ڈیٹنگ برن آؤٹ ہماری ملازمتوں کو کیسے متاثر کر رہا ہے

آپ اپنی محبت بھری زندگی کو دفتر میں لا نہیں سکتے۔ روایتی طور پر یہ دو بالکل الگ دنیائیں رہی ہیں۔ ایک صبح نو سے شام پانچ بجے تک کے درمیان اور دوسری اس کے باہر ہوتی ہے۔ ان دونوں کو ملانا خطرناک ہو سکتا ہے – سیریز ‘Severance’ دیکھیں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ ہمارا مطلب کیا ہے۔

بظاہر، جنریشن زی کا یہ طریقہ کار نہیں رہا۔ اس لیے نہیں کہ وہ سب اپنے ساتھی کارکنوں کے ساتھ معاشقے کر رہے ہیں،  بلکہ مسئلہ تقریباً اس کے برعکس ہے، کیونکہ یہ وہ نسل ہے جو ڈیٹنگ کے زوال کے گہرے دور سے گزر رہی ہے۔

اس کے ثبوت سروے سے لے کر سوشل میڈیا تک ہر جگہ موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، انسٹیٹیوٹ فار فیملی سٹڈیز نے حال ہی میں دیکھا کہ 74 فیصد نوجوان خواتین اور 64 فیصد نوجوان مردوں نے پچھلے سال میں یا تو ڈیٹ نہیں کیا یا صرف چند بار کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کتنی بار ڈیٹ کرتے ہیں تو صرف 31 فیصد نے خود کو فعال ڈیٹر قرار دیا۔

اسی طرح سروے سینٹر آن امریکن لائف کے ایک سروے کے مطابق جنریشن زی کے صرف 56 فیصد افراد بالغ ہونے تک کسی رومانوی تعلق کا تجربہ کر چکے تھے، جب کہ پرانی نسلوں کے 75 فیصد افراد نے ایسا کیا تھا۔

یہ تو صرف اعداد و شمار کی بات ہے۔ اگر آپ کسی اکیلی عورت کی سوشل میڈیا فیڈ دیکھیں تو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ موجودہ ڈیٹنگ منظرنامے میں مرد و عورت کے تعلقات کے بارے میں کتنی مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈیٹنگ کرتے ہوئے کسی کو بھی اچھا وقت نہیں مل رہا۔ اور بظاہر اس کا اثر ہماری کام کی کارکردگی پر بھی پڑ رہا ہے، کیونکہ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ کم یا بالکل ڈیٹ نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری ابلاغی صلاحیتیں آہستہ آہستہ کمزور ہو رہی ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی کی نفسیات کی پروفیسر ٹیسا ویسٹ کہتی ہیں کہ ’ہمارے تنازعات کو سنبھالنے کے انداز اور قریبی تعلقات بنانے کی صلاحیت کے درمیان براہ راست تعلق پر کافی تحقیق موجود ہے۔‘

وہ 2024 کے ایک مطالعے کا حوالہ دیتی ہیں جس میں پایا گیا کہ جن افراد کے تعلقات میں قربت زیادہ ہوتی ہے وہ تنازعات کو سنبھالنے اور سمجھوتہ کرنے جیسے معاملات میں بہتر ہوتے ہیں۔ ‘مشترکہ طور پر مسئلہ حل کرنے جیسی مہارتیں قریبی تعلقات کے اتار چڑھاؤ سے سیکھی جاتی ہیں، اور یہی مہارتیں براہ راست کام کی جگہ پر بھی کام آتی ہیں،’ ویسٹ مزید کہتی ہیں۔

یقیناً یہ مہارتیں رومانوی تعلقات کے علاوہ دوسری جگہوں پر جیسے کہ گھر کے ماحول میں بھی سیکھی جا سکتی ہیں۔ لیکن نوجوان بالغوں کے لیے وہ جذباتی ٹولز کا مجموعہ جو ایک رشتہ فراہم کرتا ہے، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

‘جب آپ جوانی میں یہ ‘سیکھنے کے مواقع’ کھو دیتے ہیں تو آپ دفتری دنیا میں داخل ہوتے وقت ان بنیادی مہارتوں کے بغیر ہوتے ہیں جو مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں،’ ویسٹ کہتی ہیں۔ ‘ہمیں احساس نہیں ہوتا، لیکن ہم اپنی نوعمری اور ابتدائی جوانی میں انہی ابتدائی اور کبھی کبھار عجیب سماجی تجربات کے ذریعے مشکل سماجی حالات کو سنبھالنا سیکھتے ہیں۔

’آپ حیران ہوں گے کہ ٹیم کے ساتھ کام کا بوجھ طے کرنا کتنا ملتا جلتا ہے اس بات سے کہ روم میٹس کے ساتھ رہنے کے اصول طے کرنا یا رومانوی ساتھی کے ساتھ یہ فیصلہ کرنا کہ تعطیلات کس کے خاندان کے ساتھ گزارنی ہیں۔’

پہلی نظر میں یہ بات عجیب لگ سکتی ہے؛ آپ کی رومانوی زندگی کا آپ کی ملازمت کی صلاحیت سے کیا تعلق؟ لیکن جب اسے تفصیل سے دیکھا جائے تو بات سمجھ میں آنے لگتی ہے۔ بہت سی باہمی مہارتیں جو میں نے اپنے تعلقات میں سیکھی، نکھاری اور پروان چڑھائی ہیں، انہوں نے کام میں میری مدد کی ہے: گفت و شنید، اپنی ضروریات کا اظہار، دوسروں کی ضروریات کے لیے ہمدردی، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا، سمجھوتہ کرنا، تعمیری تنقید قبول کرنا، ٹیم ورک، شراکت داری اور بہت کچھ۔ یہ سب چیزیں میری محبت بھری زندگی میں کسی بھی اور شعبے سے زیادہ آزمائی گئی ہیں۔

اسی لیے یہ سمجھنا آسان ہے کہ اگر کوئی ڈیٹنگ نہ کرے تو ان میں سے کچھ مہارتیں کمزور ہو سکتی ہیں کیونکہ انہیں باقاعدگی سے نکھارنے کا موقع نہیں ملتا۔

لیکن اس کے اور بھی نقصانات ہیں۔ کم ڈیٹنگ کا مطلب یہ بھی ہے کہ ڈیٹنگ مزید مشکل محسوس ہونے لگتی ہے۔ کم از کم میرے اکیلے دوستوں اور میرے تجربے میں یہی محسوس ہوتا ہے۔ آج کل ڈیٹنگ کے بارے میں پھیلی ہوئی منفی سوچ بہت زیادہ اور تھکا دینے والی ہو سکتی ہے۔ یہ توانائی سے لے کر توجہ تک ہر چیز کو متاثر کرتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بری ڈیٹس خراب نیند کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے اگلے دن کام مشکل لگنے لگتا ہے، اور کسی بھی قسم کی پریشانی یا عجیب صورت حال پورے کام کے دن کے دوران ذہن پر حاوی رہ سکتی ہے۔ اس طرح یہ ایک دائرہ نما مسئلہ بن جاتا ہے: اگر آپ سنگل ہیں تو ڈیٹ کریں تب بھی مسئلہ، نہ کریں تب بھی مسئلہ۔

کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر میں ڈیٹنگ نہ کر رہی ہوتی تو شاید میں زیادہ پیداواری ہوتی، کیونکہ میرے پاس اپنے کام پر لگانے کے لیے زیادہ توجہ اور توانائی اور زیادہ ذہنی طاقت ہوتی۔

ایک 31 سالہ سنگل دوست بتاتا ہے کہ ’میری محبت بھری زندگی یقیناً میرے کام کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ میں خود روزگار ہوں۔ ڈیٹنگ حیرت انگیز طور پر بہت وقت اور ذہنی توانائی خرچ کر دیتی ہے۔ ایپس پر ہونا، سوائپ کرنا، چیٹ کرنا اور پھر کسی سے ملنا – سب کچھ وقت لیتا ہے۔ صرف بات چیت جاری رکھنا، پیغامات کا جواب دینا یا وائس نوٹس بھیجنا بھی ذہنی جگہ گھیر لیتا ہے، اور میں اکثر یہ سوچتی رہتی ہوں کہ کیسے جواب دوں یا زیادہ دلچسپ کیسے لگوں۔

’یہ سب جمع ہو جاتا ہے، اور کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر میں ڈیٹنگ نہ کر رہی ہوتی تو شاید میں زیادہ پیداواری ہوتی کیونکہ میرے پاس اپنے کام کے لیے زیادہ توجہ اور توانائی ہوتی۔‘

