|
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کو آج 25واں دن ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ اس جنگ کے تازہ ترین اپ ڈیٹس۔ |
صبح 08 بج کر 30 منٹ
مذاکرات کے لیے امریکی وفد پاکستان پہنچے گا تاہم ایران ’تیار نہیں‘
ترک نیوز ایجنسی انادولو نے پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی وفد ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک یا دو دن میں پاکستان پہنچ رہا ہے۔
تاہم انادولو کی رپورٹ کے مطابق ایران ’عدم اعتماد‘ کی وجہ سے ’اب تک اس کے لیے تیار نہیں‘ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزارت خادجہ کے ذرائع کے مطابق ’ایران کو مذاکرات کے لیے آنے پر آمادہ کرنے کے لیے بیک ڈور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، ترکی، اور مصر ’اس کوشش کی مشترکہ رہنمائی کر رہے ہیں۔‘
رات 9 بج کر 30 منٹ
پاکستان امریکہ ایران جنگ میں اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے: برطانوی اخبار
معروف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے پیر کو خبر دی ہے کہ پاکستان خود کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اخبار نے اس پیش رفت سے باخبر دو افراد کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی۔
اس خبر کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں اور ٹرمپ کی ’ٹروتھ سوشل‘ پر کی جانے والی پوسٹ آپس میں جڑی ہوئی ہیں یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے مذاکرات پر مزید تفصیلات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ حساس سفارتی بات چیت ہے اور امریکہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔‘
ترکی، جو جنگ سے پہلے بھی ثالثی کی کوششوں میں شامل تھا، وہ بھی ایرانی حکام اور ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف سے رابطے میں ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو اپنے ترک ہم منصب حقان فیدان سے بات چیت کی، جبکہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے بھی اتوار کو اپنے ایرانی اور پاکستانی ہم منصبوں سمیت وٹکوف اور قطری وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔
ادھر پیر کی رات امریکی اخبار ایکسیوس نے بھی مذاکرات میں پاکستان کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ ایکسیوس کے مطابق: ’ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ ثالثی کرنے والے ممالک رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ایک اجلاس بلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں تہران کی نمائندگی قالیباف اور دیگر حکام، جبکہ امریکہ کی نمائندگی وٹکوف، کشنر اور ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔‘
ایکسویس نے امریکی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران ترکی، مصر اور پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کام کر رہے ہیں۔
تاہم دوسری جانب ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’ہماری قوم جارحیت پسندوں کے لیے مکمل اور عبرت ناک سزا کا مطالبہ کرتی ہے۔ تمام حکام اس مقصد کے حصول تک اپنے قائد اور عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ یہ جھوٹی خبریں مالیاتی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کرنے اور اس دلدل سے بچنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں جس میں امریکہ اور اسرائیل پھنس چکے ہیں۔‘
رات 9 بج کر 20 منٹ
کچھ ’دوست ممالک‘ کے ذریعے امریکہ سے مذاکرات کی درخواست ملی ہے: ایران
ایران کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ اسے ’دوست ممالک‘ کے ذریعے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی درخواست کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم تہران نے جنگ کے آغاز سے اب تک ایسی کسی بھی بات چیت کے ہونے کی تردید کی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا: ’گذشتہ چند دنوں کے دوران بعض دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے جن میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی درخواست کا اشارہ دیا گیا تھا۔‘
تاہم، انہوں نے ’مسلط کردہ جنگ کے گذشتہ 24 دنوں کے دوران امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا بات چیت کی تردید‘ کی۔
