے مطابق، جی پی ایس مداخلت دشمن کو الجھانے اور خود کو محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنازع میں شامل تمام فریق اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ سب کا مقصد ایک دوسرے کی نیویگیشن کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
فلپ انگرام کے مطابق سعودی عرب، یو اے ای اور قطر بھی دفاعی مقاصد کے لیے سپوفنگ استعمال کر رہے ہوں گے تاکہ آنے والے شاہد (Shahed) ڈرونز کو الجھایا جا سکے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ Shahed 136 ڈرون میں روسی ٹیکنالوجی شامل ہے جس میں اینٹی جیمِنگ صلاحیت موجود ہے، جس سے یہ ایک جدید ’الیکٹرانک جنگی دوڑ‘ بن چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران نے گذشتہ جون کی 12 روزہ جنگ کے بعد اپنی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔
فرانسیسی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ ایلین ژولیہ کے مطابق ایران نے ممکنہ طور پر چین کا BeiDou سیٹلائٹ نظام حاصل کیا ہے، جس سے اس کی ہدف بندی زیادہ درست ہو گئی ہے۔
تجارتی پروازیں اور جہاز کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟
مشرقِ وسطیٰ کے زیادہ تر ممالک نے جنگ کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ ایئر لائنز نے حفاظتی خدشات کے باعث پروازیں معطل کر دی ہیں، جس سے روزانہ تقریباً 450 ملین پاؤنڈ کا نقصان ہو رہا ہے۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں برطانیہ نے عمان سے اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے خصوصی پروازیں چلائیں۔
الیکس لنگو کے مطابق عمان کی فضائی حدود سے گزرنے والی تمام پروازیں اندھا دھند جی پی ایس ’مداخلت‘ سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جی پی ایس جیمِنگ کو کسی مخصوص علاقے تک محدود رکھنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے اس کے اثرات پڑوسی ممالک تک بھی پھیل جاتے ہیں۔
امریکی بحریہ کے سابق افسر چارلی براؤن کے مطابق، جی پی ایس میں خلل جہازوں کے لیے خطرات بڑھا دیتا ہے اور نیویگیشن کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ جی پی ایس کے بغیر بھی جہاز چلانا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے زیادہ احتیاط اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کے مطابق حالیہ برسوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملاح صرف جی پی ایس پر انحصار نہ کریں بلکہ مختلف ذرائع سے معلومات کی تصدیق کریں۔
انہوں نے کہا: ’یہ سنگین مسئلہ ہے۔ یہ پیچیدگی، خطرہ اور پریشانی سب بڑھاتا ہے۔‘
اس وقت تک کم از کم 22 شہری جہاز، جن میں آئل ٹینکرز اور کارگو شپ شامل ہیں، حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
ڈرونز اور میزائلوں کے خطرات کے ساتھ ساتھ غلط جی پی ایس ڈیٹا تنگ سمندری راستوں جیسے آبنائے ہرمز میں حادثات کا خطرہ مزید بڑھا دیتا ہے۔
یہ صورت حال کب ختم ہوگی؟
جی پی ایس مداخلت کئی دہائیوں سے انٹیلیجنس کا اہم حصہ رہی ہے، اور ایران کا تنازع اس کی تازہ مثال ہے۔
ماہرین کے مطابق جب تک تنازع جاری رہے گا، یہ الیکٹرانک جنگ بھی جاری رہے گی۔ یوکرین کی جنگ کی طرح، نئی ٹیکنالوجیز مسلسل ایک دوسرے کا مقابلہ کرتی رہیں گی۔
فلپ انگرام کے مطابق: ’مشرقِ وسطیٰ میں یہ ابھی اس سطح تک نہیں پہنچی، لیکن الیکٹرانک جنگی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔‘
