شوال کا چاند تو پورے عالم اسلام کے لیے طلوع ہوا، لیکن عید کی خوشیاں منانا ہر کسی کے نصیب میں نہیں۔
دیکھا تو غزہ کے بچوں نے بھی اس چاند کو ہو گا لیکن عید منانے کے لیے ان کے پاس کچھ خاص نہیں۔
ہمت، بہادری اور جذبہ ایمانی ان کی رگوں میں دوڑ رہا ہے، پر اسرائیل کے مسلسل تین سال سے ہونے والے مظالم سے غزہ راکھ کا ڈھیر بن گیا ہے۔
ان بچوں کے پاس نہ عید کے نئے کپڑے ہیں، نہ عید کے لوازمات، نہ ہی سر چھپانے کے لیے مکمل گھر۔
کچھ اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے میں رہ رہے ہیں اور کچھ کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔ اوپر سے اسرائیلی جارحیت، گولی باری، میزائل اور جان کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔
ایسے میں چاند دیکھ کر فلسطین کے بچے نے کیا مانگا ہو گا؟ اس کو سویاں، عید کا جوڑا یا کھلونا نہیں بلکہ صاف پانی، پیٹ بھر کھانا، سکون کی زندگی، اپنے اہل خانہ کی سلامتی اور اپنا وطن واپس چاہیے ہوگا۔
ان کے پاس امید ہے لیکن وسائل موجود نہیں۔ اسرائیل رفح بارڈر بند کرکے امدادی سامان بھی ان تک نہیں جانے دیتا۔ کاش دنیا ان بچوں کے کرب کو پہلے ہی محسوس کر لیتی تو آج ساری دنیا جنگ کی لپیٹ میں نہ آتی۔
سب اسرائیل کی مدد کرنے کی بجائے اس کے مظالم کی مذمت کرتے، اسے اسلحہ نہ دیتے، امریکہ کو اس خطے میں فوجی اڈے نہ دیتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔
پر اب اسرائیل کی ایران پر جارحیت کے بعد پورا مشرق وسطیٰ اور جنوب ایشیا خطرے میں ہے۔
اس کے معاشی اور فرقہ وارانہ کیسے نتائج نکلیں گے، یہ دنیا کے امن پر کیسے اثر انداز ہوں گے، یہ آنے والے دن خود بتائیں گے۔
عید کا چاند تو ایران میں بھی نکلا ہوگا لیکن جو بچے ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں لقمۂ اجل بنے تھے، کیا ان کے گھروں میں عید ہوگی؟
نہیں، ایسا نہیں۔ ان ننھوں کے یونیفارم، کتابیں سب گھر پر والدین کے پاس ہیں، بس بچے منوں مٹی تلے سو گئے۔
ان پر کیا گزر رہی ہوگی، یہ لکھنے کے لیے قلم اور انگلیوں کو آنسوؤں میں ڈبونا پڑے گا۔ شاید الفاظ اس غم کا احاطہ نہیں کر سکتے جو ان والدین پر بیتی۔
اس خطے پر بلاوجہ جنگ مسلط کر دی گئی۔
عید کا چاند دیکھ کر وہ کیا خوشیاں منا رہے ہوں گے؟ کچھ بھی نہیں۔ کوئی اپنے پیارے کا دکھ منا رہا ہوگا، کوئی گھر کا ملبہ سمیٹ رہا ہوگا، کسی کے روزگار کی جگہ میزائل سے تباہ ہو گئی ہوگی اور وہ کوڑیوں کا محتاج ہو گا۔
ایران ایک بہادر قوم ہے، جیسے فلسطین، لیکن طویل جنگ معاشرت کو تباہ کر دیتی ہے۔ اگر جنگ کچھ عرصہ اور چلی تو ایران میں اشیائے خوردونوش کا بحران پیدا ہو جائے گا۔
صاف پینے کا پانی، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت ہو جائے گی۔ اس کے اثرات دنیا بھر میں آئیں گے۔ تیل کی ترسیل کم ہونے سے دنیا بھر میں مہنگائی ہوگی۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کی لپیٹ میں مشرق وسطیٰ بھی آ گیا ہے۔ چاند تو وہاں بھی نکلا ہو گا، پر اس بار وہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ کیسے ہمارے پرامن شہر اور جدید علاقے میزائلوں کی زد میں آ گئے۔
وہاں کے عوام بھی بے چینی اور خوف محسوس کر رہے ہیں۔ اس جنگ کو فوری طور پر رکنا چاہیے۔ اگر یہ جنگ پھیل گئی تو پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔
چاند تو افغانستان میں بھی نکلا ہوگا، لیکن چار دہائیوں سے جنگ میں مبتلا افغان باشندوں نے کیا عید منائی ہوگی؟ وہاں نہ کوئی نظام ہے، نہ سہولیات۔
بس سب نے اس خطے کو اپنے مطابق استعمال کیا اور اسے بنجر کر کے چھوڑ گئے۔ تمام عالمی طاقتیں اپنے مفاد کی جنگ لڑ کر اس خطے اور اس کی مظلوم عوام کو اکیلا چھوڑ گئیں۔
وہاں نہ صحت کی سہولیات ہیں، نہ تعلیم کی، نہ کوئی انفراسٹرکچر ہے۔ امن و امان نہیں، گروہ بندی ہے، قبائل ہیں۔
بچے اور عورتیں ظلم کا شکار ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کو جنگ بندی کرکے امن کی طرف بڑھنا چاہیے۔
سب کو ان کی مظلوم عوام، بچوں، بچیوں اور خواتین کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، جنہیں عالمی طاقتیں تنہا چھوڑ گئیں۔
چاند تو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بھی نکلا ہوگا، جہاں انڈیا مظالم آج بھی جاری ہیں۔ نئی دہلی نے ان کی جداگانہ حیثیت ختم کرکے ماضی قریب میں وہ مظالم ڈھائے جن کی مثال نہیں ملتی۔
نیٹ بند تھا، کرفیو لگا تھا اور کشمیریوں کو گرفتار کیا جا رہا تھا، پر دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔
مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہیے، لیکن معاملہ ابھی حل طلب ہے۔
روہنگیا کے مسلمان کشتیوں پر دربدر رہے، انہوں نے بھی چاند دیکھا ہو گا، پر عید منانے کے وسائل اور اسباب نہیں ہوں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شام، لیبیا، یمن اور صومالیہ میں بھی شوال کا چاند تو نکلا ہو گا، لیکن کیا مسلمانوں کے لیے عید ہوئی ہوگی؟
پاکستان کی آبادی کا بھی ایک بڑا طبقہ غربت کی لکیر کے نیچے ہے۔
چاند تو یہاں بھی نکلا، لیکن بہت سے لوگوں کی عید نہیں ہوئی۔ یہ وہ طبقہ ہے جن کی ساری زندگی دو وقت کی روٹی کمانے میں نکل جاتی ہے۔ کمرے کا کرایہ دیں، بجلی کا بل بھریں، راشن خریدیں، دوائی لیں یا مہنگا تیل—اس میں عید کیسے منائی جائے گی؟
اشرافیہ خود تو کفایت شعاری کرتی نہیں۔ کبھی آئی ایم ایف تو کبھی جنگ کا نام لے کر پیٹرول مہنگا کر دیتی ہے۔
سارا بوجھ عوام پر آ جاتا ہے۔ عوام کیا عید منائیں گے؟ دودھ، سویاں اور نئے کپڑے تو دسترس میں ہی نہیں۔
پردیس میں بھی چاند نکلا ہوگا، لیکن پاکستانی مزدور وطن کو یاد کرکے دکھی ہو گئے ہوں گے۔
کاش کہ ملک میں روزگار کے مواقع ہوتے تو یوں گھر سے دور نہ جانا پڑتا۔
اس بیوہ نے بھی عید کا چاند دیکھا، جس کے ہاتھ شوہر کی زندگی میں چوڑیوں اور مہندی سے مزین ہوتے تھے۔
اب ہاتھ خالی ہیں، آنکھوں میں اداسی ہے، زندگی ویران ہے اور ناانصافی کی وجہ سے چاند کی روشنی اور عید کی خوشیاں اس کی دہلیز تک نہیں پہنچیں۔
چاند تو ہر سُو نکلا، پر ہر کسی کی عید نہیں ہوئی۔