یہ بات شاید عام سی لگے، اور یقیناً آپ کو یہ مشورہ ‘#SinglePositivity’ والے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر نہیں ملے گا، لیکن ایسے مسائل کبھی کبھی اس وقت حل ہو جاتے ہیں جب کوئی شخص رومانوی تعلق میں داخل ہو جاتا ہے۔ فنانشل ٹائمز میں امریکی فوٹوگرافر سیلی مان کے بارے میں لکھتے ہوئے مصنفہ میگن نولن نے یہ خیال پیش کیا کہ کسی رشتے میں ہونا اس کی تخلیقی ذہنی جگہ کو آزاد کر دیتا تھا۔

انہوں نے گذشتہ اکتوبر شائع ہونے والے مضمون میں لکھا: ’یہ کہنا نہیں کہ تعلق میں ہونا تنہائی سے کم پیچیدہ ہے، لیکن میرے تجربے کے مطابق ایک سنگل شخص جو ساتھی چاہتا ہے، اس کے لیے کئی سال بلکہ دہائیاں گزر جاتی ہیں جن میں وہ نامکمل خواہش ذہن کو بہت زیادہ گھیرے رکھتی ہے۔

’جب میں آخرکار اپنے ساتھی سے ملی تو مجھے صرف وہ خوشی محسوس نہیں ہوئی جو پہلے محبتوں میں محسوس ہوتی تھی، بلکہ یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے میری ذات کا بڑا حصہ مجھے واپس مل گیا ہو۔ وہ حصہ جو میرے کام سے دور کہیں بھٹک رہا تھا۔‘

اس کا بڑا تعلق اعتماد سے بھی ہے۔ رومانوی کامیابی انسان کے قدموں میں ایک خاص سی روانی پیدا کر دیتی ہے جو یقیناً کام کی صلاحیت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

’جب لوگوں کے پاس یہ نہیں ہوتا تو اس کا ایک خاص اظہار ہوتا ہے، چاہے وہ براہ راست ان مسائل سے متعلق نہ بھی ہو۔

’کیلیفورنیا میں مقیم لائسنس یافتہ شادی اور خاندانی معالج امانڈا فیرارا بتاتی ہیں۔ ‘ایک خاص حد تک احتیاط، ایک حد تک یہ سوچتے رہنا کہ لوگ آپ کو کیسے دیکھتے ہیں، یا کسی بھی ممکنہ تنقید سے بچنے کی کوشش۔‘

2026 میں ہم سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے سے زیادہ سکرینوں کے سامنے وقت گزار رہے ہیں۔ ڈیٹنگ کے زوال کے علاوہ ایسے مطالعات بھی موجود ہیں جو دکھاتے ہیں کہ جنریشن زی کم میل جول کر رہی ہے اور اس کے نتیجے میں بامعنی سماجی تعلقات بنانے میں مشکل محسوس کر رہی ہے۔

میں 31 سال کی عمر میں ملینیئل ہوں، لیکن اعتماد سے کہہ سکتی ہوں کہ یہی رجحان میرے ہم عمر لوگوں میں بھی موجود ہے۔ کام کی جگہوں پر اس کے اثرات یقیناً تشویش ناک ہیں، لیکن سچ کہوں تو مجھے اس سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ جب ہماری کمزور محبت بھری زندگیاں ہماری کمزور کام کی زندگیاں بھی متاثر کرنے لگیں تو پھر ہمارے پاس بچتا کیا ہے؟ رہائش کا بحران، مہنگائی کا بحران، اور ماحولیاتی بحران؟

سکون کہیں نہ کہیں تو ملنا چاہیے۔ یہ مختلف لوگوں کے لیے مختلف چیزیں ہو سکتی ہیں، لیکن ایک بات تقریباً یقینی ہے: یہ سکون ہماری سکرینوں پر نہیں بلکہ ان سے دور زیادہ ملنے کا امکان ہے۔ تھوڑا سا زیادہ آف لائن وقت یقیناً ہماری رومانوی زندگی کے امکانات کو بہتر بنا سکتا ہے – اور اگر تحقیق درست ہے تو ہماری دفتری زندگی کو بھی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *