خیبر پختونخوا: لڑکیوں میں مقبول مگر معدوم ہوتا کھیل ’چندرو‘

چندرو بچپن کا وہ کھیل ہے جو صرف چند لکیر نما خانوں، پالش کے خالی ڈبے یا پھر پتھر کے ایک گول ٹکڑے کی مدد سے کھیلا جاتا، تب نہ کوئی مہنگا کھلونا ہوتا، نہ سکرین کی چمک، بس ایک پتھر، کچھ  لکیریں، اور چند سہیلیاں ہی خوشی کے لیے کافی تھیں مگر اب یہ علاقائی کھیل خواب بنتا جا رہا ہے۔

چندروں، صدیوں پرانا ایک روایتی کھیل ہے اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے کھیلا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس کھیل نام ہیں تاہم سات خانے ہونے کی وجہ سے اردو میں اس کھیل کو سات سمندر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کھیل کے مقبول ناموں میں چیچو، شٹاپو اور چندرو شامل ہیں۔ چندرو خاص طور پر لڑکیوں میں بہت مقبول رہا ہے عموماً سات سے 14 سال کی بچیاں یہ کھیل اپنے گھر کے صحن یا گلیوں میں کھیلا کرتی تھیں۔

کھیل کے لیے زمین پر چاک یا مٹی سے مخصوص خانے بنائے جاتے، جن میں ایک پتھر یا مٹی سے بھری خالی ڈبی اچھال کر، ایک پاؤں پر چھلانگیں لگاتے ہوئے خانے پار کیے جاتے۔ اگر کسی کھلاڑی کا پاؤں لکیر پر آ جائے یا پتھر غلط جگہ گرے تو وہ کھلاڑی ’آؤٹ‘ ہو جاتی اور باری اگلی کھلاڑی کی ہوتی۔

یہ کھیل نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ جسمانی صحت، توازن اور مہارت کا امتحان بھی ہے۔ بچیوں کی پھرتی، ذہانت اور ہم آہنگی اس کھیل میں خوب نکھرتی ہے جو لڑکی تمام خانے کامیابی سے مکمل کر لیتی ہے وہ ’بادشاہ‘ قرار پاتی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مگر جدید ٹیکنالوجی، سکرینز اور برقی کھلونوں کی وجہ سے یہ سادہ مگر بھرپور کھیل ماضی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ چندروں، جیسے بے شمار کھیل اب صرف کہانیوں، یادوں یا بزرگوں کی باتوں میں ہی باقی رہ گئے ہیں۔

علاقائی کھیلوں کو معدوم ہونے سے بچانے والے سوشل ورکر سلطان خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کھیلوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش اپنی آنے والی نسلوں کو ان خوبصورت اور صحت بخش کھیل کھود کی طرف لانا ہے جو سادہ مگر مفید ہیں۔

سلطان خان کا مزید کہنا ہے کہ چندرو میں کھیل کے رولز سب سے پہلے سیٹ کیے جاتے تھے تو پھر کھیلنے کے دوران اگر کوئی تنازعہ آ جاتا تو اس مسئلے کو بھی پھر انہیں رولز کے مطابق کھلاڑی خود حل کرتیں۔

’اس سے بچیوں کو مسائل کے حل کا بھی سبق ملتا ہے اور اگرعام زندگی میں کبھی کوئی مسئلہ آ جائے، کوئی تضاد آ جائے یا کوئی جھگڑا تو اس کو حل کرنے کی صلاحیت بچی میں ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’آج کل ہمارے ہاں چونکہ موبائل، کمپیوٹر لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس کی وجہ سے بچوں کا سکرین ٹائم بڑھ گیا ہے اور فزیکلی ایکٹیوٹی کم ہو گئی تو میری اپنی تمام بہنوں، بیٹیوں سے یہ گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو علاقائی و عوامی کھیلوں سے روشناس کرائیں تاکہ ہماری بچے کھیل کھود کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جسمانی طور پر ایک صحت مند زندگی گزارسکیں اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔‘

چندرو کھیلنے والی 13 سالہ ایشما کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ سکول سے واپس آتی ہے تو اپنی بہنوں اور سہیلیوں کے ساتھ چندرو کھیلتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *